← Ulema aur Daur e JadidUlema aur Daur e Jadid
دائرۂ عمل کی تقسیم
Urdu · 7 min
اب مذکورہ آیت کو لیجیے: تفسیروں کے مطالعے سے اس آیت کا جو پس منظر معلوم ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ غزوۂ تبوک 9 ہجری میں مدینے کے کچھ مسلمان نہیں جا سکتے تھے۔ ان متخلفین کے بارے میں قرآن میں سخت آیتیں اتریں۔ اس کے بعد لوگوں کا حال یہ ہوا کہ بعض سرایا پیش آئے تو اس میں مدینے کے تمام اہلِ ایمان چلے گئے، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علمِ دین سیکھنے کے لیے کوئی آدمی شہر میں باقی نہ رہا۔
اس وقت لوگوں کو عمومی خروج سے روکنے کے لیے یہ آیت اتری۔ اس آیت میں امت کو مستقل نوعیت کا ایک رہنما اصول دے دیا گیا، وہ یہ کہ جہاد بالسیف اور علم کے میدان کو عملی طور پر ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ امت کے ایک طبقے کی ذمہ داری یہ قرار پائی کہ وہ سیاسی جہاد کے شعبوں میں مشغول ہو۔ امت کے دوسرے طبقے کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ علم کے شعبوں کو سنبھالے اور اپنے آپ کو پوری طرح اس میں وقف کرے، کیونکہ وقف کیے بغیر کما حقہ اس کے تقاضے پورے نہیں کیے جا سکتے۔
مفسرین نے مزید وضاحت کی ہے کہ علم کے شعبوں میں محنت کے لیے ٹھہرنا کوئی تخلف کی بات نہیں ہے؛ یہ علم کی طاقت سے جہاد کرنا ہے جو معروف ہتھیاروں کے ذریعے جہاد کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ فَأُمِرُوا أَنْ يَنْفِرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ إِلَى الْجِهَادِ وَيَبْقَى سَائِرُهُمْ يَتَفَقَّهُونَ حَتَّىٰ لَا يَنْقَطِعُوا عَنِ التَّفَقُّهِ الَّذِي هُوَ الْجِهَادُ الْأَكْبَرُ، إِذِ الْجِهَادُ بِالْحَجَاجِ أَعْظَمُ أَثَرًا مِنَ الْجِهَادِ بِالنِّظَامِ۔ تفسیر النسفی، مدارک التنزیل، جلد 1، صفحہ 717۔ پس لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ہر گروہ میں سے ایک جماعت جہاد کے لیے نکلے، اور بقیہ لوگ مدینے میں رہ کر دین سیکھیں تاکہ وہ علمِ دین سے کٹ نہ جائیں، جو کہ زیادہ بڑا جہاد ہے۔
کیونکہ دلائل کے ذریعے جہاد کی تاثیر ہتھیاروں کے ذریعے جہاد سے بہت زیادہ ہے۔ اس اصول کا مطلب مذہب اور سیاست کی تفریق نہیں ہے، بلکہ خود اہلِ مذہب کے دو طبقوں کے دائرۂ عمل کی تقسیم ہے۔ یہ تقسیم شریعت کے مزاج کے عین مطابق ہے؛ اسلام میں عورت اور مرد دونوں کا دین ایک ہے، دونوں یکساں طور پر دین کے مخاطب ہیں، مگر عملی اختیار سے دونوں کے دائرۂ کار کو ایک دوسرے سے الگ رکھا گیا ہے۔ عورت کے ذمے نسلِ انسانی کی تربیت ہے، اور مرد کے ذمے عملِ انسانی کا انتظام۔
اسی طرح خود مردوں میں بھی مختلف تقسیمات ہیں۔ اس میں سے ایک تقسیم یہ ہے کہ اسلام میں اہلِ علم اور اہلِ سیاست کے دائرۂ کار کو بنیادی طور پر الگ کر دیا گیا ہے۔ اہلِ علم کا کام یہ ہے کہ وہ شعورِ انسانی کے نگراں بنیں؛ وہ ہر دور میں شعورِ انسانی کی تشکیل کے لیے معلم کا کردار ادا کریں، تاکہ اقلیتِ بشری یا شاکلِ انسانی فطرت کی راہ سے بھٹکنے نہ پائے۔ جہاں تک عملی سیاست کا تعلق ہے، اس کے لیے مخصوص صلاحیتیں درکار ہیں۔
ہر آدمی عملی سیاست کی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کر سکتا۔ انسانی صلاحیتوں کا یہی فرق ہے جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے اصرار امت کو یہ اشارہ دیا کہ آپ کے بعد وہ ابوبکر صدیق کو امیر مقرر کرے۔ دوسری طرف آپ نے ابوذر غفاری، ابوہریرہ، اور حسان ابن ثابت کو یہ مشورہ دیا کہ تم کبھی کوئی حکومتی عہدہ قبول نہ کرنا۔ پیدائشی صلاحیتوں کے اس فرق کی بنا پر کچھ لوگ حکومتی شعبوں کے لیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔
اسلام کا منشا یہ ہے کہ سیاست کے میدان کو سیاسی صلاحیت رکھنے والوں کے حوالے کر کے، بقیہ لوگوں کو اپنی اپنی صلاحیت کے اعتبار سے ملت کے مختلف شعبوں میں مصروف کر دیا جائے۔ اس کے مطابق اہلِ سیاست کا کام اگر تنظیمِ انسانی ہے تو اہلِ علم کا کام تعلیمِ انسانی۔ اہلِ علم اور اہلِ سیاست کے درمیان تقسیمِ کار کے معاملے کو حدیث میں اور زیادہ واضح کر دیا گیا ہے۔ حدیث کی کتابوں میں خاص طور سے کتاب الفتن کے تحت کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جن میں حکومتی بگاڑ کے ذیل میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اگر تم لوگ دیکھو کہ حکمران بگڑ گئے ہیں، تب بھی تم حکمرانوں سے ٹکراؤ نہ کرنا۔
تم اپنی تلواروں کو توڑ دینا، مگر ایسا نہ کرنا کہ حکمرانوں کو ظالم قرار دے کر ان سے لڑنے لگو۔ یہ دراصل مذکورہ تقسیمِ عمل کو آخری اور انتہائی صورت میں بھی باقی رکھنے کی تاکید ہے۔ یعنی علمائے امت کو نہ صرف عام حالات میں معلمِ انسانی کا کردار ادا کرنا ہے، بلکہ اس وقت بھی انہیں اسی تعمیری کام میں لگے رہنا ہے جبکہ وہ دیکھیں کہ حکمرانوں کے اندر بگاڑ آ گیا ہے۔ حکومتی نظام خواہ بظاہر کتنا ہی بگڑا ہوا نظر آئے، مگر علماء کو کسی بھی حال میں اپنے مفوضہ کام سے نہیں ہٹنا ہے۔