← Watan ki mohabbatWatan ki mohabbat
تمہید
Urdu · 5 min read
وطن سے محبت ایک گہرا انسانی جذبہ ہے — ایسا جذبہ جو عقیدے، ثقافت اور جغرافیے کی سرحدوں سے بالاتر ہے۔ یہ اس قدرتی رشتے کی عکاسی کرتا ہے جو انسان اور اس سرزمین کے درمیان قائم ہوتا ہے جہاں وہ پیدا ہوتا ہے، پرورش پاتا ہے، اور جس سے اس کی شخصیت تشکیل پاتی ہے۔ یہ تعلق صرف زمین سے نہیں بلکہ یادوں، زبان، روایات اور اجتماعی تجربے سے جُڑا ہوتا ہے۔ وطن سے محبت محض ایک جذباتی وابستگی نہیں، بلکہ شہری شعور اور اخلاقی بیداری کا مظہر بھی ہے۔
تاریخ میں انسان نے اپنی شناخت، طاقت اور تعلق کا سرچشمہ اپنی جائے پیدائش سے حاصل کیا ہے۔ وطن سے محبت کا مطلب ہے اس کی فلاح و بہبود کا خیال رکھنا، اس کے امن و ترقی کی خواہش رکھنا، اور اس کے مستقبل کی تعمیر میں سرگرم کردار ادا کرنا۔ اس محبت میں تنوع کا احترام، ماحول کا تحفظ، اور عدل و ہم آہنگی کے لیے جدوجہد شامل ہوتی ہے۔
یہ کتابچہ ایک اہم نکتہ سامنے لاتا ہے — کہ وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہی نہیں، بلکہ مختلف فلسفیانہ اور روحانی روایتوں میں اس کی تائید بھی ملتی ہے۔ مسلم علما ، فقہا اور صوفیا نے بھی جائز فطری جذبہ کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ مثال کے طور پر معروف فقیہ ملا علی القاری (وفات 1606ء) نے لکھاہے : إِنَّ حُُبُّ الْوَطَنِ لَا يُنَافِيَ الْإِيْمَانَ)الأسرار المرفوعة ، صفحہ 181)۔ یعنی، وطن سے محبت ایمان کے خلاف نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
صحیح البخاری کے شارح ابن بطال (وفات 449ھ) لکھتے ہیں: "اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں وطن سے محبت اور اس کی چاہت رکھ دی ہے — اور نبی ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا۔ یہی سب سے اعلیٰ نمونہ ہے۔" (شرح صحیح البخاری،جلد 4، صفحہ453)
other sourceWords of another person or source
یہ بات درست ہے کہ قرآن و حدیث سے براہ رست طور پر ایسا کوئی حکم نہیں ملتا ہے کہ وطن سے محبت کرنی چاہیے، لیکن بالواسطہ انداز کے متعدد حکم ثابت ہیں، جو وطن سے محبت کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ امام ذہبی نے اپنی کتاب میں ان چیزوں کی فہرست دی ہے، جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محبت کرتے تھے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ اپنے وطن سے محبت کرتے تھے: ويحب وطنه (سیر أعلام النبلاء،جلد 15، صفحہ394)۔
حدیث کی کتابوں میں ایک دُعا ان الفاظ میں آئی ہے:اَللّٰہُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِیْنَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃ أَوْ أَشَدَّ (صحیح بخاری، حدیث نمبر 1889؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1376)۔ یعنی، اے اللہ! ہمیں مدینہ سے اسی طرح محبت دے جیسے تُو نے ہمیں مکہ سے محبت دی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس دعا ئیہ حدیث میں گویا اس بات کا اشارہ ہے کہ ہر انسان کو اپنی جائے پیدائش اور جائے عمل سے محبت کی دعا کرنی چاہیے۔
hadithQuotes a hadith
اسی طرح حدیث کی کتابوں میں آتا ہے کہ جب آپ ﷺ سفر سے واپس آتے، اورمدینہ کی دیواروں کو دیکھتے تو مدینہ کی محبت کے تحت (مِنْ حُبِّهَا)اپنی سواری تیز فرما دیتے (صحیح بخاری، حدیث نمبر 1886)۔
hadithQuotes a hadith
