Maulana Wahiduddin Khan
74 min left
0:00

← Ulama Aur Deeni Madaris
Ulama Aur Deeni Madaris

جامعہ دار السلام کا سفر

Urdu · 74 min read

جنوبی ہند میں ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے، جو جامعہ دار السلام، عمر آباد (تمل ناڈو) کے نام سے مشہور ہے۔ وہ ابتدائی طور پر 1924 میں قائم ہوا اور اب وہ ایک بڑا تعلیمی مرکز بن چکا ہے۔ وہ انڈیا کے چند بڑے اسلامی مدارس میں سے ایک ہے۔ اِس ادارے کی دعوت پر جنوبی ہند کا سفر ہوا۔ 7 جون 2010 کی صبح کو دہلی سے روانگی ہوئی، اور 11 جون 2010 کی شام کو دوبارہ دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ اِس سفر میں مولانا محمد ذکوان ندوی میرے ساتھ تھے۔

اِس سفر کے لیے ہمارا رزرویشن جیٹ ائرویز سے تھا۔ دہلی کا ائر پورٹ دوبارہ تعمیر کیاگیا ہے۔ دہلی سے مدراس (چنئی)کی دوری ایک ہزار سات سو کلومیٹر (1,700 km) ہے۔ یہ سفر تقریباً ڈھائی گھنٹے میں طے ہوا۔ ائر پورٹ کے عملہ میں مدراس کے ایک صاحب انجینئر محمد آزاد جہاز سے اترتے ہی مل گئے۔ انہوں نے بسہولت ائرپورٹ کی تمام کارروائی مکمل کر دی۔ ہم لوگ ائر پورٹ سے باہر نکلے تو وہاں جامعہ دار السلام کی طرف سے مولانا فیاض الدین عمری اور مولانا سید اقبال احمد عمری اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے۔ مدراس سے جامعہ دار السلام 180 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ سفر بذریعہ کار طے ہوا۔ روڈ بہت اچھی تھی۔ یہ وہی روڈ ہے جس کو نیشنل ہائی وے (نمبر46)کہاجاتا ہے۔ اس ہائی وے کو ایک مسلم بلڈر نے بنایا ہے۔

ہماری کار کے ڈرائیور مسٹر مورتی (44 سال) تھے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ 30 سال سے ڈرائیونگ کا کام کر رہے ہیں، مگر اُن کے ساتھ کبھی روڈ ایکسیڈنٹ کا معاملہ پیش نہیں آیا۔ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ ڈرائیونگ کے لیے ان کاسادہ فارمولا یہ ہے— پہلے سیفٹی پھر اسپیڈ۔ یہ فارمولا صرف کامیاب ڈرائیونگ کے لیے نہیں ہے، بلکہ اِس فارمولے کی یکساں اہمیت کامیاب قیادت کے لیے بھی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم قائدین نے مسلم ملت کو ہر جگہ صرف تباہی سے دوچار کیا ہے۔ اِس کا سبب یہی ہے کہ وہ مذکورہ ڈرائیور کی طرح قیادت کا کامیاب فارمولا دریافت نہ کرسکے۔

راستے میں ہم لوگ عصر کی نماز پڑھنے کے لیے میل وشارم (Melvisharam) میں کچھ دیر کے لیے ٹھہرے۔ میل وشارم، ضلع ویلور (Vellore) کا ایک خوب صورت ٹاؤن ہے۔ یہ مدراس سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں مسلم تاجروں نے کئی اچھے کالج اور ہاسپٹل قائم کیے ہیں۔ انھیں اداروں میں سے ایک عربی مدرسہ مفتاح العلوم ہے۔وہ 1976 میں قائم کیاگیا۔ یہاں حفظ کے علاوہ، عالمیت تک درسِ نظامی کی تعلیم ہوتی ہے۔ طلبا کی تعداد تقریباً 500 ہے۔ مفتی ریاض احمد قاسمی اس کے مہتمم ہیں۔ یہاں کے وسیع مہمان خانے میں اساتذہ کی ایک نشست ہوئی۔ اِس موقع پر میں نے جو گفتگو کی، اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔

ہندستان میں پچھلی صدیوں میں افغانستان اور ایران وغیرہ کے راستے سے مسلم سلاطین آئے۔ اِن سلاطین نے صرف اپنی سلطنتیں قائم کیں اور سیاسی فتوحات کی تاریخ بنائی۔ انہوں نے یہاں حقیقی معنوںمیں کوئی دینی کام انجام نہیں دیا۔ اب ان کی یادگار صرف قلعے اور مقبرے ہیں، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہندستان میں حقیقی معنوں میں مثبت دینی کام اُن لوگوں نے انجام دیا جن کو علما اور صوفیا کہا جاتا ہے۔ علما نے مدرسے قائم کرکے دینی علم کو زندہ رکھا۔ صوفیا نے خانقاہوں کے ذریعے دعوت اور روحانیت اور اخلاقیات کا عمل انجام دیا۔

مدرسہ اور خانقاہ کا طریقہ دوسرے الفاظ میں، غیر سیاسی دائرے میں جدوجہد کا طریقہ ہے۔ تبلیغی جماعت ایک اعتبار سے اِسی طریقِ عمل کا ایک تسلسل ہے۔ انڈیا کی اِس انفرادی صفت کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ موجودہ زمانے میں یہاں ملٹنسی (militancy) نہیں پھیلی، جیسا کہ اکثر مسلم ملکوں میں ہوا ہے۔ مثلاً پاکستان، افغانستان، ایران ، وغیرہ۔ میل وشارم میں عصر کی نماز پڑھنے کے بعد ہم لوگ آگے کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں ہمارے ساتھیوں نے اساتذہ اور طلبا کو دعوتی لٹریچر دیا۔

یہ پورا سفر فطرت کے ماحول میں ہوا۔ کشادہ سڑک کے دونوں طرف سرسبز درختوں کے مناظر تھے۔ یہ عام طورپر ناریل کے درخت تھے۔ درختوں کے پیچھے پہاڑی سلسلے نظر آرہے تھے۔ ہلکی بارش نے موسم کو نہایت خوشگوار بنا دیا تھا۔ سڑک کے کنارے کہیں کہیں خوب صورت گاؤں نظر آتے تھے۔

سفر کے دوران ہمارے ساتھی برابر موبائل کے ذریعے باہر کی دنیا سے ربط قائم کیے ہوئے تھے۔ایک طرف دہلی کے لوگوں سے، اور دوسری طرف عمر آباد کے لوگوں سے۔ دہلی سے عمر آباد تک ہمارے ساتھیوں کو پتہ تھا کہ اِس وقت ہم کہاں ہیں۔ یہ سفر کا ایک نیا تصور ہے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ شکایتوں میں جیتے ہیں، وہ بظاہر انسان کے شاکی ہوتے ہیں، لیکن حقیقتاً وہ خداوند ذوالجلال کی ناشکری کا ارتکاب کررہے ہیں۔ اگر وہ سوچیں تو اِس طرح کا سفر قدیم زمانے میں کسی بادشاہ کے لیے بھی ممکن نہیں تھا۔ ہم لوگ دہلی میں کار سے روانہ ہوئے۔ اس کے بعد ہم ہوائی جہاز کے ذریعے مدراس پہنچے۔ اس کے بعد ہم دوبارہ کار کے ذریعے جامعہ دار السلام جارہے ہیں۔ یہ سفر اِس طرح طے ہورہا ہے کہ ہم لوگ ایک طرف اپنے دہلی کے ساتھیوں سے اور دوسری طرف جامعہ دار السلام کے لوگوں سے پوری طرح مربوط ہیں۔ قدیم زمانے میں اِس قسم کا سفر کسی بادشاہ کے لیے بھی ممکن نہ تھا۔ایسی حالت میں ہم کو سُپر شکر میں جینا چاہیے، نہ کہ ناشکری میں۔

مدراس سے 180 کلومیٹر کا سفر طے کرکے ہم لوگ 7جون 2010 کی شام کو مغرب کے بعد جامعہ دارالسلام پہنچے۔ یہاں ہمارا قیام جامعہ کی لائبریری (مکتبہ عمر) کی جدید عمارت میں تھا۔ یہ ایک وسیع دو منزلہ عمارت ہے۔ اس میں کتب خانہ، ریڈنگ روم، لیکچر ہال اور کچھ کمرے بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا قیام اِسی مکتبہ کے ایک کمرے میں تھا۔

عمر آباد میں کاکا فیملی کا ایک کافی بڑا فارم ہاؤس ہے۔ معلوم ہوا کہ جامعہ کے ذمے داران میرے قیام کا انتظام اِسی فارم ہاؤس میں کررہے تھے۔ لیکن مولانا کا کا انیس احمد عمری نے اِس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اِس طرح میں طلبا اور اساتذہ سے دور ہوجاؤں گا اور زیادہ ملاقاتیں اور انٹریکشن نہ ہوسکے گا۔ چنانچہ مولانا کاکا انیس احمد عمری کی مداخلت سے، میرے لیے لائبریری کی مذکورہ عمارت میں قیام کا انتظام کیاگیا۔ یہ میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔ اِس طرح میرے لیے ممکن ہوگیا کہ جامعہ میں قیام کے دوران وہاں کے مواقع کو میں پوری طرح استعمال کرسکوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہم لوگ مغرب کی نماز سے فارغ ہوئے تھے کہ جامعہ کے ذمے داران اور اساتذہ ملاقات کے لیے آگئے— مولانا کاکا سعید احمد عمری (معتمد عمومی جامعہ)، مولاناکاکا انیس احمد عمری، مولاناڈاکٹر عبد اللہ جولم عمری مدنی، مولانا ابو البیان حماد عمری ، وغیرہ۔اِن حضرات سے کافی دیر تک مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ ان کے ذریعے جامعہ دارالسلام کے بارے میں کئی معلومات حاصل ہوئیں۔

میں نے کہا کہ جامعہ دارالسلام کے بانی جناب کاکا عمر (وفات1928) واقعی معنوں میں ایک صاحبِ بصیرت انسان (man of vision) تھے۔ وہ اگرچہ ایک تاجر تھے، لیکن انہوں نے جدید دور کے لیے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اس کے مطابق، جامعہ دار السلام کی بنیاد رکھی، جو اب اپنی وسعت اور اہمیت کے اعتبار سے ایک دینی یونی ورسٹی کا درجہ حاصل کرچکا ہے۔

گفتگو کے دوران مولاناکاکا سعید احمد عمری نے جو باتیں بتائیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ اِس علاقے میں کوئی ہندو مسلم مسئلہ نہیں۔ یہا ں دونوں فرقوں کے لوگ باہم بھائی کی طرح رہتے ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات جیسی کوئی چیز یہاں کبھی پیش نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے بارے میں اردو اخبارات کے متعصبانہ بیان کو میں درست نہیں سمجھتا۔ کیوںکہ آزادی کے بعد ہمارے علاقے میں 18بڑے مسلم کالج قائم کیے گئے ہیں جن کو حکومت کا گرانٹ حاصل ہے۔ یہ تمام مسلم کالج نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔

other sourceWords of another person or source

گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ ملت کی تعمیر کاکام موثر طورپر صرف اُس وقت ہوسکتاہے جب کہ اُس کو سیاست سے الگ رکھ کر کیا جائے۔ مولاناکاکا سعید احمد عمری نے اِس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مولانا مناظر احسن گیلانی (وفات 1956) نے یہ تصور پیش کیا تھا کہ کالجوں میں تعلیم پانے والے مسلم طلبا کے لیے شہروں میں مسلم ہاسٹل بنائے جائیں۔ یہاں ان کی رہائش کا انتظام ہو اور اِسی کے ساتھ ان کی دینی تربیت کی جائے۔ شمالی ہند میں سیاسی ذہن کی بنا پر اِس قسم کا کوئی ہاسٹل نہ بن سکا، مگر جنوبی ہند کے مسلمانوں میں چوں کہ سیاسی ذہن نہیں تھابلکہ تعمیری ذہن تھا، اِس لیے انہوں نے جنوبی ہند میں اِس طرح کے مسلم ہاسٹل بنائے۔ مثلاً حیدرآباد میں اور بنگلور میں۔ بنگلور کا ہاسٹل زیادہ بڑا ہے اور اس کا نام یہ ہے— بنگلور مسلم سنٹرل ہاسٹل۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اِس مجلس میں جو باتیں ہوئیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ مسلم دنیا میں عام طورپر یہ مشہور ہے کہ امریکا اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ عرب لوگ کہتے ہیں کہ  أمریکا عدوّ الإسلام رقم واحد۔ میں نے کہا کہ میں 13 بار امریکا گیا ہوں، اور اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات بالکل بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا نہ پرومسلم (pro-Muslim) ہے، اور نہ اینٹی مسلم (anti-Muslim)۔ وہ صرف پرو امریکا (pro-America) ہے۔ امریکا میں بلا امتیاز ہر ایک کو پوری آزادی حاصل ہے۔ چنانچہ مسلمان اِس آزادی کو استعمال کرتے ہوئے وہاں بڑے بڑے اسلامی کام کررہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں 57 مسلم ملک ہیں۔ مگر یہ کہنا غالباً درست ہوگا کہ اِس وقت اسلام کی خدمت کے جتنے مواقع امریکا میں ہیں، وہ غالباً کسی مسلم ملک میں بھی نہیں۔ کاکا سعید احمد عمری نے اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر کہا کہ میں آپ کی اِس بات سے پوری طرح اتفاق رکھتا ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مجلس میں گفتگو کے دوران ایک صاحب نے کہا امریکا کی ترقی کا راز یہ ہے کہ دنیا کے اعلیٰ ذہن رکھنے والے افراد کو امریکا خرید لیتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ خرید و فروخت کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ مواقع (opportunities) کی فراہمی کی بات ہے۔ امریکا نے یہ کیا کہ اُس نے وہاں ہر قسم کے اعلیٰ مواقع فراہم کر دیے— اظہار خیال کی مکمل آزادی، مطالعے کے لیے بہترین لائبریریاں، لیاقت کا بلاامتیاز اعتراف، ترقی کے مواقع کو ہر ایک کے لیے یکساں طورپر کھولنا، وغیرہ۔ اِس بنا پر تمام دنیا کے ذہین لوگ وہاں پہنچ گئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

