Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Ulama Aur Deeni Madaris
Ulama Aur Deeni Madaris

جمہوریت کا دور

Urdu · 2 min read

مولانا محمد الحسنی مشہور عربی مجلہ البعث الاسلامی (ندوہ،لکھنؤ) کے بانی تھے۔ ان کا انتقال 44 سال کی عمر میں 1979 میں ہوا ۔ان کے انتقال پر مولانا محمد منظور نعمانی (وفات1997) نے ایک مضمون شائع کیا تھا، اس مضمون کا ایک جزءیہ تھا11 جون 1979 کی شام کو’’ البعث الاسلامی‘‘ کا شمارہ میرے پاس آیا۔ مغرب اور عشاء کے درمیان میں نے سب سے پہلے اس کا افتتاحیہ پڑھا۔ جو عزیز مرحوم محمد الحسنی کے قلم کا لکھا ہوا تھا۔اس کا عنوان تھا ’’سُؤَالٌ حَائِرٌ يَحْتَاجُ إِلَىٰ جَوَابٍ‘‘۔ یہ سات صفحے کا مضمون تھا۔ اس میں ممالک اسلامیہ عربیہ خاص کر سعودی مملکت کے ذمہ داروں سے وہ باتیں صاف صاف کہی گئی تھیں، جن کا اس طرح صاف صاف کہا جانا یہ ان کی خیر خواہی کا بھی تقاضا تھا، اور ازروئے دین فرض ہو گیا تھا‘‘۔ (ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، مارچ 2013،صفحہ8)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پچھلے دو سو سال کا زمانہ پریس کا زمانہ ہے۔ اس پوری مدت میں مسلم علما اور مسلم رہنماؤں نے احیائے ملت کے نام پر بے شمار تحریکیں چلائی ہیں، مگر ان تحریکوں کا خاص نشانہ زیادہ تر صرف ایک تھا، اور وہ تھا، حکمرانوں کو خطاب کرکے ان کی ذمہ داریاں یاد دلانا۔ سید جمال الدین افغانی (وفات 1897) سے لے کر اکیسویں صدی کے مسلم قائدین تک تقریباً سب لوگ اس اسلوب کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مگر دو سو سال سے زیادہ مدت کی پرجوش جدوجہد کے باوجود یہ تحریکیں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ اس ناکامی کا سبب صرف ایک ہےاور وہ ہے۔ دورِ جمہوریت میں دورِ بادشاہت کے اسلوب پر کام کرنا۔

قدیم زمانے میں حکمرانوں کو خطاب کیا جاتا تھا، مگر موجودہ جمہوری زمانے میں کام کا نتیجہ خیز طریقہ صرف ایک ہےاور وہ ہےعوام کے اندر ذہنی بیداری لانا ۔مسلم قائدین جس طریقِ کار پر قائم ہیں۔ وہ ایک قسم کی خلاف ِزمانہ روش ہے۔ اور فطرت کے قانون کے مطابق، اس قسم کی روش کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔

موجودہ زمانہ ایک نیا زمانہ تھا۔ اس وقت موثر کام کرنے کے لیے ضروری تھا کہ زمانی حالات کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کیا جائے، یہ سمجھا جائے کہ جدید تقاضے کیا ہیں،اور پھر انہی کے مطابق اسلامی کام کی منصوبہ بندی کی جائے۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ لوگوں نے پرجوش تقریر و تحریر کو کافی سمجھ لیا۔ یہ بلاشبہ ایک غلط اندازہ تھا۔ اس غلطی کا نتیجہ تھا کہ موجودہ زمانے میں بے شمار قربانیوں کے باوجود مطلوب نشانہ حاصل نہ ہو سکا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content