Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Ulema aur Daur e Jadid
Ulema aur Daur e Jadid

حجت اللہ البالغہ شاہ

Urdu · 12 min

ولی اللہ دہلوی کی کتاب "حجت اللہ البالغہ" بہت مشہور کتاب ہے۔ اس کو اسلام کی مدلل ترجمانی سمجھا جاتا ہے۔ مصنف نے کتاب کے آغاز میں لکھا ہے کہ یہ کتاب میں نے "علم اسرار الدین" پر لکھی ہے۔ قدیم خیال یہ تھا کہ شریعت کے احکام مصالح پر مبنی نہیں ہوتے۔

یہ گویا آقا کی طرف سے اپنے بندے کے لیے حکم ہے، اور اس کی اطاعت یا اسیان پر جزا و سزا کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ مصنف نے قرآن و حدیث کی بہت سی مثالیں دے کر بتایا ہے کہ یہ خیال صحیح نہیں۔ کیونکہ خود شارع نے اپنے متعدد احکام میں یہ اشارہ کیا ہے کہ وہ مصالح پر مبنی ہیں۔ مثلاً: "ولکم فی القصاص حیات یا اولی الالباب" البقرہ 179۔

یا صدقے کے بارے میں یہ حدیث کہ "تؤخذ من اغنیائہم فترضوا علی فقراءہم" صحیح البخاری حدیث نمبر 1508۔ اسی طرح انہوں نے صحابہ و تابعین کے کچھ اقوال جمع کیے، جن میں مصالح احکام کا تذکرہ ہے۔ بعد کے زمانے میں علماء کے یہاں بھی جزئی طور پر اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاً الغزالی، الخطابی، ابن عبدالسلام وغیرہ۔

صفحہ 3 تا 6۔ تاہم "حجت اللہ البالغہ" کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ ہے، کیونکہ یہ کتاب مکمل طور پر اسرار شریعت ہی کے موضوع پر ہے۔ مصنف کے بیان کے مطابق ان کو "بتاریخ کشف" اس کا اشارہ ملا، پھر اللہ نے ان پر الہام کیا، ثم الہمنی ربی، کہ وہ اس قسم کی ایک کتاب لکھیں۔ حتیٰ کہ خواب میں حضرت حسنین نے ان کو ایک قلم دیا اور کہا کہ هذا قلم جدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم اس قسم کی چیزیں بتاتے ہوئے شاہ صاحب لکھتے ہیں: إن الشريعة المصطفوية أشرفت في هذا الزمان على أن تبرز في قمص سابقة من البرهان صفحہ 3۔

یعنی شریعت محمدی کے لیے اس زمانے میں وہ وقت آ گیا کہ وہ دلیل و برہان کے مکمل پیراہن کے ساتھ جلوہ افروز ہو۔ علماء، خاص طور پر ہندوستانی علماء، اس کتاب کو ایک معرکۃ الاعراب کتاب سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس میں موجودہ دورِ اقلیت کے لیے تشفی کا وافر سامان موجود ہے۔ حتیٰ کہ ان کا خیال ہے کہ کسی مذہب کی عقلی تائید اور اس کی حکیمانہ توجیح کے موضوع پر آج تک اس پائے کی کتاب نہیں لکھی گئی۔

216۔ نواب صدیق حسن خان 1822 تا 1890 نے لکھا ہے کہ اسرار احکام کے موضوع پر بارہ سو سال کے درمیان عرب و عجم کے کسی عالم کی ایسی کوئی کتاب موجود نہ تھی۔ مثل عام دریں دو ازدہ ست سال ہجری، ہیچ اکے از علماء عرب و عجم تصنیف موجود نیامدا۔ میرے پاس حجت اللہ البالغہ کا وہ نسخہ ہے جو قاہرہ دارالتراث سے 1355 ہجری میں چھپا ہے۔

اس کا جلد اول 198 صفحے پر مشتمل ہے، اور جلد ثانی 215 صفحے پر۔ زیرِ نظر مقالے کی ترتیب کے دوران میں نے اس کتاب کو تقریباً مکمل دیکھا۔ بعض حصے کئی کئی بار پڑھے، مگر میں بلا مبالغہ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ساری کتاب میں کوئی ایک بھی ایسا بیان نہیں ملا جس کو جدید سائنٹیفک معیار کے مطابق عقلی دلیل کا درجہ دیا جا سکتا ہو۔ کتاب کا نام "حجت اللہ البالغہ" جو قرآن کی ایک آیت سے ماخوذ ہے، وہ بلاشبہ نہایت اعلیٰ ہے۔

مگر اصل کتاب حجت بالغہ کے انداز میں نہیں، بلکہ صرف تخلیدی انداز میں شریعت اسلامی کی تشریح کرتی ہے۔ اس کتاب کی ترتیب بنیادی طور پر کتب فقہ کی ترتیب پر قائم کی گئی ہے۔ یہ ترتیب بذاتِ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ شاہ ولی اللہ قدیم تخلیدی ڈھانچے سے باہر نہ نکل سکے۔ کیونکہ ابواب فقہ دراصل ابواب احکام ہیں، نہ کہ ابواب اسرار۔