7جون2010کو عشاء کی نماز جامعہ دار السلام کی قدیم مسجد (قائم شدہ 1344ھ/ 1925ء) میں ادا کی گئی۔نماز کے بعد مسجد میں یہاں کے کئی اساتذہ سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ایک جامعہ کے شیخ التفسیر مولاناسیدعبد الکبیر عمری صاحب تھے۔ ان کی پیدائش 1923 میں ہوئی۔ انہوں نے جامعہ دار السلام میں تعلیم پائی، پھر وہ یہیں استاد کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ معمر ہونے کے باوجود وہ ابھی تک پوری طرح صحت مند ہیں۔

نماز کے بعد ہم لوگوں کو کاکا سعید احمد عمری کے گھر لے جایا گیا جو عمر آباد میں مسجد کے بالکل قریب واقع ہے۔ یہاں شام کا کھانا کھایا گیا۔ کھانے کی میز پر تقریباً 10 آدمی موجود تھے۔ کھانے کے بعد یہاں دیر تک نشست ہوئی جس میں مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال ہوا۔

مولانا کاکا سعید احمد عمری نے کہا کہ جامعہ کے اندر مسلکی تعصب اور تنگ نظری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو آپ کا مسلک معلوم ہے۔ آپ کے مسلک سے اتفاق کی بنا پر ہی ہم نے جامعہ میں آپ کو دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ— مجموعی اتفاق ہی کا نام اتفاق ہے۔ جزئی اختلافات تو ہر جگہ اور ہر شخص کے اندر پائے جاتے ہیں۔

other sourceWords of another person or source

مولانا فیاض الدین عمری نے کہا کہ میں اِس کی تائید کروں گا کہ جامعہ کے اندر مسلکی تشدد بالکل نہیں پایا جاتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں نے جامعہ کے سینئر استاد دکتورعبد اللہ جولم صاحب سے بدایۃ المجتہد پڑھی ہے۔ مولانا اگرچہ سلفی ہیں، مگر دلیل کی موجودگی میں انہوں نے ہمیشہ ائمہ کی رائے کو ترجیح دی ہے۔ اور کبھی اُن سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی رائے کا بھی اظہار فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کے ذمے داران مسلک کے اعتبار سے اگرچہ سلفی ہیں، لیکن جامعہ کی قدیم مسجد میں وہاں کے امام ایک حنفی ہیں۔ جامعہ کے اندر لمبی مدت گزارنے کے باوجود ہم کو بہت سے اساتذہ کا مسلک معلوم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کا ایک امتیاز یہ ہے کہ یہاں کے ذمے داران ہمیشہ اپنے چھوٹوں سے رائے لیتے ہیں اور ان کوآگے بڑھاتے ہیں۔

other sourceWords of another person or source

گفتگو کے دوران کاکا سعید عمری صاحب نے کہا کہ عام طورپر لوگ دوستوں کو حقِ تنقید دیتے ہیں، مگر وہ اجنبی آدمی کو حق تنقید نہیں دیتے۔ اگر کوئی اجنبی آدمی ان پر تنقید کردے تو وہ بپھر اٹھتے ہیں۔ یہ طریقہ درست نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دوستوں کے علاوہ، اجنبی لوگوں کو بھی حقِ تنقید دے۔ وہ ایک اجنبی آدمی کی بات کو بھی اُسی طرح سنے جس طرح وہ اپنے دوستوں کی بات کو سنتا ہے۔ کاکا سعید احمد عمری نے گفتگو کے دوران کہا کہ جامعہ دار السلام کا نشانہ بنیادی طورپر صرف دو چیزیں ہیں— دعوت، اور آخرت۔ دعوت برائے آخرت اور آخرت برائے دعوت، یہی جامعہ کا اصل نشانہ ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اِس سلسلے میں طلبہ جامعہ کے سامنے کاکا سعید احمد عمری کے ایک بصیرت افروز خطاب کا ایک اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے’’اِس وقت ہم علمائےکرام کو اپنی ذمے داری کو محسوس کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ ہم برادران وطن کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھائیں، انھیں اپنی محبت کا موضوع بنائیں، اپنی تقریبات میں انھیں مدعو کریں اور جب بھی، جہاں بھی موقع ملے، اُسے غنیمت جان کر انھیں اسلام کا صحیح تعارف کرانے اور ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ بدقسمتی سے ہمارے رہنماؤں نے امت کو برادرانِ وطن کے ساتھ نفرت کرنا ہی سکھایا ہے، اُن سے محبت کرنا نہیں سکھایا۔ برادرانِ وطن ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب تک ہم اُن کے ساتھ محبت سے پیش نہیں آئیں گے، ذرا سوچیے ، اُس وقت تک وہ ہماری باتوں پر کیسے توجہ دیں گے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ اُنھیں ابدی جہنم سے بچانے کی فکر اور تڑپ ہمارے دل میں کیسے پیدا ہوگی‘‘۔ (ماہ نامہ راہِ اعتدال، عمر آباد، جون 2010، صفحہ 51)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

7جون 2010 کی شام کا کھانا اِس انداز کا تھا جس کو عام طورپر ’’پُر تکلف عشائیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ بعد کو میں نے یہاں کے منتظمین سے کہا کہ میں اِس قسم کے کھانے کا عادی نہیں ہوں۔ میں یہاں جب تک ہوں، میں صرف جامعہ کے مطبخ (مطعم) کا کھانا کھاؤں گا، یعنی وہ کھانا جو جامعہ کے طلبا کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ میرے کھانے کا ٹائم بھی وہی ہوگا جو جامعہ میں عام طورپر طلبا کے کھانے کا ٹائم ہوتا ہے۔ چنانچہ جب تک میں یہاں رہا، مطبخ کا کھانا کھاتا رہا۔ یہ کھانا بالکل سادہ تھا اور میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔

مولانا اسرار الحسن عمری جو یہاں ہم لوگوں کے کھانے وغیرہ کے ذمے دار تھے، انہوں نے بتایا کہ اگلے دن صبح کو مجھے جامعہ کے دفتر میں بلایاگیا۔ نائب ناظم جامعہ مولانا ظفر الحق شاکر عمری نے مجھ سے پوچھا کہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کے کھانے وغیرہ کا کیا انتظام ہے۔ میں نے کہا کہ مولانا نے کہا ہے کہ میں جب تک جامعہ میں ہوں، مطبخ کا کھانا کھاؤں گا۔ میرے لیے الگ سے کوئی اہتمام نہ کیا جائے۔ میری بات سن کر نائب ناظم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ  فَكُلُّ مُشْكِلَةٍ حُلَّتْ (پھر تو ساری مشکل آسان ہوگئی)۔ کیوں کہ مہمانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ان کے کھانے کا ہوتا ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مولانا کاکا سعید احمد عمری صاحب کے گھر سے کھانا کھا کر ہم لوگ واپس جامعہ کے کیمپس میں آگئے۔ یہاں کئی علما کے ساتھ میں دیر تک جامعہ کی کھلی فضا میں واک (walk) کرتا رہا۔ میں نے کہا کہ قرآن کی سورہ آل عمران میں ذکر کے بارے میں ارشاد ہوا ہے الَّذِينَ ‌يَذْكُرُونَ ‌اللهَ ‌قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ(3:191)۔ یعنی، کچھ لوگ کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں نے اپنے تجربے کے مطابق، اِس میں ایک اور ذکر کا اضافہ کیا ہے، اور وہ ہے واکنگ ذکر (walking zikr)۔ میرا معمول ہے کہ میں روزانہ واک کرتاہوں۔ مگر میری واک صرف واک نہیں ہوتی، بلکہ وہ واکنگ ذکر ہوتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ذکر کیا ہے۔ ذکر دراصل تفکر کا نام ہے۔ سلفِ صالحین نے ذکر کا یہی مطلب بتایا ہے۔ مثال کے طورپر ملاحظہ ہوعلامہ ابن القیم الجوزیۃ(وفات 751 ھ) کی کتاب مفتاح دار السعادۃ ومنشور ولایۃ العلم والإرادۃ۔ علامہ ابن قیم نے اِس کتاب میں تذکراور تفکر کو ہدایت کی اصل قرار دیا ہے (اَلتَّفَكُّرُ وَالتَّذَكُّرُ أَصْلُ الْهُدَىٰ وَالْفَلَاحِ، هُمَا قُطْبَا السَّعَادَةِ)۔ تفکر کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مثلاً یہاں آپ جامعہ کے کیمپس میں واک کررہے ہیں۔ یہاں چاروں طرف سرسبز درخت کھڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ آپ نے درخت کو دیکھا۔آپ کو یاد آیا کہ درخت اپنے اندر ایک انوکھی صفت رکھتا ہے، وہ یہ کہ وہ ایک نمو پذیر وجود (growing entity) ہے۔ درخت کے بارے میں اِس طرح سوچتے ہوئے آپ کو یاد آیا کہ ایمان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ایمان بھی ایک نموپذیر حقیقت ہے۔ حقیقی ایمان وہی ہے جس میں مسلسل اضافہ ہوتارہے۔ اِسی لیے قرآن میں کلمۂ ایمان کو درخت سے تشبیہ دی گئی ہے (ابراہیم، 14:24)۔ البتہ دونوں کے درمیان ایک فرق ہے۔ وہ یہ کہ درخت کی نمو پذیری قانونِ فطرت کے تحت ہوتی ہے، لیکن انسان خود اپنے ارادے کے تحت غور وفکر کرتا ہے اور اِس طرح وہ خود اپنے ارادے کے تحت اپنے ایمان میں اضافہ کرتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

واک کرنے کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ (مکتبہ عمر) پر آگئے۔ یہاں کمرے میں دوبارہ تقریباً 10 علما اکٹھا ہوگئے۔ ان سے دیر تک دینی اور دعوتی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ اُس وقت ایک بات میں نے یہ کہی کہ جو لوگ صرف عوام کے درمیان کام کرتے ہیں، عام طورپر ان کا ذہنی ارتقانہیں ہوتا۔ لیکن جو لوگ خواص کے درمیان دعوتی کام کریں، ان کا مسلسل ذہنی ارتقا ہوتا رہے گا۔ گویا کہ عوام کے درمیان دعوتی کام یک طرفہ نوعیت کا کام ہے، یعنی ایک سننے والا ہے اور دوسرا سنانے والا۔ اِس کے برعکس، خواص کے درمیان دعوتی کام دوطرفہ عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس میں ایک طرف مدعو کو نئی باتیں ملتی ہیں، اور دوسری طرف داعی کو ڈسکشن اور ڈائلاگ کے دوران نئی نئی باتیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے— پہلا طریقہ اگر یک طرفہ تعلیم (unilateral learning) پر مبنی ہے، تو دوسرا طریقہ دوطرفہ تعلّم (bilateral learning) پر مبنی۔

اِسی طرح میں نے ایک بات یہ کہی کہ قرآن میں چار قابلِ انعام گروہوں کا ذکر آیا ہے الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَداءِ وَالصَّالِحِينَ (4:69)۔ یعنی، وہ گروہ جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ میں نے کہا کہ میری سمجھ کے مطابق، اِس آیت میں انبیاء سے مراد پیغمبر ہیں، اور صدیقین سے مراد اصحابِ پیغمبر، اور شہداء سے مراد دعاۃ کا گروہ ہے۔ صالحین سے مراد وہ افراد ہیں جن کے لیے قرآن میں دوسری جگہ مقتصد (فاطر، 35:32) کا لفظ آیا ہے۔پھر میں نے کہا کہ معرفت کے تمام درجات اپنی نوعیت کے اعتبار سے آج بھی پوری طرح کھلے ہوئے ہیں، حتی کہ وہ اعلیٰ درجہ بھی جس کے بارے میں حدیث میں اِس قسم کے الفاظ آئے ہیں إنَّ لِلهِ ‌عِبَادًا ‌لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ‌يَغْبِطُهُمْ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللهِ(مسند احمد، حدیث نمبر 22906)۔ یعنی، بے شک اللہ کے کچھ بندے ایسے ہوں گے جو نہ نبی ہوں گے اور نہ شہید، مگر ان کی مجلسوں اور اللہ کے قرب کی وجہ سے انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔انبیاء کے اِس رشک کا سبب غالباً یہ ہوگا کہ جو درجۂ معرفت انبیاء نے فرشتہ جبریل کے ذریعے حاصل کیا، اُسی نوعیت کی معرفت یہ لوگ فرشتہ جبریل کے بغیر حاصل کرلیں گے۔ معرفت کا یہ حصول بعد کے زمانے میں اہلِ ایمان کے لیے سائنسی دریافتوں کے ذریعے ممکن ہوسکے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دہلی کے مقابلے میں عمر آباد کا موسم بہت خوش گوار تھا۔ دہلی میں درجۂ حرارت 41 ڈگری تھا، جب کہ یہاں کا درجہ حرارت 31 ڈگری ہے۔ رات نہایت سکون کے ساتھ گزری۔ 8 جون 2010 کو فجر کی نماز ہم لوگوں نے جامعہ دارالسلام کے کیمپس کے اندر واقع مسجد سلطان میں پڑھی۔ یہ مسجد1993 میں بنائی گئی۔ مسجد کافی وسیع اور سادہ تھی۔ عام روایت کے خلاف اِس مسجد میں صرف ایک مینار بنایا گیا ہے۔ ایک مینار کا طریقہ مجھے پسند ہے۔ ایک مینار توحید کی علامت معلوم ہوتا ہے۔

ہم لوگ نماز سے فارغ ہو کر باہر آئے تو ہر طرف فطرت (nature) کا ماحول تھا۔ جامعہ دارالسلام اِس طرح بنایا گیا ہے کہ اس کے اندر ہر طرف سرسبز درخت دکھائی دیتے ہیں۔ جامعہ کی تعمیر دراصل ایک وادی (valley) میں ہوئی ہے۔ اس کے بیرونی حصے میں دور تک پہاڑ دکھائی دیتے ہیں۔ جامعہ کے مغرب میں جو پہاڑی سلسلہ ہے، وہ وہی ہے جس کو ’’کیلاش گری‘‘ کہا جاتا ہے۔

جامعہ میں قیام کے دوران ہر وقت علما کا ساتھ ہوتا تھا۔ اِس واک کے دوران بھی کئی علما ہمارے ساتھ تھے۔ میں نے کہا کہ جامعہ کا یہ خوش منظر جائے وقوع دیکھ کر مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے بہت پہلے ماہ نامہ الرسالہ میں ایک مضمون شائع کیا تھا۔ اس کا عنوان تھا— فطرت کی آغوش میں۔

