حضرت عمر فاروق نے ایک بار فرمایا کہ اللہ نے ملکوں کو حب الوطنی کے ذریعہ آباد کررکھا ہے (عَمَّرَ اللهُ البُلْدَانَ بِحُبِّ الأَوْطَانِ) التذكرة الحمدونيۃ لبہاء الدين البغدادی، اثر نمبر 407۔
اس قول میں ایک فطری حقیقت کو بتایا گیا ہے ۔ یہ انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ اس کو اپنے وطن سے محبت ہو۔ اسی محبت کے زور پر بستیاں اور شہر آباد ہوتے ہیں۔ اب اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ یہ فطرت خود خدا کی پیدا کی ہوئی ہے تو حب وطن بھی ایک ایمانی صفت نظر آئے گی ، کیوں کہ ایمانی فطرت انسانی ہی کا ایک مظہر ہے۔ ’’حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الإِيمَانِ‘‘(وطن سے محبت ایمان کا جزء ہے) اگرچہ حدیث رسول نہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس میں جو بات کہی گئی ہے، وہ بذات خود ایک درست بات ہے۔(ڈائری، 29فروری1996)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