Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Ulama Aur Deeni Madaris
Ulama Aur Deeni Madaris

نقصان در نقصان

Urdu · 3 min read

مولانا اختر احسن اصلاحی (وفات 1957) مدرستہ الاصلاح کے صدر مدرس تھے۔ ایک بار انہوں نے ایک مسلمان عالم کا نام لے کر کہا کہ وہ عربی زبان پر نہایت عمدہ قدرت رکھتے ہیں۔ اور فلاں عرب سفارت خانے میں کام کرتے ہیں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ میں ان کو ادب عربی کے استاد کی حیثیت سے اپنے مدرسہ میں بلاؤں۔ مگر میں ان کو سفارت خانے والی تنخواہ نہیں دے سکتا۔ اس لیے میں اپنےمدرسہ کے لیے ان کو حاصل بھی نہیں کر سکتا۔

یہ بات چالیس سال پہلے کی ہے۔ اب یہ صورت حال چالیس گنا سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے۔ آج ہماری تمام بہترین صلاحیتوں کو سیکولر ادارےاستعمال (avail)کررہے ہیں، مسلم اداروں کو ان کا کوئی حصہ حاصل نہیں۔

تیسری دنیا (Third world) کی اصل کمزوری یہ ہے کہ اس میں سب تیسرے درجہ کے لوگ بھرے ہوئے ہیں ۔ یہاں جتنے اعلیٰ درجہ کے افراد تھے ، اور جو اونچی تعلیم پائے ہوئے تھے، وہ ملینوں (Millions) کی تعداد میں یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں جا کر آباد ہو گئے ہیں۔ کیوں کہ وہاں ان کو زیادہ پیسہ اور زیادہ بہتر مواقع حاصل ہیں۔ یہی تمام مسلم قوموں کا حال ہے۔ اور یہی غیر مسلم اقوام کا حال بھی۔

ہندستان اور پاکستان کے مسلم اداروں کو دیکھیے۔ عام طور پر یہ کہاجاتا ہے کہ ان اداروں کی کار کردگی اچھی نہیں ۔ ان اداروں میں کام کا وہ معیار نہیں رہا جو پہلے وہاں پایا جاتا تھا۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اعلیٰ ذہن تقریباً سب کے سب بیرونی ملکوں میں چلے گئے۔ اب صرف کم تر صلاحیت کے لوگ باقی رہ گئے ہیں، جو مسلم اداروں کی ذمہ داریاں سنبھالیں ۔ اور جن اداروں میں کمتر صلاحیت کے لوگ بھرے ہوئے ہوں، ان کی کار کردگی کا معیار کمتر کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ اعلیٰ کام ہمیشہ اعلیٰ آدمی کرتے ہیں ۔ جب اعلیٰ آدمی ہی نہ رہیں تو اعلیٰ کام کیسے ہو سکتا ہے۔

اس صورت حال کا سب سے زیادہ عبرت ناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے اکا بر سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت تک مغربی اقوام کو سب سے بڑی برائی بتاتے رہے۔ انہوں نے ملّت کے تمام بہترین وسائل اس محاذ پر لگا دیے کہ ان بیرونی اقوام کی غلامی سے ملّت کو رہائی دے سکیں۔ مگر جب نا قابل بیان قربانیوں کے بعد بیرونی قومیں ہمارے ملکوں سے واپس چلی گئیں تو اب یہ حال ہے کہ ہمارے تمام بہترین افراد اپنا وطن چھوڑ چھوڑ کر خود مغربی ملکوں میں پہنچ گئے اور اب وہ انھیں قوموں کے زیر سایہ زندگی گزارنے کو فخر سمجھ رہے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر انسان ترقی اور کامیابی چاہتا ہے۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو انسان کے اندر سے کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی کے رہنماؤں نے اگر ایسا کیا ہو تا کہ جن بے شمار وسائل کو وہ مغربی قوموں کے خلاف لڑائی میں استعمال کرتے رہے ان کو وہ خود اپنے ملک کی علمی اور تمدنی ترقی میں استعمال کرتے تو دردناک مہاجرت کایہ واقعہ ،کم از کم اتنے بڑے پیمانے پر ہرگز پیش نہ آتا۔ ایسی صورت میں حوصلہ مند افراد خود اپنے ملک میں وہ مواقع پالیتے جن کو استعمال کر کے وہ اعلیٰ ترقی حاصل کر سکیں ۔

تیسری دنیا میں آزادیِ عمل کے مواقع نہ ہونا، اعلیٰ معیار کے تعلیمی اداروں کا فقدان، اپنے حوصلوں کے مطابق ترقی کے راستہ میں بڑھتے رہنے والے حالات کی غیر موجودگی، یہ وہ چیزیں ہیں جو اس واقعہ کو ظہور میں لارہی ہیں جس کو مشرقی ذہن کا مغربی دنیا کی طرف نکاس (brain drain)کہا جاتا ہے۔

اجتماعی حالات بے حد نازک ہوتے ہیں ۔ ان کے ساتھ بے شمار پیچیدگیاں وابستہ ہوتی ہیں ۔ اجتماعی زندگی میں کوئی اصلاحی کام کرنا الجھے ہوئے دھاگے کو سلجھانے کے ہم معنی ہے۔ ایسی حالت میں اجتماعی زندگی میں نعروں کی سیاست لے کر اصلاح کے لیے کھڑا ہونا سنجیدگی کا عمل نہیں ہوسکتا، بلکہ وہ نادانی کی چھلانگ ہوگی۔ (الرسالہ، جنوری 1989)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.