اِس مضمون میں میں نے لکھا تھاکہ میری تمناؤں میں سے ایک تمنا یہ ہے کہ فطرت کے مناظر کے درمیان ایک دینی مرکز بنایا جائے۔ یہ مرکز گویا کہ ہمارے افکار کا ایک عملی مظاہرہ ہوگا۔ یہاں جب خدا کی عظمت بیان کی جائے گی تو درخت اور پہاڑ اور آسمان اس کی عملی تصدیق کر رہے ہوں گے، اور چڑیاں اپنے چہچہے کے ساتھ اس کی ہم آواز بنی ہوئی ہوںگی۔ اب جامعہ دارالسلام کو دیکھنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرا خواب یہا ںواقعہ بن چکا ہے۔ کیوں کہ جامعہ کا مقصد بھی تقریباً وہی ہے جس کو میں نے نصف صدی سے بھی زیادہ مدت سے اپنا مشن بنا رکھا ہے،یعنی دعوت الی اللہ کا مشن۔ ہماری اِس واک کے دوران دوسرے علمائے جامعہ کے علاوہ، جامعہ دار السلام کے دونوں بڑے ذمے دار بھی موجود تھے— مولانا کاکا سعید احمد عمری، اور مولانا کاکا انیس احمد عمری۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

واک کرنے کے دوران میں نے ایک بات یہ کہی کہ یہاں آکر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جامعہ دار السلام دوسرے مدارس کے مقابلے میں ایک استثنا (exception) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی کچھ منفرد خصوصیات ہیں۔ مثلاً یہاں کی مسجد میں اکثر اوقات طلبا امامت کرتے ہیں۔ ہر نماز ایک الگ طالب علم پڑھاتا ہے۔ ایسا اِس لیے کیا جاتا ہے تاکہ طلبا کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ تعلیم کے دوران تربیت بھی حاصل کرتے رہیں۔

مارننگ واک (morning walk) کے بعد ہم لوگ لائبریری کی عمارت کے باہر کھلی فضا میں بیٹھ گئے۔ موسم بہت خوش گوار تھا۔ یہاں مولانا کاکا سعید احمد عمری کے علاوہ جامعہ کے اساتذہ اور کئی دیگر علما موجود تھے۔ دیرتک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک صاحب نے یہ سوال کیا کہ مدارس کے ذمے داران اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ اِن مدارس کے ذریعے تعلیم کا مقصد تو حاصل ہوا، لیکن افراد سازی کا مقصد بہت کم حاصل ہوسکا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ اِ س کا سبب یہ ہے کہ انسان کی شخصیت اس کے شاکلہ (17:84) کے مطابق بنتی ہے۔ شاکلہ سے مراد ذہنی سانچہ (mindset) ہے۔ ہمارے مدارس کا معاملہ یہ ہے کہ وہاں کا پورا ماحول قدیم شاکلہ پر مبنی ہوتا ہے، جب کہ موجودہ زمانے میں حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ ایسی حالت میں ضرورت ہے کہ طلبا کو لسانِ عصر میں مخاطب کیا جائے، ورنہ ان کا مائنڈ ایڈریس نہ ہوگا۔ یہی وہ کمی ہے جس کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ تعلیم دین کے کافی پھیلاؤ کے باوجود ایسے افراد پیدا نہیں ہورہے ہیں جو جدید معیار پر اسلامی ذہن کے حامل ہوں اور جدید انسان کے سامنے موثر انداز میں اسلام کی نمائندگی کرسکیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ الرسالہ مشن دراصل اِسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے شروع کیا گیا۔ غالباً یہ کہنا درست ہوگا کہ پوری مسلم دنیا میں یہ واحدمشن ہے جو اِس فکری ضرورت کو پورا کررہا ہے۔ 1959 میں ایک مشہور ہندستانی عالم کی ایک کتاب چھپی۔ اس کا ٹائٹل یہ تھا ردّۃ ولا أبا بکر لہا۔ میں نے اِس معاملے کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جدید انسان کا کیس ذہنی ارتداد (intellectual apostasy) کا کیس نہیں ہے، بلکہ وہ ذہنی عدم اطمینان (intellectual dissatisfaction) کا کیس ہے۔ الرسالہ مشن کے تحت 1976 سے اِس بنیاد پر کام شروع کیا گیا ہے اور اب اللہ کے فضل سے ہر جگہ اس کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک صاحب نے کہا کہ میں نے آپ کی کچھ کتابیں پڑھی ہیں۔مگر اس میں تعقل پسندی بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ اِس کی کوئی مثال دیجیے، مگر وہ کوئی مثال نہ بتا سکے۔ میں نے کہا کہ جب تک آدمی کے پاس کوئی متعین مثال نہ ہو، اُس وقت تک اِس طرح کا تبصرہ کرنا آدمی کے لیے سرے سے جائز ہی نہیں۔پھر میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ آپ جیسے لوگ دو چیزوں میں فرق نہیں کرپاتے۔ ایک ہے تعقل پسندی اور دوسری چیز ہے اسلوب جدید۔ معروف معنی میں،میں ہر گز تعقل پسند نہیں ہوں،البتہ میری تحریروں میں جدید اسلوب ہوتا ہے۔ آپ جیسے لوگ دونوںمیں فرق نہ کرنے کی وجہ سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ میں ایک تعقل پسند انسان ہوں۔ حالاں کہ مجرد تعقل پسندی ایک غیر مطلوب چیز ہے اور اسلوب جدید بلاشبہ عین مطلوب کی حیثیت رکھتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ عقل کے استعمال کی دوصورتیں ہیں— ایک یہ کہ عقل کو بذاتِ خود صحیح اور غلط کا معیار سمجھا جائے۔ دوسرے یہ کہ نقلی (traditional) طورپر ایک ثابت شدہ بات کی مزید تائید کے لیے عقل کا استعمال کیا جائے۔ عقل کا اِس طرح تائیدی استعمال خود قرآن سے ثابت ہے۔ مثال کے طورپر جدید عقل پسند انسان یہ کہتا ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان ہر اعتبار سے کامل مساوات ہونا چاہیے۔ میں اِس عقلی نقطۂ نظر کو نہیں مانتا۔ اِس کے بجائے میں قرآن کے نقطۂ نظر کو مانتا ہوں جس میں عورت اور مرد کے درمیان فطری فرق کی بنا پرایک مرد کے مقابلے میں دو عورتوں کی گواہی کو معتبر قرار دیا گیا ہے (البقرۃ، 2:282)۔ قرآن کے اِس نقطۂ نظر کی تائید کے لیے میں نے ایک سائنسی دلیل دی ہے۔ وہ یہ کہ عورت اور مرد کے دماغ میں فطری بناوٹ کے اعتبار سے ایک ناقابلِ تغیر فرق پایا جاتا ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ مرد پیدائشی طورپر single focussed mind ہوتا ہے، اور اس کے مقابلے میں عورت فطری طورپرmulti focussed mind رکھتی ہے۔ اس کی تفصیل آپ ماہ نامہ الرسالہ (اپریل 2006، صفحہ 7) میں دیکھ سکتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

8 جون 2010 کی صبح کو جامعہ کے کُلّیہ ہال میں ایک بڑا پروگرام ہوا۔ یہ یہاں کے زمانۂ قیام کا پہلا پروگرام تھا۔یہاں میں نے دعوت الی اللہ کے موضوع پر کچھ باتیں کہیں۔ اس کے بعدمیں نے اس پروگرام میں جو مزیدباتیں کہیں، اس کا خلاصہ یہ تھا کہ جامعہ سے میرا ایک فطری تعلق رہا ہے۔ جامعہ دارالسلام 1924 میں قائم ہوا، اور یہی وہ سال ہے جب کہ میری پیدائش ہوئی۔ جامعہ سے اِسی بلااعلان تعلق کی بنا پر ایسا ہوا کہ میں نے اپنے پہلے فرزند ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کو 1957 میں تعلیم کے لیے یہاں بھیجا۔ جامعہ کے لیے میرا پہلا سفر 1977 میں ہوا۔ یہ سفر جامعہ کی دعوت پر 16-18 اپریل 1977 کو اس کی گولڈن جُبلی (المہرجان الذہبی) میں شرکت کے لیے ہوا۔ اِس موقع پر میں نے ایک مقالہ پیش کیا تھا جو ماہ نامہ الرسالہ، جولائی 1977، میں شائع ہوا۔ اِس مقالے کا عنوان یہ تھا

دعوت اسلامی کے جدید امکانات

بعد کو یہ مقالہ عربی زبان میں ’’امکانات جدیدۃ للدعوۃ‘‘کے نام سے پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا گیا۔ یہ مقالہ 36 صفحات پر مشتمل تھا۔ اس کو قاہرہ سے المختار الإسلامی پبلشرنے پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا تھا۔اب وہ مقالہ راقم الحروف کی کتاب ’’ظہور اسلام‘‘ میں ’’اسلامی انقلاب تاریخِ انسانی کے لیے نیا موڑ‘‘ کے عنوان سے شامل ہے۔ اس سفر کی مختصر روداد اُسی زمانے میں ماہ نامہ الرسالہ، اگست 1977 میں چھپی تھی (صفحہ 52)۔

جامعہ دار السلام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہاں آغاز ہی سے تعارف اسلام کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز 1978 میں ہوا، جب کہ یہاں تعارف اسلام کے نام سے ایک مستقل شعبہ کھلا اور اس کے لیے ایک علاحدہ عمارت بنائی گئی جو اب بھی قائم ہے۔ یہ ایک سالہ کورس ہے اور اِس میں مدارسِ عربیہ سے فارغ حضرات کو داخلہ دیا جاتا ہے۔

صبح کے اس پہلے پروگرام کے بعددوسرا پروگرام لائبریری کے ہال میں تھا۔ یہ ایک گھنٹے کا پروگرام تھا۔ یہ پروگرام جامعہ کے اساتذہ کے لیے خاص تھا۔ اِس میں جامعہ کے تمام اساتذہ شریک تھے۔ اساتذہ کے اِس اجتماع میں گفتگو کا موضوع ’’تعلق مع اللہ‘‘ تھا۔ اِس موقع پر میں نے جو باتیں کہیں، اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔

میں نے کہا کہ تعلق باللہ کا مطلب ہے— ذکر اللہ، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‌يَذْكُرُ ‌اللهَ عَلَى كُلِّ ‌أَحْيَانِهِ ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 373)۔ یعنی ہر حین (occasion) کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بنا کر اللہ کو یادکرنا۔ میں نے کہا کہ تعلق باللہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے جو تدبر اور تفکر اور توسم کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ ذکر اللہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ذکرِ کثیر وردِ کثیر کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ تفکرِ کثیر کا نام ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آخر میں سامعین کی طرف سے مختلف سوالات کیے گئے۔ ایک سوال یہ تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے آج اپنی صبح کی تقریر میں موثر دعوت کے لیے صبر کی اہمیت بتائی تھی اور یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک بدو مدینہ آیا اور اس نے مسجد نبوی کو گندا کردیا۔ آپ نے اُس سے درگزر کا معاملہ فرمایا(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6128)۔ مگر سوال یہ ہے کہ اُس بدو نے نادانی میں ایسا کیا تھا، مگر آج مسلمانوں کے خلاف اِس قسم کے واقعات عداوت کی بنیاد پر ہورہے ہیں، پھر اس سے کیسے در گزر کیا جاسکتا ہے۔ میں نے کہا اِس سوال کا جواب صبح کے اجتماع میں قاری صاحب نے اپنی تلاوت کے ذریعہ دے دیا ہے۔ انہوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی تھی ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي ‌بَيْنَكَ ‌وَبَيْنَهُ ‌عَداوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34)۔ یعنی، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس آیت کے مطابق ہم کو ’’عدو‘‘ کے ساتھ بھی وہی حسنِ سلوک کرنا ہے جو نادان کے ساتھ کیا جاتا ہے، یعنی رد عمل کا طریقہ اپنانے کے بجائے صابرانہ طریقہ اپنانا۔

ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ مسلمانوں کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں، مسلمان تو مسلسل صبر ہی کررہے ہیں، لیکن اُنھیں صبرکا کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے، وہ برابر ذلت و ناکامی کا شکار ہورہے ہیں۔ میں نے کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (2:153)۔ یہ آیت اِس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان مطلوب صبر نہیں کررہے ہیں۔ اگر وہ مطلوب صبر کررہے ہوتے تو قرآن کے بیان کے مطابق، یقیناً وہ’’ذلت وناکامی‘‘ کا شکار نہ ہوتے۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق، صبر کرنے والوں کو اللہ کی نصرت حاصل ہوتی ہے، اور اللہ کی نصرت کے بعد کسی کے لیے ذلت وناکامی کا کوئی سوال نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صبر کا مطلب کیاہے۔ صبر کا مطلب نہ پسپائی ہے اور نہ بے عملی۔ صبر دراصل یہ ہے کہ آدمی ٹکراؤ کو اوائڈ کرکے مثبت بنیاد پر اپنے عمل کا منصوبہ بنائے۔ صبر یہ ہے کہ آپ اپنے دل سے نفرت کو ختم کردیں، تشدد کے مزاج کو ختم کردیں، لڑنے کے مزاج کو ختم کردیں، اشتعال سے پرہیز کریں۔ اِس طرح کے مثبت اوصاف کو پیدا کرنے کے بعدجو تعمیری منصوبہ بنایاجائے، اسی کا نام صبر ہے۔

پروگرام کے بعد مولانا کا کا سعید احمد عمری نے کہا کہ آپ نے بے حد قیمتی باتیں بتائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ تقریر کے اختتام پر اساتذہ کو ہمارے یہاں کا چھپا ہوا لٹریچر دیاگیا۔ ہال میں میز پر موجود سارا لٹریچر اُسی وقت ختم ہوگیا۔ اساتذہ نے خود سے یہ لٹریچر حاصل کیا، اور اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