کتاب کے مباحث عام طور پر "علم" کے لفظ سے شروع ہوتے ہیں۔ یہ بھی تخلیدی مزاج کا ثبوت ہے۔ یہ اس دور کا اندازِ کلام ہے جبکہ آدمی مقامِ عالم سے بولتا تھا۔ جدید اندازِ کلام مقامِ علم سے بولنے کا ہے۔

مگر شاہ ولی اللہ اس فرق کو سمجھ نہ سکے۔ اسی طرح کتاب میں جگہ جگہ "نبیینہ" لکھا گیا ہے۔ یہ بھی ایک غیر علمی اسلوب ہے جو صرف اعتقادی کتابوں کے لیے موضوع ہے۔ یہ بھی ایک غیر علمی اسلوب ہے جو صرف اعتقادی کتابوں کے لیے موضوع ہیں۔

علمی اعتبار سے اصل موضوعِ بحث یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ہمارے نبی تھے۔ اصل موضوعِ بحث یہ ہے کہ کیا وہ خدا کے نبی تھے۔ اس کتاب میں سترے سے لے کر سیاستِ مدن تک ہر چیز پر کلام کیا گیا ہے، مگر سب کا سب تخلیدی اور اعتقادی اسلوب میں ہے، نہ کہ حقیقتاً علمی اسلوب میں۔ مثال کے طور پر نیت اور عبادت کی تشریح میں یہ الفاظ لکھے گئے ہیں: اعلم ان النیت روح والعبادت جسد ولا حياة للجسد بدون الروح جلد 1 صفحہ 83۔

یعنی جان لو کہ نیت روح ہے اور عبادت جسم ہے۔ اور روح کے بغیر جسم کی کوئی زندگی نہیں۔ اسرار الصلاۃ کے تحت لکھتے ہیں: احسن الصلاة ما كان جامعا بين الأوضاع الثلاثة مترقيا من الأدنى إلى الأعلى ليحصل الترقی فی استشعار الخضوع والتذلل جلد 1 صفحہ 73۔ یعنی بہترین نماز وہ ہے جس میں تینوں وضع جمع ہو جائیں۔

جس میں ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی ہو۔ یعنی قیام، پھر رکوع، پھر سجدہ۔ تاکہ خضوع اور تذلل کو محسوس کرنے کی طرف ترقی حاصل ہو سکے۔ اسرار الحج کے تحت لکھتے ہیں: ربما یشتاق الانسان الی ربہ اشد شوق فیحتاج الی شئی یقضی بہ شوقہ فلا یجدہ الا الحج جلد 1 صفحہ 75 تا 76۔

یعنی کبھی انسان کے اندر اپنے رب کے لیے شدید شوق پیدا ہوتا ہے۔ پس وہ ایک ایسی چیز کا محتاج ہوتا ہے جس سے وہ اپنے شوق کو پورا کرے۔ اس وقت وہ حج کے سوا کوئی اور چیز نہیں پاتا جس سے وہ اپنے شوق کو پورا کرے۔ اسی قسم کی تشریحات پوری کتاب میں پھیلی ہوئی ہیں۔

مگر اس قسم کی باتیں شریعت کی واعظانہ تفہیم ہیں۔ وہ کسی بھی درجے میں شریعت کی علمی اور عقلی وضاحت نہیں۔ جو لوگ اس کو عقلی وضاحت سمجھیں، ان کے بارے میں صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ عقلی وضاحت کا مطلب نہیں جانتے۔ حجت اللہ البالغہ کو پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کہ اس کتاب کے بارے میں میری رائے اور دوسرے علماء کی رائے اتنی زیادہ مختلف کیوں ہے۔

آخر کار میری سمجھ میں آیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے علماء اس کتاب کو قدیم کے معیار پر دیکھتے ہیں، اور میں اس کو جدید کے معیار پر دیکھ رہا ہوں۔ علماء کے پاس ایک ہی معلوم معیار ہے، اور وہ اسلامی کتب خانے کی قدیم کتابوں کا ہے۔ اس معیار پر دیکھنے میں حجت اللہ البالغہ انہیں ایک منفرد کتاب معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اعلان کر دیتے ہیں کہ وہ ایک معرکۃ الاعراب قسم کی عقلی کتاب ہے۔

مگر میں اس کو جدید معیارِ تحقیق پر جانچتا ہوں تو مجھ کو نظر آتا ہے کہ وہ سرے سے کوئی عقلی کتاب ہی نہیں۔ اس کتاب کے مداح اگر یہ کہیں کہ قدیم ذخیرہ کتب کے مقابلے میں وہ ایک ممتاز کتاب ہے، تو مجھے ان سے کوئی اختلاف نہ ہوگا۔ لیکن اگر وہ اس کتاب کو عقلی معیارِ استدلال کا اعلیٰ نمونہ بتائیں تو میری تنقید باقی رہے گی۔ کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کتاب کا عقلی معیارِ استدلال سے کوئی تعلق نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.