Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Watan ki mohabbat
Watan ki mohabbat

رسول اللہ کی وطن سے محبت

Urdu · 2 min read

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجبورانہ طور پر مکّہ سے ہجرت کرکے مدینہ جانے لگے تو اُس وقت آپ نے مکّہ کی طرف دیکھ کرفرمایا: اے مکہ، تو مجھے دنیا بھر میں سب سے زیادہ عزیز ہے۔ مگر تیرے باشندے مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے(وَاللَّهِ إِنَّكِ، لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ ‌أَرْضِ ‌اللَّهِ ‌إِلَيَّ، وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ، مَا خَرَجْتُ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3108۔ بعد کو جب مکہ فتح ہوا تو آپ کے لیے پورا موقع تھا کہ آپ مکہ کو دوبارہ اپنی قیام گاہ بنالیں۔ مگر آپ مدینہ واپس چلے گئے اور آخر عمر تک وہیں رہے۔ حتیٰ کہ آپ کی وفات کے بعد مدینہ ہی میں آپ کی قبر بنائی گئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سے معلوم ہوا کہ مکہ کے بارے میں آپ کا مذکورہ جملہ شرعی نوعیت کا جملہ نہ تھا۔ اگر اس کی حیثیت شرعی ہوتی تو یقیناً آپ فتح کے بعد مکہ میں رہ جاتے۔ مگر مکہ پر قبضہ کے باوجود آپ کا مدینہ چلے جانا ثابت کرتا ہے کہ یہ جملہ شرعی نہ تھا، بلکہ وہ وطنی محبت کے جذبہ کے تحت نکلا ہوا ایک جملہ تھا۔(ڈائری، 12نومبر1996)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عام طور پر سمجھا جاتا ہےکہ آپ کا یہ ارشاد اس لیے تھا کہ مکّہ ایک مقدس شہر ہے ، مگر میں سمجھتا ہوں کہ آپ کا یہ ارشاد وطن کےجذبے کے تحت تھا۔یہ اسی جذبے کا اظہار تھا جو ہر انسان کے اندر اپنے وطن کو چھوڑتےوقت پیدا ہوتا ہے ۔بعد کے زمانے میں مسلمانوں میں نعت گوئی کا رواج ہوا۔اِن نعتوں میں ہمیشہ مدینہ کی عظمت بیان کی جاتی ہے۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ ان نعتوں میں مکہ کی عظمت بیان کی جاتی ہو۔اگر مکہ مطلق طور پر مقدس شہر ہو تو ان نعتوں میں مکّہ کی تعریف ہونی چاہیے تھی، نہ کہ مدینہ کی۔ (ڈائری، 14ستمبر 2006)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content