8 جون 2010 کی سہ پہر کو تین بجے سے چار بجے تک عوام کے درمیان کام کررہے علما کے ساتھ ’’تبادلۂ خیال‘‘ کا پروگرام تھا۔ میں نے پروگرام کے آغاز میں تقریباً 25 منٹ تک دعوت کے مختلف پہلوؤں پر اظہارخیال کیا۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ دعوت کا عمل ایک اعتبار سے دو طرفہ ایکسچینج (exchange) کا عمل ہے۔ دعوت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ دوسروں کے سامنے ایک بات کا اعلان کردیں، بلکہ دعوت کے دوران آپ کو خود بھی سیکھنا چاہیے۔ دعوتی عمل کا فائدہ خود داعی کو ذہنی ارتقا کی صورت میں ملنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ مطالعہ کتب کو اپنے ڈیلی رُوٹین میں شامل کرلیں۔ اِسی کے ساتھ آپ میں سے ہر شخص ڈائری بھی ضروررکھے۔ ڈائری گویا کہ کتابِ محاسبہ ہے۔ دُعاۃ کو ایک اور مشورہ میں نے یہ دیا کہ آپ لوگ اپنا دعوتی عمل خاص طورپر اُن لوگوں کے ساتھ کریں جن سے آپ کی علمی سطح بڑھنے والی ہو— دینا وہی دینا ہے جب کہ دینے کے عمل کے دوران آدمی نے خود بھی کچھ پایا ہو۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال یہ تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں گزشتہ ایک سال سے ماہ نامہ الرسالہ اور آپ کی دیگر کتابوں کا مطالعہ کررہا ہوں۔ مطالعے کے دوران میں نے پایا کہ آپ ذہنی ارتقاء پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ ذہنی ارتقا اپنی حقیقت کے اعتبار سے عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ’’ازدیادِ ایمان‘‘ کہا گیا ہے۔ لوگ ازدیادِ ایمان کو ایک پر اسرار چیز سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ازدیادِ ایمان ایک معلوم چیز ہے اور اس کا تعلق انسانی دماغ سے ہے۔ وہ غور وفکر کے ذریعے حاصل ہوتا ہے جس کو قرآن میں تدبر و تفکر اور توسم کہا گیا ہے۔ وہ چیز جس کو قربِ الٰہی کہا جاتا ہے، اس کو حاصل کرنے کا ذریعہ یہی ذہنی ارتقا ہے۔ ذہنی ارتقا سے آدمی کو معرفت حاصل ہوتی ہے، اور معرفت انسان کو اللہ سے قریب کرنے والی ہے۔

8 جون 2010 کو عصر کی نماز کے بعد جامعہ دار السلام کی مسجد میں ایک خطاب رکھا گیا۔اِس میں جامعہ کے طلبا اور اساتذہ دونوں شریک تھے۔ اِس خطاب کا موضوع تھا معرفتِ الٰہی۔

میں نے کہا کہ معرفت کیا ہے۔ معرفت یہ ہے کہ انسان حالتِ غیب میں اپنے رب کو پہچانے، وہ دیکھے بغیر اس کو دیکھ لے۔ معرفت دراصل یہ ہے کہ آدمی کو خدا کی موجودگی (presence of God) کا حسّیاتی تجربہ ہونے لگے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں  وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ (96:19) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی، سجدہ کر اور قریب ہوجا۔ اور حدیث میں اس کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں تَعْبُداللهَ ‌كَأَنَّكَ ‌تَرَاهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50)۔یعنی، تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور معرفت کے حصول کی بھی ایک قیمت ہے، وہ قیمت بنیادی طورپر یہ ہے کہ آدمی پردۂ التباس (element of doubt) کو پھاڑ کر حقیقت اعلیٰ کو دیکھ سکے۔ پردہ التباس کو پھاڑنے میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے جو اپنے آپ کو ہر قسم کے ڈسٹریکشن (distraction) سے بچائے، جو اپنے آپ کو کامل یکسوئی کے ساتھ معرفت کے حصول میں لگا دے۔ ڈسٹریکشن میں ہر وہ چیز شامل ہے جو آدمی کی توجہ کو مقصد ِ اعلیٰ سے ہٹانے والی نہ ہو۔ اِس میں ہر قسم کے منفی جذبات بھی شامل ہیں۔ مثلاً نفرت، تعصب، فخر، احساسِ برتری، اور خواہش کی پیروی، وغیرہ۔

اِس سلسلے میں ایک بات میں نے یہ بتائی کہ انسان کو جو دماغ دیاگیا ہے، وہ بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہے، وہ کوئی عبث چیز نہیں ہے۔ وہ اِس لیے ہے کہ آدمی اپنے دماغ کو اَن فولڈ (unfold) کرے اور اس کو حقائقِ ربانی کی دریافت کے لیے استعمال کرے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کلماتِ رب (لقمان، 31:27) اتنے زیادہ ہیں جن کی کوئی حد نہیں۔ اِسی کے ساتھ انسانی دماغ کے جو امکانات (potential) ہیں، وہ بھی لامحدود ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ ایک فرد کے دماغ میں جتنے پارٹکل ہوتے ہیں، وہ پوری کائنات میں موجود پارٹکل کے برابر ہیں۔ انسان کو یہ غیر معمولی صلاحیت اِس لیے دی گئی ہے کہ وہ اس کو استعمال کرکے معرفتِ اعلیٰ کو حاصل کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ جنت میں اہلِ جنت کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ (شغلِ فاکہ) یہ ہوگا کہ وہ لامحدود کلماتِ رب کو ابدی طورپر دریافت کرتے رہیں۔ موجودہ دنیا دراصل اِس لیے ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جنت کے اِس لامحدود عمل کے لیے تیار (prepare)کرے۔ جنت کی سب سے بڑی خوشی حصول معرفت کی خوشی ہے۔ حصولِ معرفت کا یہ سفر جنت میں ابدی طور پر جاری رہے گا۔ اس کے علاوہ، جنت میں جو مادی نعمتیں ملیں گی، وہ دراصل ضیافتِ ربّانی کے طورپر ملیں گی یہی وہ بات ہے جو قرآن میں اِن الفاظ میں کہی گئی ہے نُزُلاً مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ (41:32)۔یعنی، بخشنے والے، مہربان کی طرف سے مہمانی کے طور پر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ حصول معرفت کی نسبت سے قدیم روایتی د ور اور جدید سائنسی دور میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ معرفت کا اصل ذریعہ تخلیقاتِ خداوندی میں تدبر اور تفکر ہے۔ یہی علمائے راسخین کا مسلک ہے۔

امام ابن تیمیہ نے بجا طور پرلکھا ہے کہ کائنات میں پھیلی ہوئی خدائی نشانیوں پر غور وفکر کرنا ہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے آدمی اللہ تعالیٰ کی حقیقی معرفت حاصل کرتا ہے أَنَّ التَّفْكِيرَ فِي الآلَاءِ وَالنِّعَمِ يُمْكِنُ لِلْعَقْلِ أَنْ يَسْتَنْبِطَ فِيهَا عَظَمَةَ الصَّانِعِ وَحِكْمَتَهُ وَمَا يَلِيقُ بِهِ مِنْ صِفَاتِ الْكَمَالِ وَالْجَلَالِ، فَيَعْرِفَهُ حَقَّ مَعْرِفَتِهِ (دقائق التفسیر، الجامع لتفسیر ابن تیمیۃ، 1/49)۔یہ تدبر اور تفکر قدیم زمانے میں بھی مطلوب تھا، اور آج بھی اسی کے ذریعے کسی آدمی کو معرفتِ خداوندی مل سکتی ہے۔ اِس اعتبار سے، قدیم دور اور جدید دور میں کوئی فرق نہیں، البتہ جدید سائنسی دور میں معلومات کے اضافے کی بنا پر تدبر کا فریم ورک (frame work) بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پروگرام ختم ہوا تو مغرب کی نماز میں تقریباً نصف گھنٹہ باقی تھا۔ ہم لوگ کچھ دیر کے لیے کلیہ بلڈنگ کے دفتر میں بیٹھ گئے۔ یہاں جامعہ کے مختلف اساتذہ اور دیگر علما موجود تھے۔ مولانا سید اقبال احمد عمری نے کہا کہ آج کی تقریر (معرفتِ الٰہی) میں ا ٓپ نے جنت اور کلماتِ رب کے بارے میں جو کچھ کہا، اُس سے جنت اور آخرت کی معنویت پوری طرح کھل گئی۔ میں نے کہا کہ جنت کا یہ تصور اُس سوال کاواحد جواب ہے جو تمام اہلِ علم کو پریشان کیے ہوئے ہے۔ تمام فلاسفہ اور مفکرین اور سائنس داں مشترک طورپر اس مسئلے سے دوچار ہیں کہ اتنی زیادہ بامعنیٰ (meaningful) کائنات کیا ایک بے معنی انجام(meaningless end) پر ختم ہوجائے گی۔ جنت کا تصور واحد تصور ہے جو اِس سوال کا جواب فراہم کرتا ہے۔ لیکن جنت کے ماننے والوں نے جنت کی جو تصویر بنا رکھی ہے، اُس میں اُنھیں اپنے اِس سوال کا جواب نہیں ملتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

8 جون 2010 کو مغرب کی نماز کے بعد ہم لوگ اپنے کمرے میں آگئے۔ یہاں جناب ریاض موسی مالاباری سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ اِس کے علاوہ، وہ ہماری کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ کا ملیالم ترجمہ شائع کررہے ہیں۔ ان کی مادری زبان ملیالم ہے۔ انہوں نے میرے حالات اور مشن کو لے کر ایک تفصیلی انٹرویو لیا جس کو وہ ملیالم اخبار میں شائع کریں گے۔

آج شام کو مولانا کاکا سعید احمد عمری سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے تزکیہ اور روحانیت کے مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی۔ یہ گفتگو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ بعد کو اِس مجلس میں دیگر علما کے علاوہ، مولانا فیاض الدین عمری اور مولانا سید اقبال احمد عمری، وغیرہ آگئے۔ کاکا صاحب اپنے مزاج کے اعتبار سے بہت صاف دل آدمی ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اِس مجلس میں مولانا فیاض الدین عمری نے مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پایا ہے کہ کاکا صاحب کا سب سے بڑا کنسرن (concern) یہ ہے کہ جامعہ دار السلام کے طلبا اور اساتذہ میں تزکیہ اور روحانیت پیدا ہو۔ یہ بات سن کر کاکا صاحب فوراً سنجیدہ ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ آپ لوگ غلط بات کیوں کہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہیے کہ خود مجھے تزکیہ اور روحانیت کی ضرورت ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

8 جون 2010 کو ہم نے عشاء کی نماز عمر آباد کی مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد جامعہ کے ایک سینئر استاذ اور سابق شیخ الحدیث مولانا ظہیر الدین اثری رحمانی صاحب کے گھر پر کھانے کا پروگرام تھا۔ وہ جامعہ کیمپس کے باہر عمر آباد بستی میں رہتے ہیں۔ وہ 1920 میں (اعظم گڑھ، یوپی) میں پیدا ہوئے اور بعد کو عمر آباد میں آکر بس گئے۔ وہ 1958 سے مستقل طورپر عمر آباد میں مقیم ہیں۔ گذشتہ 50سال سے وہ جامعہ میں حدیث کے استاذ ہیں اور اِسی کے ساتھ افتاء کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔اپریل 1977 میں انھیں کی خصوصی دعوت اور تحریک پر میں نے جامعہ دارالسلام کا سفر کیا تھا۔

عمر آباد آنے سے پہلے میں نے یہ کہہ دیا تھا کہ میں کسی کے گھر دعوتی کھانا کھانے کے لیے نہیں جاؤں گا۔ میں صرف جامعہ میں کھانا کھاؤں گا۔ مگر بعض وجوہ سے استثنائی طورپر مولانا ظہیرالدین صاحب کے یہاں کھانے کے لیے جانا منظور کرلیا۔ اِس موقع پر جامعہ کے کئی علما بھی شریک تھے۔ یہاں جو باتیں ہوئیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ میں نے ذکر کی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ ذکر سب سے بڑی ہستی کو یاد کرنے کے لیے ہوتاہے۔ اِس لیے ذاکر کے اندر اُسی عظیم ہستی کی نسبت سے کیفیات پیدا ہونی چاہئیں۔ جس ذکر میں ذاکر کے اندر ربانی کیفیات پیدا نہ ہوں، وہ ذکر ایسا ہی ہے جیسے پلاسٹک کا بنا ہوا گلاب کا پھول۔ بظاہر وہ پھول ہے، لیکن اس سے آدمی کو کوئی خوشبو نہیں ملتی۔ ایک حقیقی پھول آدمی کو اپنی خوشبو سے معطر کر دیتا ہے۔ اِسی طرح حقیقی ذکر وہ ہے جو آدمی کو اعلیٰ ربانی کیفیات سے معمور کردے۔

9 جون 2010 کی صبح کو نمازِ فجر کے بعد کچھ دیر ہم لوگوں نے جامعہ کے کمپس میں واک کی۔ اِس کے بعد مولانا سید اقبال احمد عمری نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میں کچھ دیر کے لیے ان کے گھر جاؤں اور وہاں صبح کی چائے پیوں۔ میں نے کہا کہ عام طورپر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ چائے پر بلاتے ہیں اور پھر پر تکلف ناشتے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اگرآپ یہ وعدہ کریں کہ آپ کے یہاں صرف چائے ہوگی اور دوسرا کوئی بھی آئٹم نہ ہوگا، تو میں چلنے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے وعدہ کیا۔ چنانچہ میں ان کے یہاں گیا اور واقعۃً انہوں نے اپنے وعدے کو نبھایا۔