صرف وطن سے نہیں، بلکہ وطن سے تعلق رکھنے والی چیزوں سے بھی محبت ہونی چاہیے۔ جیسا کہ احد کا پہاڑ مدینہ کے لیے قدرتی ڈھال کا کام کرتا تھا، آپ ﷺ نےاُحد پہاڑ کے لیے فرمایا: هٰذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 2889)۔ یعنی، یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایسی روایات وطن سے جُڑے گہرے جذبات اور اخلاقی اقدار کو نمایاں کرتی ہیں۔ شارحینِ حدیث نے بھی ان کی اہمیت پر زور دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ احادیث وطن سے محبت اور تعلق کو جائز قرار دینے کی دلیل ہیں(عمدۃ القاری للعینی، جلد 10، صفحہ 135؛ فتح الباری لابن حجر، جلد 3، صفحہ 621)۔ برصغیر کے معروف محدث اورفقیہ مولانا زکریا کاندھلوی (1898-1982)نے اس کو مزید واضح کیا ہے کہ "اسی طرح کا حکم مدینہ کے سوا ان تمام شہروں، علاقوں اور وطنوں کے بارے میں بھی ہے جن کی طرف میلان ہو اور جن سے فطری محبت پائی جائے"( كَذَٰلِكَ الْحُكْمُ فِي غَيْرِ الْمَدِينَةِ مِنَ الدِّيَارِ الْمَرْغُوبَةِ فِيهَا، وَالْأَوْطَانِ الْمَحَبَّبَةِ فِيهَا)اللامع الدراری، جلد 5، صفحہ279۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلامی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ یہ سلسلہ پیغمبر اسلام ﷺکے بعد ختم ہوگیا ، بلکہ بعد میں آنے والے علماء، صوفیہ، اور شعرا کی تحریروں میں بھی اسی جذبے کی بازگشت ملتی ہے۔ مثلاًاسلامی تاریخ کے مشہور زاہداور صوفی بزرگ ابراہیم بن ادہم (وفات 160 ہجری )سے منقول ہے:مَا قَاسَيْتُ فِيمَا تَرَكْتُ شَيْئًا أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ مُفَارَقَةِ الْأَوْطَانِ(حلیۃ الاولیاء، جلد7، صفحہ380)۔ یعنی، میں نے جن چیزوں کو چھوڑا، اُن میں سے کسی چیز کی تکلیف مجھ پر اتنی شدید نہ تھی جتنی وطن کی جدائی ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
علامہ راغب اصفہانی پانچویں صدی ہجری (11ویں صدی عیسوی) کے مشہور مسلم عالم، ادیب اور لغت نویس تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب محاضرات الأدباء (جلد دوم، صفحہ 652) میں وطن کی محبت کے موضوع پر دو مستقل عنوانات قائم کیے ہیں۔ اس کتاب میں وطن سے محبت کے تعلق سے ایک بامعنی قول یہ ہے :حُبُّ الْوَطَنِ مِنْ طِیْبِ الْمَوْلِدِ(وطن کی محبت نیک فطرت انسان کی صفت ہوتی ہے)۔ اسی طرح ایک اور قول یہ ہے: لَوْلَا حُبُّ الْوَطَنِ لَخَرَبَتْ بِلَادُ السُّوءِ (اگر وطن سے محبت کا جذبہ نہ ہوتا تو مشکل حالات والے خطے ویران ہوجاتے)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلامی لٹریچر میں موجود یہ اور اسی نوع کے متعدد دلائل اس حقیقت کی نہایت واضح طور پر نشاندہی کرتے ہیں کہ وطن سے محبت نہ صرف فطری جذبہ ہے بلکہ یہ ایمان کے منافی بھی نہیں، بلکہ اخلاقی اقدار کے عین مطابق ہے۔یہ اقوال اس امر کو اجاگر کرتے ہیں کہ وطن سے محبت تنگ نظری یا تعصب نہیں، بلکہ انسانی اخلاق اور فطرت کا ایک لازمی جزء ہے۔ یہ خلافِ اخلاق بات ہوگی کہ وہ جگہ جو آپ کو سب کچھ فراہم کرے، آپ کو اس سے کوئی انس یا تعلق نہ ہو۔ سچی حب الوطنی ایک جوڑنے والی قوت ہوتی ہے، جدا کرنے والی نہیں۔ یہ دین کے خلاف نہیں، بلکہ اس کی تقویت کا ذریعہ ہے۔زیر نظر کتابچہ، مولانا وحیدالدین خان کی تحریروں پر مشتمل ہے۔ ان صفحات میں قاری کو وطن سے محبت کا ایک نیا زاویہ دیکھنے کو ملے گا — یعنی یہ کہ اخلاص، اخلاق، مثبت طرزِ فکر اور تعمیری سرگرمیوں کے ساتھ وطن سے محبت، ایک بہتر دنیا کی تشکیل کامؤثر ذریعہ ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتابچہ کو اپنے مقصد میں کامیابی عطا فرمائے، اور مصنف کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ امین۔
ڈاکٹر فریدہ خانم، نئی دہلی
جولائی 2025