اِس مجلس میں اور بھی کئی علما موجود تھے— مولانا محمد ابراہیم عمری، مولانا کاکا انیس احمد عمری، وغیرہ۔ یہاں جو باتیں ہوئی، اُن میں سے ایک یہ تھی۔ میں نے کہا کہ آج کل تسبیح فاطمہ کا بہت رواج ہے۔ لیکن یہ لوگ تسبیح فاطمہ کو اس کی پوری شکل میں نہیں لیتے، بلکہ ادھوری شکل میں لیتے ہیں۔ جیسا کہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ تسبیح اپنی صاحب زادی فاطمہ کو خادم کے بدل کے طور پر بتائی تھی۔ مگر آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے تسبیح فاطمہ کو اس کے پس منظر سے الگ کرلیا ہے اور وہ اس کو پراسرار فضیلت کے طور پر پڑھتے ہیں، حتی کہ اس کی بنیاد پر تسبیح کا بہت بڑا کاروبار ساری مسلم دنیا میں قائم ہے۔ مزید یہ کہ پہلے وہ اپنی صاحب زادیوں کے لیے ہر قسم کی مادّی سہولت فراہم کرتے ہیں اور پھر تبرک کے طورپر ان کو تسبیح اور مصلّی بھی دے دیتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک صاحب نے کہا کہ آپ کی بعض باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ذکر کے فارم کا انکار کرتے ہیں، حالاں کہ ذکر کا فارم تو قرآن میں موجود ہے۔ میںنے کہا کہ یہ اعتراض محض غلط فہمی پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذکر الفاظ کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ انسان کسی بھی چیز کا تصور کرنے کے لیے الفاظ کا محتاج ہے۔ اِسی طرح ذکر کے لیے بھی الفاظ ضروری ہیں۔ میں دراصل ذکر کی موجودہ شکل کو ذکر کا تصغیری فارم سمجھتا ہوں، جس میں ذکر کو اس کی اسپرٹ سے الگ کردیا گیاہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ذکر کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اِس آیت کا مطالعہ کیجیے إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (8:2)۔یعنی، ایمان والے وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں۔ قرآن کی اِس آیت کے مطابق، ذکر وہ ہے جو اگر چہ الفاظ کی صورت میں ظاہر ہو، لیکن اپنی داخلی کیفیت کے اعتبار سے وہ ایک ہلچل کی مانند ہو، جس سے ذاکر کا قلب دہل اٹھے، جو اس کے دل ودماغ کے لیے ایک طوفانی تجربہ بن جائے، جو آدمی کے لیے خداوند ذوالجلال کی دریافت کے ہم معنی بن جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

گفتگو کے دوران کاکا انیس احمد عمری سے میں نے پوچھا کہ آپ کی فیملی ایک جوائنٹ فیملی ہے۔ جوائنٹ فیملی میں طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں آپ لوگ کس طرح اِس مسئلے کو حل کرتے ہیں۔ کاکا انیس صاحب نے کہا کہ اِس کا فارمولا ہے — صبر وبرداشت سے کام لینا اور دوسروں کی کمی کو نظر انداز کرنا۔ اِس میں سب سے اہم رول گھر کے بڑے کا ہوتاہے۔ گھر کا بڑا اگر دانش مندی سے کام لے تو کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہوتا — یہ فارمولامجھے بہت پسند آیا۔ یہ سادہ بھی ہے اور پوری طرح قابلِ عمل بھی، مگر اکثر لوگ اِس حقیقت کو نہیں جانتے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

9 جون 2010 کا پروگرام صبح 10 بجے سے شروع ہونے والا تھا۔ اِس سے پہلے کئی علما میرے کمرے میں آگئے۔ اُن سے دیر تک گفتگو ہوئی۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ نے ایک مجلس میں کہا تھا کہ ذکر تجدید شعور کا نام ہے، تکرارِ لفظی کا نام ذکر نہیں، حالاں کہ احادیث میں بہت سی روایات ذکر کے سلسلے میں آئی ہیں۔ میں نے کہاکہ جو کچھ میں نے کہا تھا، اُس کا تعلق نفسِ ذکر سے نہیں ہے، بلکہ تصورِ ذکر سے ہے۔ ذکر کی اہمیت بلا شبہ بہت زیادہ ہے، لیکن ذکر سے مراد تکرارِ معانی ہے، نہ کہ مجرد تکرارِ الفاظ۔ جب انسان اپنے خالق کو یاد کرتا ہے تو اس کے دل ودماغ میں ایک تموج پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ داخلی تموج جب الفاظ کی صورت میں ڈھل جائے تو اسی کا نام ذکر ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مجلس کے دوران مولانا کاکا سعید احمد عمری میرے کمرے میں آئے۔ اس وقت وہاں کئی اساتذہ اور دُعاۃ بیٹھے ہوئے تھے، جو اُن کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے۔ کاکا صاحب نے ان لوگوں کو سختی کے انداز میں کھڑے ہونے سے منع کیا اور کہا کہ آپ لوگ جیسے بیٹھے ہیں، اُسی طرح بیٹھے رہیں، اٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اِس کے بعد کاکا صاحب خاموشی کے ساتھ کمرے کے ایک طرف خالی جگہ دیکھ کر بیٹھ گئے— یہ منظر میں نے صرف جامعہ دار السلام میں دیکھا۔

9 جون 2010 کو ’’تزکیۂ نفس‘‘ کے موضوع پر خطاب کرنا تھا۔ اِس خطاب کا انتظام جامعہ کی لائبریری کے ہال میں کیا گیا تھا۔ اِس خطاب میں جو باتیں میں نے کہیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ عام طورپر تزکیۂ نفس کے موضوع کو ایک پر اسرار موضوع سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تزکیۂ نفس کو تزکیۂ قلب کے ہم معنی سمجھ لیا گیا ہے۔ حالاں کہ صحیح یہ ہے کہ تزکیۂ نفس سے مراد تزکیۂ ذہن ہے، یعنی نفسیاتی تزکیہ۔ تزکیۂ نفس کو دوسرے لفظوں میں تعمیر ِ شخصیت کہاجاسکتا ہے، یعنی روحِ انسانی کی تطہیر (purification of soul)۔ تزکیۂ نفس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنا بے رحمانہ محاسبہ کرے اور اپنی شخصیت کو تمام منفی اور نامطلوب عناصر سے پاک کرکے اپنے آپ کو ربانی انسان بنائے۔ تزکیۂ نفس کوئی وقتی عمل نہیں، وہ تاحیات جاری رہنے والا ایک مسلسل عمل ہے۔

تزکیۂ نفس کا کوئی تعلق مروّجہ مراقبہ (meditation) سے نہیں ہے۔اس کا تعلق تمام تر تفکر اور تدبر سے ہے۔ علامہ ابن تیمیہ (وفات 728 ھ) نے بجا طورپر لکھا ہے کہ تزکیۂ نفس کا ذریعہ تذکر اور تفکر ہے أَنَّ التَّذَكُّرَ سَبَبُ التَّزْكِيَةِ، فَإِنَّهُ إِذَا تَذَكَّرَ خَافَ وَرَجَا، فَتَزَكَّىٰ(مجموع الفتاویٰ لابن تیمیۃ،جلد 16، صفحہ 186)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تزکیۂ نفس در اصل یہ ہے کہ محاسبہ (introspection) کے ذریعے اپنی کنڈیشننگ کو توڑا جائے۔ اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کی جائے۔ دراصل ڈی کنڈیشننگ ہی تزکیۂ نفس کا پہلا دروازہ ہے۔ ہر آدمی کا کیس کنڈیشننگ کا کیس ہے۔ جب تک اِس کنڈیشننگ کو توڑا نہ جائے، کسی شخص کے اندر تزکیۂ نفس کا عمل (process) شروع نہیں ہوسکتا۔

میں نے کہا کہ لوگ تزکیہ کا معروف کورس پورا کرتے ہیں، لیکن ان کے اندر مطلوب تزکیہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تزکیہ کے نام پر لوگ ورد اور تسبیح اور وظیفہ اور نفلی اعمال کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اِن اعمال کے اندر کراماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں جو پراسرار طورپر ان کا تزکیہ کردیں گے، حالاں کہ اِس طرح کے شکلی اعمال کا براہِ راست تعلق تزکیۂ نفس سے نہیں ہے۔ تزکیہ حقیقتاً ایک شعوری عمل کا نتیجہ ہے، نہ کہ صرف کسی فارم کی ظاہری ادائیگی کا نتیجہ۔

خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام تھا۔ یہ ایک گھنٹے کا سوال و جواب تھا۔ یہاں جوسوالات کیے گئے، ان میں سے ایک سوال تھا کہ آپ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ تزکیۂ نفس کا تعلق کسی ظاہری فارم سے نہیں ہے، بلکہ تزکیہ ایک شعوری عمل کا نام ہے۔ اِس کی وضاحت فرمائیں۔ میں نے کہا کہ اِس سوال کا جواب ایک صحابی کے عمل سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت ابو الدرداء انصاری کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ ام الدرداء سے پوچھا گیا کہ ابو الدرداء کا خاص عبادتی عمل کیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا التَّفَكُّرُ، الِاعْتِبَارُ (السنن الکبریٰ للنسائی، اثر نمبر 11850)۔ یعنی، سوچنا اور چیزوں سے عبرت پکڑنا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے اپنے بارے میں کہا کہ میں ایک صوفی ہوں، حالاں کہ تصوف، اسلام میں ایک مبتدعانہ اضافہ ہے۔ میں نے کہا کہ میں صوفی کا لفظ مروجہ معنی میں استعمال نہیں کرتا۔ صوفی سے میری مراد وہی ہے جس کے لیے قرآن میں ربانیت (3:79) کا لفظ آیا ہے۔ربانیت کی اہمیت خود قرآن سے ثابت ہے، اور جہاں تک موجودہ تصوف کا تعلق ہے، وہ اِسی ربانیت کی ایک بگڑی ہوئی صورت ہے۔ تصوف کے بارے میں میرے نقطۂ نظر کو جاننے کے لیے آپ میری کتاب ’’فکر اسلامی ‘‘ (صفحہ128 ) کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

9جون 2010 کو اگلا پروگرام دعاۃ سے ’’تبادلۂ خیال‘‘ کا تھا۔ یہ ایک گھنٹے کا پروگرام تھا جو تین بجے سے چار بجے تک جاری رہا۔ یہ پروگرام سوال وجواب کی صورت میں تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ اسلام کا ایک حصہ وہ ہے جس کا تعلق عقیدے سے ہے۔ مثلاً توحید اور آخرت، وغیرہ۔ اسی طرح کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا تعلق نظام سے ہے۔ مثلاً دیوانی اور فوج داری کے قوانین اور تعزیرات، وغیرہ۔ ایسی حالت میں سوال یہ ہے کہ ہم اسلام کے تعارف کا آغاز اسلام کی کس تعلیم سے کریں۔

میں نے کہا کہ اِس سوال کا جواب سیرتِ نبوی میں موجود ہے۔ آپ نے مکہ میں نبوت کا آغاز کیا تو آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ لوگوں کے پاس جاتے اور ان سے کہتے يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ‌قُولُوا ‌لَا ‌إِلَهَ ‌إِلَّا ‌اللهُ ‌تُفْلِحُوا (مسند احمد، حدیث نمبر 16603)۔ یعنی، اے لوگو، لا الہ الا اللہ کہو کامیاب ہوجاؤگے۔ اِسی طرح قرآن کے جو حصے مکی دور میں ناز ل ہوئے تھے،آپ ان کو پڑھ کر لوگوں کو سناتے۔ چنانچہ سیرت کی کتابوں میں آپ کے بارے میں یہ آتا ہے کہ آپ لوگوں سے مل کراُن کو اسلام کی دعوت پیش کرتے اور ان کے سامنے قرآن کے کچھ حصے پڑھ کر سناتے عَرَضَ ‌عَلَيْهِمْ ‌الْإِسْلَامَ، وَتَلَا ‌عَلَيْهِمْ ‌الْقُرْآنَ( سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ 428)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک سوال یہ تھا کہ اسلام میں سیاسی اقتدار کی حیثیت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار ایک ثانوی (secondary) چیز (اُخریٰ) کی حیثیت رکھتا ہے (الصف، 61:13)۔ اسلام میں سیاسی اقتدار کو مطلوب اول کادرجہ حاصل نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پروگرام کے بعد میں اپنے کمرے میں واپس آگیا۔ یہاں کئی علما اکٹھا ہوگئے اور دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ اِس مجلس میں ایک بات میں نے یہ کہی کہ اسلام میں عقل کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ میں نے اِس سلسلے میں حاضرین کو ایک حدیث سنائی۔ اس کے الفاظ یہ ہیں مَا خَلَقَ اللهُ خَلْقًا أَكْرَمَ عَلَيْهِ مِنَ الْعَقْلِ (العقل و فضلہ لابن ابی الدنیا، حدیث نمبر 14)۔یعنی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کیں، اُن میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت کی حامل چیز عقل ہے۔ عجیب بات ہے کہ بعد کے لوگوں نے عقل کو غیر اہم قرار دے دیا اور ساری اہمیت عشق کو دے دی، یہاں تک کہ ایک معروف مسلم شاعر نے کہا 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عشق تمام مصطفی، عقل تمام بولہب

یہ بلاشبہ ایک فکری انحراف تھا۔ اِس غلطی کا سبب غالباً یہ تھا کہ بعد کے لوگوں نے عقل کو فلسفہ کی نسبت سے دیکھا۔ اگر وہ عقل کو سائنس کی نسبت سے دیکھتے تو وہ کبھی اِس غلطی میں مبتلا نہ ہوتے۔عقل ایک فطری صلاحیت کا نام ہے جو خدا کی ایک تخلیق ہے۔ اس کے مقابلے میں فلسفہ خود انسان کے اپنے بنائے ہوئے ایک علم کا نام ہے، جو صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔سائنس اور فلسفہ میں یہ فرق ہے کہ فلسفہ قیاسی منطق (sylogism) پر مبنی ہے، اور سائنس مکمل طورپر قوانین فطرت پر مبنی ہے۔ سائنس میں اگر کوئی غلطی ہوتی ہے تو وہ ناقص دریافت کی بنا پر ہوتی ہے، نہ کہ خود ساختہ قیاس کی بنا پر۔

ایک صاحب نے سوال کیا کہ قرآن کی آیت اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَرُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللهِ (9:31) کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اِس آیت کی وضاحت ایک مشہور روایت سے ہوتی ہے۔ عدی بن حاتم الطائی (وفات 68ھ) پہلے نصرانی تھے۔ وہ بعد کو اسلام میں داخل ہوگئے۔وہ مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ آپ نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی۔ تو انہوں نے کہا کہ یہود ونصاریٰ نے اپنے احبار ورہبان کو اپنا رب نہیں بنایا، انہوں نے کبھی اپنے احبار ورہبان کی عبادت نہیں کی (وَاللهِ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَهُمْ) ،آپ نے فرمایا کہ ہاں، اُن کے احبار ورہبان نے حلال کو حرام کیا اور حرام کو حلال کیا اور انہوں نے اس کو مان لیا۔ یہود ونصاری کی یہی روش ان کے احبارورہبان کی عبادت کے ہم معنی تھی فَتِلْكَ عِبَادَتُهُمْ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، حدیث نمبر 291؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 3095)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

قرآن کی مذکورہ آیت میں رب کا لفظ آیا ہے۔ یہ اِس معاملے میں برائی کی شدت کو بتانے کے لیے ہے۔ انہوں نے جو کیا تھا، وہ یہ تھا کہ خدا اور رسول کے حوالے کے بجائے ، اپنے احبار ورہبان کا حوالہ دے کر کسی چیز کو ترک کرتے یا کسی چیز کو اختیار کرلیتے۔ حدیث میں تحلیلِ حرام اور تحریمِ حلال کا لفظ بھی اِسی معاملہ کی برائی کو بتانے کے لیے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کے لیے اپنے علما ومشائخ (احبار ورہبان) کو مستقل بالذات مرجع (reference) سمجھ لیا۔

میں نے اِس مجلس میں جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ حدیث کی کتابوں میں ایک ایسے گروہ (عصابۃ) کا ذکر ہے جو ہند میں غزوہ کرے گا۔ اس گروہ کے لیے حدیث میں جہنم کے عذاب سے نجات کی خوش خبری دی گئی ہے۔ اِس حدیث میں ’’غزوہ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں عِصَابَة تَغْزُو الهِنْدَ (سنن النسائی، حدیث نمبر 3175)۔ یہاں غزوہ سے مراد مسلح جنگ نہیں، بلکہ پُرامن دعوتی عمل ہے۔ اس کے تحت اقوام عالم کے درمیان تعارفِ اسلام کی اہمیت کو بیان کیا۔ آخر میں میں نے کہا کہ ’’عصابہ‘‘ کی نسبت سے جو بات میں نے کہی ہے، وہ کوئی فخر یا فضیلت یا ادّعاکی بات نہیں ہے۔ اس عصابہ کا حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ میں نے جو بات کہی، اس کی حیثیت صرف ایک ذمے داری کی تشخیص کی ہے۔ اِس تشخیص کا تقاضا ہے کہ آپ حضرات اب مزید یقین کے ساتھ اِس عمل میں ہمہ تن سرگرمِ عمل ہوجائیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

9 جون 2010 کے پروگرام کے بعد عصر کی نماز مسجد میں پڑھی گئی۔ نماز سے فراغت کے بعد ہم لوگ جامعہ کے کلیہ ہال میں گئے۔ وہاں ایک خطاب کا پروگرام تھا۔ اِس کا موضوع تھا آخرت رخی زندگی۔ یہ ایک گھنٹے کا خطاب تھا۔ میں نے کہا کہ آخرت رخی زندگی کا فارمولا حدیث کے مطابق، یہ ہے حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا، وَزِنُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُوزَنُوا (مسند الفاروق، جلد 2، صفحہ618 )۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ اِس دنیا میں زندگی کی دو صورتیں ہیں— ایک ہے وہ زندگی جو مبنی بر حبِّ عاجلہ (القیامۃ، 75:20) ہو، یعنی صرف آج کی بنیاد پر منصوبہ بندی۔ اور دوسری زندگی ہے مبنی بر آجلہ، یعنی حیات بعد الموت کو لے کر زندگی کا نقشہ بنانا۔ اِس کے بعد میں نے رسول اور اصحاب رسول کے مختلف واقعات سنائے جو آخرت رخی زندگی کے معاملے میں عملی ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آخر میں ناظمِ اجتماع کی طرف سے لوگوں کو سوال وجواب کا موقع دیا گیا۔ چند منٹ تک کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ جامعہ کے اساتذہ اور دیگر علما کے علاوہ مولانا کاکا سعید احمد عمری بھی اِس پروگرام میں موجودتھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطاب اتنا زیادہ واضح اور فکر انگیز ہے کہ اِس کے بعد کسی سوال کی کوئی ضرورت نہیں۔ چنانچہ یہ پروگرام سوال وجواب کے بغیر ختم ہوگیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پروگرام کے بعد ہم لوگ جامعہ کے دفتر میں بیٹھ گئے اور مغرب تک وہاں غیر رسمی انداز میں گفتگو ہوتی رہی۔ اِس مجلس میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ الرسالہ کے قاری ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے الرسالہ کے مطالعے سے کیا پایا۔ انہوں نے کہا کہ — سادگی اور اسلام کا فطری تصور۔

میں نے کہا یہ اُس کا صرف ایک پہلو ہے۔ الرسالہ کا اصل مقصد ہے لوگوں کے اندر مثبت طرزفکر(positive thinking)پیدا کرنا، یعنی منفی حالات کے باوجود ہمیشہ مثبت ذہن کے تحت سوچنا۔ الرسالہ کی کوشش یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اِس قسم کی ذہنی بیداری لائی جائے۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہی خلاصہ ایمان ہے۔ جنت میں وہی لوگ داخلہ پائیں گے جو اپنے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کریں۔ قرآن کے مطابق، جنت دار السلام (10:25) ہے۔ منفی ذہن کے لوگوں کو جنت میں داخلہ ملنے والا نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ میں صبر کے بارے میں بہت مضامین آتے ہیں۔ صبر کیا ہے۔ کیا صبرکا مطلب کمپرومائز (compromise) کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں، کمپرومائز الگ چیز ہے اور صبر الگ چیز۔ کمپرومائز، مصلحت (expediency) کے تحت ہوتا ہے، جب کہ صبر حکیمانہ منصوبہ بندی کا نام ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

10 جون 2010 کو صبح کی نماز کے بعد ہم لوگوں نے کچھ دیر تک جامعہ کے کیمپس میں واک کیا۔ اس کے بعد ہم لوگ کاکا فیملی کے ایک فرد جناب کاکا حامد صاحب کی رہائش گاہ پر گئے۔ میں نے پیشگی طورپر کہہ دیا تھا کہ وہاں صرف چائے ہوگی، اس کے سوا کچھ اور نہیں۔ چنانچہ اس کے مطابق عمل کیاگیا۔ یہ ایک غیر رسمی نشست تھی۔ اس میں مولانا کاکا سعید احمد عمری کے علاوہ تقریباً پندرہ علما شریک تھے۔

اِس مجلس میں تقریباً ایک گھنٹے تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان، عالم اور غیر عالم، عرب اور غیر عرب سب ایک مشترک برائی میں مبتلا ہیں اور وہ منفی سوچ (negative thinking) ہے۔

منفی سوچ ایک قاتل سوچ ہے۔ وہ آدمی کی دنیا کو بھی تباہ کرتی ہے اور آخرت کو بھی تباہ کردیتی ہے۔ منفی سوچ کا پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آدمی فیضانِ خداوندی (divine inspiration)سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر وہ ربانی شخصیت نہیں بنتی جس کو قرآن میں قلبِ سلیم (26:89) کہاگیا ہے۔ منفی سوچ کا دوسرا عظیم تر نقصان یہ ہے کہ ایسا آدمی آخرت کی اعلیٰ جنت میں داخلے کے لیے محروم قرار پاتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اِس معاملے میں سخت محتاط رہے اور کسی بھی عذر کی بنا پر وہ ادنیٰ درجے میں منفی سوچ کا شکار نہ ہو۔ ہر دوسرا نقصان بلا شبہ منفی سوچ میں مبتلا ہونے سے کم ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک صاحب نے کہاکہ علمائے سلف پر علمی تنقید تو علمائے راسخین کے درمیان جاری رہی ہے،لیکن مجھے آپ کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ علمائے سلف کا اعتراف نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ یہ صرف ایک غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں آپ لوگوں سے زیادہ اسلاف کا اعتراف کرتاہوں۔ آپ لوگ تو صرف فضائل بیان کرتے ہیں۔ میں نے خاص علمی اور تاریخی اعتبار سے اسلاف کے رول کی اہمیت کوواضح کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اِس معاملے کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو کا میں بہت زیادہ اعتراف کرتا ہوں۔ یہ پہلو ہے— علوم اسلامی کی تدوین، دینی علم کا تسلسل بعد کی نسلوں میں جاری رکھنا، مصادرِ شریعت کو اس کی اصل صورت میں محفوظ رکھنا، وغیرہ۔ یہ سب کام بلا شبہ ہمارے اسلاف نے انجام دیا ہے۔ یہ بلاشبہ بہت بڑا کام ہے۔ اِس کام کی اہمیت اس موازنہ سے سمجھی جاسکتی ہے کہ اِس قسم کے علما اور محققین دوسرے مذاہب میں پیدا نہیں ہوئے۔ چنانچہ دوسرے مذاہب اپنی اصل حالت میں محفوظ نہ رہ سکے۔ یہ ہمارے اسلاف کا کارنامہ ہے کہ دینِ اسلام آج پوری طرح محفوظ حالت میں موجود ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس معاملے کا دوسرا پہلو وہ ہے جو جدید حالات سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ جدید حالات تقریباً تین سو سال سے دنیا میں موجود ہیں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ اِس دور کے علما نئے حالات کو سمجھ نہ سکے۔ وہ بدلے ہوئے حالات کے اعتبار سے مسلمانوں کو صحیح رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے غلط اقدامات کرکے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو شدید نقصان میں مبتلا کردیا۔

اِس مجلس میں اور بعض دوسری مجلسوں میں میں نے دیکھا کہ کاکا فیملی کے کئی افراد وہاں شریک تھے، لیکن ان کے اندر میں نے یہ انوکھی صفت پائی کہ جب کوئی سینئر شخص بولتا تھا تو فیملی کے تمام جونیئر ممبران خاموش رہ کر اس کی بات سنتے تھے۔ یہ قدیم روایت (tradition) کاکا فیملی میں اب بھی پوری طرح موجود ہے۔کاکا حامد صاحب کے یہاں سے فارغ ہو کر ہم لوگ کمرے میں آگئے۔ یہاں صبح کا سادہ ناشتہ کیاگیا۔ یہ ناشتہ وہی تھا جو یہاں طلبا کو روزانہ دیا جاتا ہے۔ ناشتے کے وقت ہمارے ساتھ کئی علما اور دُعاۃ موجود تھے۔ اِن لوگوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔

ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ مشن سے علما بہت کم جڑے ہوئے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں۔علما اپنے روایتی ذہن کی بنا پر اب تک الرسالہ مشن سے بہت کم جڑ سکے تھے، مگر اب خدا کے فضل سے انڈیا اور انڈیا کے باہر کے مختلف مدارس اور مکاتب فکر کے سنجیدہ علما بڑی تعداد میں الرسالہ مشن سے جڑ گئے ہیں۔ اپریل 2010 میں الرسالہ مشن کی طرف سے دہلی میں جو دعوہ میٹ (Dawah Meet)ہوئی تھی، اس میں شرکت کرنے والے صرف علما کی تعداد تقریباً 25 تھی۔میں نے کہاکہ ذاتی ملاقاتوں، ٹیلی فون اور خطوط کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ علما کے درمیان الرسالہ اور اس کے تحت تیار کردہ لٹریچر بڑے پیمانے پر مقبولیت حاصل کررہا ہے۔ خاص طورپر علما کے درمیان الرسالہ مشن کو متعارف کرنے میں میرے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی کا بہت بڑا رول ہے۔ وہ ایک سنجیدہ اور معتدل مزاج کے آدمی ہیں۔ علما سے ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ انہوں نے خاموش پلاننگ کے ذریعے علما کے تقریباً تمام حلقوں تک الرسالہ مشن کے دعوتی پیغام کو پہنچا دیا ہے۔ جامعہ دارالسلام کا یہ پروگرام بھی انھیں کی بالواسطہ کوششوں کے ذریعہ ممکن ہوسکا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

10 جون 2010 کی صبح کو دس بجے سے بارہ بجے تک لائبریری کے ہال میں ایک پروگرام تھا۔ اِس پروگرام کا موضوع یہ تھا عصری اسلوب میں سیرتِ رسول کا تعارف۔ اِس پروگرام میں علما اور دعاۃ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

میں نے اپنے خطاب میں جو کچھ کہا، وہ یہ تھا کہ پیغمبر اسلام ﷺ کا ایک ہی ابدی مشن ہے، اور وہ دعوت ہے۔ زمانہ کے اعتبار سے اس میں جو فرق ہوتا ہے، وہ صرف طرز خطاب اور اسلوب (idiom) کے اعتبار سے ہوتا ہے، نہ کہ خودمشن کے اعتبار سے۔ پیغمبر اسلام کا مشن اول بھی دعوت ہے اور آخر بھی دعوت۔ ’حجۃ الوداع‘ کے بعد اصحابِ رسول کی بڑی تعداد عرب کے باہر مختلف ملکوں میں چلی گئی۔ وہاں انہوں نے لوگوں کو دینی معنی میں اسلامائز کیا، نہ کہ سیاسی معنی میں۔ موجودہ زمانے میں سیاسی اسلامائزیشن کا چرچا ہے، مگر رسول اور اصحاب رسول کے ماڈل سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

میںنے کہا کہ دعوت الی اللہ کا کام ایسا نہیں ہے جس کو ایک بار کردیا جائے اور پھر اس کی ضرورت باقی نہ رہے۔ دعوت کا عمل ایک مسلسل عمل (continuous process) ہے، کیوں کہ انسان پیدا ہوتے ہیں اور کچھ دن زندہ رہنے کے بعد مرجاتے ہیں۔ اِس طرح بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک جنریشن کے بعد دوسری جنریشن آجاتی ہے۔ اِس لیے ہر جنریشن میں دعوتی کام کرنا ضروری ہے، تاکہ تمام انسانوں تک ان کے خالق کا پیغام پہنچ جائے۔

خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال یہ تھا کہ قرآن میں  وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ (8:60) آیا ہے۔ اِس میں اعدادِ قوت سے کیا مراد ہے۔ میں نے کہا کہ خود قرآن کی آیت میں اِس کا معیار بتادیاگیا ہے، اور وہ اِرہاب ہے، یعنی وہ قوت فراہم کرو جو فریق ثانی کے نزدیک قوتِ مرہبہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں جنگی ہتھیار کی حیثیت قوتِ مرہبہ کی نہیں ہے، بلکہ سائنسی علوم کو یہ حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ زمانے میں امریکا اس کی ایک مثال ہے۔ امریکا کے پاس ہر قسم کے جنگی ہتھیار موجود ہیں، لیکن ان کو استعمال کرنے کے باوجود وہ ویت نام، عراق، افغانستان، وغیرہ میں مکمل طورپر ناکام ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک سوال قرآن کی اِس آیت کے بارے میں تھا أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (22:39)۔ میں نے کہا کہ اِس آیت سے یہ مطلب نکالا جاتا ہے کہ کسی فریق کے ساتھ ظلم کا واقعہ ہو تو اہلِ اسلام کے لیے جنگ جائز ہوجاتی ہے، مگر یہ ایک شدید غلط فہمی ہے۔ یہ مدنی آیت ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، مکی دور میں افراد کے ساتھ بار بار ظلم کیاگیا، لیکن اُس وقت یہ آیت نہیں اتری۔ یہ آیت ہجرت کے بعد مدینہ میں اتری۔ اِس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی اِس آیت میں ظلم سے مراد انفرادی ظلم نہیں ہے، بلکہ فوجی حملہ ہے، یعنی ایک بیرونی حکومت کا مسلم حکومت پر باقاعدہ فوج کے ذریعے حملہ آور ہونا۔

اِس معاملے میں دوسری بات یہ ہے کہ جب فوج کے ذریعے اِس قسم کا جارحانہ حملہ کیا جائے تو اُس وقت بھی صرف حکومت کو دفاعی جنگ (defensive war) کی اجازت ہوگی۔ غیر حکومتی افراد اور تنظیموں (NGOs) کو اُس وقت بھی مسلح جنگی کارروائی کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ موجودہ زمانے کے علما، عرب اور غیر عرب دونوں نے، جو شدید ترین غلطی کی ہے، وہ یہ کہ انہوں نے ظلم کے نام پر غیرحکومتی عسکریت (non-governmental militancy) کو شرعی اعتبار سے جائز قرار دیا۔ بلاشبہ یہ ایک مہلک غلطی تھی۔مجھے اس معاملے میں کسی عرب یا غیر عرب عالم کا استثنا نظر نہیں آتا۔

ہمارے یہاں سے قرآن کا جو انگریزی ترجمہ شائع کیاگیا ہے، اس کی بابت پروگرام کے آخر میں جناب ریاض موسی صاحب نے بتایا کہ میں نے انگریزی جاننے والے افراد کی ایک ٹیم کو یہ ترجمہ دیا۔ اور میں نے کہا کہ دوسرے انگریزی تراجم سے اِس کا تقابل کرنے کے بعد مجھ کو بتائیے کہ کون سا ترجمہ سب سے زیادہ واضح اور عصری زبان میں ہے۔ عجیب بات ہے کہ تقابل کرنے کے بعد ان لوگوں نے متفقہ طورپر کہا کہ صرف گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) سے شائع ہونے والا انگریزی ترجمہ اِس معیار پر پورا اترتا ہے۔ اس میں پوری طرح وضوح (clarity) ہے، اور اِسی کے ساتھ وہ اتنی آسان زبان میں ہے کہ اس کو ڈکشنری کی مدد کے بغیر پڑھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی تراجم میں سب سے زیادہ قابلِ فہم ترجمہ ڈاکٹر بشیر محی الدین (افریقہ) کا ترجمہ مانا جاتا ہے، لیکن گڈ ورڈ سے شائع ہونے والا ترجمہ اس سے بھی زیادہ واضح اور قابلِ فہم ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

10 جون 2010 کو ظہر کی نماز کے بعد خطاب کا ایک پروگرام تھا۔ یہ پروگرام جامعہ کے کلیہ ہال میں کیا گیا۔ اِس میں دعاۃ اور طلبا کے علاوہ، جامعہ کے اساتذہ بھی شریک ہوئے۔ اِس پروگرام کا موضوع یہ تھا سیرت ایک تحریک کی حیثیت سے۔ اِس موضوع پر میں نے ڈیڑھ گھنٹے کی ایک تقریر کی۔ اِس تقریر کا خلاصہ یہاں مختصر طور پر نقل کیا جاتاہے۔

میں نے کہا کہ تحریک (movement) ایک ایسا عمل ہے جو ایک شخص یا گروہ کی طرف سے دوسرے گروہ کے مقابلے میں برپا ہوتا ہے۔ اِس طرح کسی تحریک کے تقاضے دو طرفہ ہوجاتے ہیں، یعنی ایک طرف داعی کی نسبت سے اور دوسری طرف مدعوکی نسبت سے۔ آپ نماز خود اپنے فیصلے کے تحت پڑھ سکتے ہیں،لیکن تحریک کی کامیابی اِس میں ہے کہ آپ دوسروں کو بھی بخوبی طورپر جانیں اور دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں اِس کا اعلیٰ نمونہ پایا جاتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے میں اٹھنے والی مسلم تحریکیں اپنے مطلوب نتیجے کے اعتبار سے ناکام ہوگئیں۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ اِن تحریکوں کے چلانے والے صرف اپنے آپ کو جانتے تھے، دوسروں کے بارے میں وہ پوری طرح بے خبر تھے۔

میں نے جہاں تک سیرتِ رسول کا مطالعہ کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اِس معاملے میں پیغمبر اسلام ﷺ کے طریقے کو ایک لفظ میں پازیٹیو اسٹیٹس کوازم (positive statusquoism) کہا جاسکتا ہے، یعنی دوسروں کی مکمل رعایت کرتے ہوئے انتہائی حد تک غیر نزاعی انداز میں اپنا کام کرنا۔ رسول اللہ ﷺ کی اِس حکیمانہ پالیسی کا اعتراف برطانی مستشرق ای ای کلیٹ (EE Kellett) نے اپنے الفاظ میں اس طرح کیا ہے — انہوں نے مشکلات کا سامنا اِس عزم کے ساتھ کیا کہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

He faced adversity with the determination to wring success out of failure. (A Short History of Religions by E.E. Kellet, pp. 331-32)

other sourceWords of another person or source

سیرتِ رسول کے اِس پہلو کو میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان کیا اور اس کی وضاحت کے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے بہت سے واقعات بیان کیے۔

پروگرام کے بعدحاضرین کو سوال وجواب کا وقت دیاگیا، مگر کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ چنانچہ جلسے کے اختتام کا اعلان کردیاگیا۔ مولانا کاکا سعید احمد عمری نے اِس خطاب کے بارے میں کہا کہ یہ سیرتِ رسول کے موضوع پر سب سے اچھا خطاب تھا۔ کاکا صاحب نے جامعہ کے لوگوں سے کہا کہ وہ اِس پورے خطاب کو جامعہ کے ترجمان ماہ نامہ ’’راہِ اعتدال‘‘ میں شامل کریں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پروگرام کے خاتمہ پر ہم لوگ عصر کی نماز کے لیے مسجد میں گئے۔ مسجد کافی کشادہ، مگر نہایت سادہ تھی۔ مسجد کی دیواروں پر اُس قسم کی کوئی چیز موجود نہ تھی جو اکثر مسجدوں میں ہوتی ہے اور نمازیوں کے لیے ڈسٹریکشن کا کام کرتی ہے۔ یہ مسجد مکمل طورپر سادہ اور مکمل طورپر پرسکون تھی۔ طلبا کے اندر نہایت سنجیدگی اور ڈسپلن دکھائی دے رہا تھا۔

نماز عصر سے فراغت کے بعد ہم لوگ لائبریری میں اپنی قیام گاہ پر آگئے۔ یہاں لائبریری کے باہری ہال میں کئی دوسرے مقامات کے لوگ اکٹھا تھے۔ مثلاً وانیمباڑی (تمل ناڈو)، بنگلور، حیدرآباد،وغیرہ۔ اِن لوگوں سے دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک بات میں نے وقت کے بارے میں کہی۔ کچھ لوگ ایسے تھے جو ہمارے پروگرام میں شرکت کے لیے آئے، لیکن وہ یہاں دیر میں پہنچے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک بے شعوری کی بات ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی کے لیے دو میں سے ایک کا اختیار ہے— یا تو وقت پر آنا، یا پھر نہ آنا۔ اِس کے سوا تیسری کوئی صورت نہیں۔

ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل مسلمانوں کا یہ حال ہوگیا ہے کہ وہ معاملے کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ طریقہ بالکل لا حاصل ہے۔ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے ‌اتّقُوا ‌فِراسَةَ ‌المؤمنِ، فإنَّه يَنْظُرُ بِنُورِ اللهِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3127)۔ یعنی، مومن کی فراست سے بچو، کیوں کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اِس حدیث کے مطابق، سچا ایمان آدمی کے اندر ایک ربانی روشنی پیدا کرتا ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مومن کی منصوبہ بندی کے مقابلے میں، دوسرے لوگ دفاعی پوزیشن میں آجاتے ہیں۔ اِس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ مسلمان دوسروں کے خلاف شاکی بنے ہوئے ہوں تو اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ فراستِ ایمانی سے محروم ہیں۔ اِس لیے ایسا ہوا ہے کہ اُن کے مقابلے میں، دوسروں کو بالادستی حاصل ہوگئی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بنگلور کے حلقہ الرسالہ کے تقریباً 15 لوگ ملاقات کے لیے آئے۔ میں نے اُن سے دعوت اور آخرت کے موضوع سے متعلق کچھ باتیں کہیں جس کو سن کر وہ رونے لگے۔ انہوں نے مجھ سے نصیحت کے لیے کہا۔ میں نے کہا کہ میں آپ لوگوںکو صرف ایک نصیحت کروں گا۔وہ یہ کہ آپ آج سے اِس بات کا فیصلہ کرلیں کہ آپ کو اپنے اندر ’’قلب سلیم‘‘ پیدا کرنا ہے اور اِسی حال میں آپ کو جینا اور اسی حال میں مرجانا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک ایسے آدمی کی نصیحت ہے جو قبر کے کنارے کھڑے ہو کر آپ کو یہ نصیحت کررہا ہے۔

جامعہ کے ایک استاد حافظ شیخ کلیم اللہ عمری مدنی ملاقات کے لیے آئے۔ انہوں نے اپنے چند کتابچے برائے مطالعہ پیش کیے۔ مثلاً محبتِ الٰہی کے ذرائع اور اخلاقیات، وغیرہ۔ اِس موقع پر جامعہ کے ایک نوجوان اور سنجیدہ استاذ مولانا حافظ محمد ابراہیم عمری نے اپنی کتاب ’’انتہاپسندی اور اسلام‘‘ مطالعے کے لیے دی۔ یہ ایک اچھی کتاب ہے۔ وہ 216 صفحات پر مشتمل ہے۔

10جون 2010 کو عصر کی نماز کے بعد جامعہ کے ایک سینئر استاد مولانا ڈاکٹر سعید احمد عمری ملاقات کے لیے آئے۔ اُن سے بعض مسائل پر گفتگو ہوئی۔ ایک مسئلہ یہ تھا کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے علمی انحطاط کا سبب کیا ہے، جب کہ ماضی میں وہ علمی ترقی کے اعتبار سے ممتاز مقام پر پہنچ گئے تھے۔ میں نے کہا کہ جب ہم مسلمان یا ملتِ مسلمہ کا لفظ بولتے ہیں تو شعوری یا غیر شعوری طورپر ہم اس کو ایک تسلسل کے روپ میں دیکھنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ یہ بات خلافِ واقعہ ہے۔میں نے کہا کہ مسلمانوں کا یہ معاملہ سادہ طورپر مسلمانوں کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ مسلمانوں کی دو مختلف نسلوں کا معاملہ ہے، یعنی دورِ عروج کی مسلم نسلیں اور دورِ زوال کی مسلم نسلیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا علمی زوال ان کے اپنے نسلی زوال کا نتیجہ ہے، اور دورِ زوال میں یہ ہر قوم کے ساتھ پیش آتا ہے۔

ایک سوال یہ تھا کہ مطالعہ قرآن کا اصول کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مطالعہ قرآن کے بہت سے اصول علما نے لکھے ہیں، لیکن میرے اپنے تجربے کے مطابق، سب سے بڑا اصول دعاہے۔اِس سلسلے میں مجھ کو امام ابن تیمیہ کا طریقہ بہت پسند ہے۔ انہوںنے لکھا ہے کہ بعض مرتبہ ایک آیت کو سمجھنے کے لیے میں نے سو سو تفسیروں کا مطالعہ کیا ہے۔ مطالعہ کے بعد میں اللہ تعالیٰ سے آیت کے فہم کی دعا کرتے ہوئے کہتا ہوں يَا مُعَلِّمَ ‌إبْرَاهِيمَ ‌عَلِّمْنِي (اعلام الموقعین لابن القیم، جلد4، صفحہ 198)۔ یعنی، اے ابراہیم کو سکھانے والے مجھے بھی سکھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے اللہ سے دعا کرنا گویا کہ کسی کتاب کو سمجھنے کے لیے اس کے مصنف سے کنسلٹ کرنا ہے۔ قرآن واحد کتاب ہے جس کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ آپ ہر لمحہ اس کے مصنف سے کنسلٹ کرسکتے ہیں۔ اِس کو سن کر ڈاکٹر سعید احمد عمری نے کہا کہ مطالعۂ قرآن کے لیے آج شاہ کلید ہاتھ آگئی۔ اِس مجلس میں دوسرے کئی علما موجودتھے۔ مولانا کاکا سعید احمد عمری نے کہا کہ امام ابن تیمیہ کی یہ بات ہم بہت پہلے سے جانتے تھے، لیکن آج آپ کی زبان سے اس کی اثر انگیز تفصیل سن کر اس کی معنویت پوری طرح کھل گئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک سوال یہ تھا کہ مسلم تاریخ جو بعد کو لکھی گئی، وہ زیادہ تر مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کے ہم معنی بن گئی ہے۔ مسلم سرگرمیوں کے دوسرے پہلو مثلاً دعوت وتبلیغ کے تفصیلی واقعات اس میں شامل نہ ہوسکے۔ اب اِس کمی کی تلافی کس طرح کی جاسکتی ہے۔

میں نے کہا کہ بظاہر اب اِس کی تلافی ممکن نہیں۔ کیوں کہ تاریخ (history) ناول کی طرح محض اپنے ذہن سے نہیں لکھی جاسکتی۔ اس کے لیے ضروری معلومات (data) درکار ہے جو کہ عملاً موجود نہیں۔ میں نے کہا کہ اِس ضرورت کا احساس بہت پہلے عبد الرحمٰن بن خلدون (وفات 1406ء) کو ہوا تھا۔ انہوں نے اِس موضوع پر ایک کتاب لکھنے کا منصوبہ بنایا اور اس کے آغاز میں ایک مفصل مقدمہ لکھا۔ اِس کے بعد انہوں نے سات جلدوں میں ایک کتاب لکھی جس کا نام یہ ہے الْعِبَرُ وَدِيوَانُ الْمُبْتَدَإِ وَالْخَبَرِ فِي تَارِيخِ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ وَالْبَرْبَرِ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لیکن خود ابن خلدون اپنی اِس تاریخ کو اُن اصولوں کے مطابق، تیار نہ کرسکے جس کو انہوں نے اپنے ’’مقدمہ‘‘ میں تحریر کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مقدمہ تو وہ اپنے ذہن سے لکھ سکتے تھے، لیکن ایک نئی تاریخ لکھنے کے لیے بنیادی معلومات (data) کی ضرورت تھی اور وہ موجود نہ تھیں۔ اب اگر کوئی شخص بہت زیادہ محنت کرے تو وہ مختلف ماخذ سے اِس نوعیت کی کچھ معلومات حاصل کرسکتا ہے، لیکن وہ معلومات اتنی زیادہ نہ ہوںگی کہ پوری تاریخ از سرِ نو لکھی جاسکے۔

پوری مسلم تاریخ کو اب از سرِ نو مرتب کرنا تو ممکن نہیں، لیکن میری یہ تمنا ہے کہ سیرتِ رسول کے موضوع پر ایک نئی کتاب تیار کروں۔ اگر ایک پوری ٹیم کے ساتھ احادیث رسول کا اور دوسرے متعلق ذخائر کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو امید ہے کہ سیرت کے موضوع پر ایک نئی کتاب تیار کی جاسکتی ہے۔ سیرت کے موضوع پر جوکتابیں لکھی گئی ہیں، وہ غزواتی پیٹرن پر لکھی گئی ہیں، جب کہ سیرت کے موضوع پر صحیح کتاب وہ ہے جو دعوتی پیٹرن پر لکھی جائے۔ میں نے جزئی طورپر یہ کام کیا ہے، لیکن کلی طورپر اِس کام کو انجام دینا ابھی باقی ہے۔

آخر میں میں نے اپنی دو کتابیں اپنے دستخط کے ساتھ ڈاکٹر سعید احمد عمری کو بطور تحفہ پیش کیں— اللہ اکبر، پیغمبر انقلاب۔ اِس کے بعد مغرب کی نماز لائبریری ہال میں جماعت کے ساتھ پڑھی گئی۔ نماز میں تقریباً 15 علما موجود تھے۔ اِس نماز کی امامت میرے ساتھی مولانا حافظ محمد ذکوان ندوی نے کی۔ مغرب کے بعد میری قیام گاہ پر کئی علما آگئے۔ ان سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔

اِس مجلس میں میں نے جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ حدیث کی کتابوں میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ باربار استغفار کرتے تھے۔ بعض روایات کے مطابق 70 بار، بعض روایات کے مطابق، 100 بار اور بعض روایتوں کے مطابق، اِس سے بھی زیادہ بار آپ استغفار فرماتے تھے۔ شارحینِ حدیث نے اِس کی تاویل میں لمبی بحثیں کی ہیں، لیکن اصل یہ ہے کہ یہ عجز کا ظاہرہ تھا۔ عجز کی دریافت بلاشبہ کسی مومن کی سب سے بڑی دریافت ہے۔ خدا کے تمام پیغمبر اِس معاملے میں کمال کے درجے پر تھے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر احساسِ نبوت میں نہیں جیتا، بلکہ وہ احساسِ عبدیت میں جیتا ہے۔ رب العالمین کے مقابلے میں کسی انسان کے پاس جو سب سے بڑا سرمایہ ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ عجز ہے۔اِس کے بعد ہم لوگ جامعہ کی مسجد میں گئے اور وہاں عشاء کی نماز با جماعت ادا کی۔باہر ہلکی بارش ہورہی تھی، اِس لیے عشاء کی نماز کے بعد دوبارہ ہم لوگ لائبریری میں اپنی قیام گاہ پر واپس آگئے۔ یہاں دوبارہ کچھ طلبا اور اساتذہ اکٹھا ہوگئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مولانا سید اقبال احمد عمری نے جامعہ دارالسلام کے متعدد اساتذہ سے الرسالہ مشن کے بارے میں ان کے تاثرات معلوم کیے، جو انھیں کے الفاظ میں یہاں مختصراً نقل کیے جاتے ہیں

1 ۔ ’’مولانا وحید الدین خاں صاحب سے میرے تعلقات بہت پرانے ہیں۔ مجھے ان کی مختلف تحریریں پڑھنے کو ملیں۔ ان تحریروں میں اسلام اور متعلقات اسلام پر ان کے جدید اندازِ تعبیر نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اِس طرح مجھ کو مولانا سے ایک قلبی اور روحانی تعلق پیدا ہوگیا۔ جامعہ کے جشن طلائی کے موقع پر جب مولانا یہاں آئے تو اپنے دلی تعلق کی وجہ سے میں نے مولانا کو دوسرے مہمانوں کے ساتھ ٹھہرانے کے بجائے اپنے خاص کمرے میں ٹھہرایا تھا۔ میں مولانا کی تحریروں کا شائق تھا۔ چنانچہ جب مولانا کی کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ کا اشتہار دیکھا تو اس کے نسخے منگوائے۔ خود بھی پڑھا اور کچھ دوسرے احباب کو بھی پڑھنے کے لیے دیا۔ جہاں تک مولانا سے متاثر ہونے کا سوال ہے، یہاں خلاصہ کے طورپر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان سے میں بہت متاثر ہوں۔ وہ اپنے طرزِ تعبیر میں منفرد ہیں۔ وہ اپنے طرز تعبیرکے موجد بھی ہیں اور متبع بھی۔ مولانا کا علم بہت گہرا ہے۔ اسلام کی تعبیر کا جو خاص ملکہ ان کو حاصل ہے، وہ منفرد اور قابلِ مطالعہ ہے۔ میں الرسالہ کا قاری ہوں۔ ابھی وہ میرے گھر آتا ہے۔ مولانا کے علمی استدلال کے انداز سے سب کو فائدہ اٹھانا چاہیے، نہ یہ کہ خواہ مخواہ اس سے علمی استفادہ کرنے سے دور رہیں‘‘۔ (حضرت مولانا ظہیر الدین اثری رحمانی، سابق شیخ الحدیث، جامعہ دارالسلام، عمر آباد)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

2۔ ’’مولانا وحید الدین خاں صاحب کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کو وقت کی زبان اور اسلو ب میں پیش کرنا، ایک کامیاب طریقہ ہے۔ جو لوگ مولانا کے لٹریچر سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، یا براہِ راست ان سے استفادہ کررہے ہیں، اس کے مطابق، ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کو پیش کرنے کا یہ طریقہ زیادہ مناسب بھی ہے اور مستحسن بھی۔ میں الرسالہ دیکھتا ہوں۔ تذکیر القرآن کا جستہ جستہ مطالعہ کیا ہے۔ آئندہ اس کو بالاستیعاب مطالعہ کرنے کا ارادہ ہے۔ مولانا کے پاس وقت کی زبان اور وقت کے اسلوب میں اسلام کو پیش کرنے کا اچھا طریقہ ہے ‘‘۔ (حضرت مولانا سید عبدالکبیر عمری، شیخ التفسیر، جامعہ دار السلام، عمرآباد)

other sourceWords of another person or source

3 ۔ ’’مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتابوں میں میری سب سے پسندیدہ کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ ہے۔ اِس میں مولانا نے اسلامی عقائد کو عصری دلائل کی روشنی میں پیش کیا ہے۔ دورِطالب علمی ہی سے الرسالہ میرے مطالعہ میں رہا ہے، اس کا ا سلوب مجھے بہت اچھا لگتا ہے کہ معمولی واقعات کے اندر ہمارے لیے کیسے اسباق موجود ہیں۔ یہ درحقیقت قرآنی اسلوب ہے جو ایک مومن کو فراستِ ایمانی کے نتیجے میں ملتا ہے۔ مولانا سے ملنے کی خواہش بہت دنوں سے تھی، مگر اس کا موقع نہیں مل سکا تھا۔ جامعہ آمد پر مولانا سے ملنے کی میری دیرینہ خواہش پوری ہوئی اور مولانا سے براہِ راست سننے اور استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ مولانا نے بڑی محبت سے ملاقات کی اور میری قدر افزائی فرمائی۔ اِس سے مجھے اندازہ ہوا کہ مولانا کے دل میں اہلِ علم کے لیے بڑی قدرہے۔ میں نے مولانا سے چند سوالات کیے۔ مولانا نے بڑی جامعیت کے ساتھ ان کا مختصر مگر بھر پور جواب دیا۔ جو مولانا کے وسیع مطالعہ کے علاوہ ان کے ذاتی غور وفکر کی دین ہے۔ اِس کے علاوہ، مولانا نے اپنا مثبت نقطہ نظر ہرجگہ ملحوظ رکھا۔ ایسا عام طورسے نہیں ہوتا۔ دعوتِ دین کے سلسلے میں مولانا کو میں نے بڑا فکر مند پایا۔ مولانا اسلام کے پیام امن وسلامتی کو بہت زیادہ واضح کرنے کے داعی ہیں، تاکہ اسلام کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کا پردہ چاک کیا جاسکے۔ مولانا کی گفتگو وتحریر میں جدید تحقیقات کے حوالے کا رنگ غالب ہے۔ وہ دینی حقائق اور جدید علمی حقائق میں ہم آہنگی ثابت کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ (مولانا ڈاکٹر شیخ سعید احمد عمری، استاد تفسیرو ادب عربی، جامعہ دار السلام، عمر آباد)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

11 جون 2010 کو ہماری واپسی تھی۔ فجر کی نماز ہم لوگوں نے جامعہ کی مسجد میں پڑھی۔ یہاں کے دستور کے مطابق، نماز کے بعد تمام طلبا قرآن کی تلاوت کے لیے مسجد میں بیٹھ گئے۔ چوں کہ مجھے آج صبح کو روانہ ہونا تھا، اِس لیے تلاوت کو تھوڑی دیر تک ملتوی کرکے مجھے خطاب کے لیے کہا گیا۔ سامعین میں طلبا اور اساتذہ دونوں موجود تھے۔

میں نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں، ان میں سے کچھ باتیں یہ تھیں۔ میں نے کہا کہ آپ دنیا میں کہیں بھی جائیے، ہر جگہ آپ کو مسجدیں اور مدرسے دکھائی دیں گے۔ مسجدیں عبادت کے مرکز کے طورپر، اور مدرسے تعلیم کے مرکز کے طورپر۔ یہ مسجد اور مدرسے گویا کہ اسلام کا گلوبل انفراسٹرکچر (global infrastructure) ہیں۔ اِن دینی اور تعلیمی اداروں کے ذریعے اسلام نے تاریخ میں اپنا تسلسل برقرار رکھا ہے۔پھر میں نے کہا کہ آج ہم کسی روک ٹوک کے بغیر مسجدوں میں نماز ادا کرتے ہیں اور مدارس میں ہماری اگلی نسلوں کے لیے تعلیمِ دین کا نظام کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک نہایت عظیم بات ہے جس کے لیے ہمارا سینہ شکر سے معمور ہونا چاہیے۔ میں نے کہاکہ قرآن میں دربارِ فرعون کے رجلِ مومن کے بارے میں آیا ہے يَكْتُمُ إِيمانَهُ (40:28)۔ یعنی، وہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ایک شخص کی بات نہیں، بلکہ ایک دور کی بات ہے۔ قدیم زمانہ کتمانِ ایمان کا زمانہ تھا، موجودہ زمانہ اظہارِ ایمان کا زمانہ ہے۔ یہ آزادی اصحابِ رسول کے ذریعے لائے ہوئے انقلاب کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے۔ آپ اِس پر غور کریں تو آپ کے سینے میں شکر کا دریا جاری ہوجائے گا۔ اگر آپ اِس انقلابی تبدیلی پر غور کریں تو شکایت کاکوئی شائبہ بھی آپ کے دل میں باقی نہ رہے گا۔

اِس کے بعد میں نے خصوصی طور پر طلبا کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا دینے اور لینے (give and take) کی دنیاہے۔ اِس دنیا کا اصول یہ ہے کہ— جتنا دینا، اتنا پانا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ دنیا کی مختلف سرگرمیوں میں داخل ہوںگے۔ آپ صرف ایک چیز کو اپنے سامنے رکھیے، اور وہ امتیاز (excellence) ہے۔ آپ جو کام بھی کریں، ممتاز طور پرکریں، حتی کہ اگر آپ موذن بنیں تو سب سے اچھی اذان دینے والے موذن بنیں۔ یہی اِس دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حضرت علی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— قِيمَةُ الْمَرْءِ مَا يُحْسِنُهُ

unverifiedAttribution could not be verified automatically

The value of a person lies in excellence.

نماز کے بعد ہم لوگ لائبریری کے کمرے میں واپس آگئے۔ یہاں معتمد جامعہ مولانا کاکا سعید احمد عمری اور دوسرے اساتذہ آخری ملاقات کے لیے آگئے۔ یہاں صبح کی چائے پینے کے بعد مدراس کے لیے روانگی ہوئی۔ دوپہر کے وقت ہم لوگ مدراس ائر پورٹ پر پہنچے۔ ائر پورٹ کی نئی تعمیر کی جارہی ہے۔ چنانچہ یہاں تعمیرات کا کام بڑے پیمانے پر جاری تھا۔ ہم لوگ ائر پورٹ پر کچھ دیر بیٹھے۔ یہاں ائرپورٹ کے عملہ کے ایک ساتھی محمد آزاد صاحب ہم لوگوں کا ای ٹکٹ لے کر گئے اور انہوں نے ہمارا بورڈنگ پاس بنوا کر ہمیں دے دیا۔ ہم لوگ 11 جون 2010 کی دوپہر کو دو بجے جہاز کے اندر داخل ہوئے۔ شام کو ہم لوگ دہلی کے ائر پورٹ پر اترے ، اور بذریعہ کار نظام الدین اپنی رہائش گاہ پہنچ گئے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automatically