Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Ulama Aur Deeni Madaris
Ulama Aur Deeni Madaris

عظیم انقلابی رہنمائی

Urdu · 1 min read

مولانا عبد المتین بنارسی سے گفتگو کرتے ہوئے صحیح مسلم کی اس روایت کا ذکر آیا جو تابیرنخل کے بارے میں ہے اور جس میں ہے کہ آپ نے فرمایا  أَنْتُمْ ‌أَعْلَمُ ‌بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ (ٍحدیث نمبر 2363)۔ یعنی، تم اپنے دنیا کے معاملہ کو زیادہ جانتے ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ یہ حدیث مذہب کی دنیا میں ایک عظیم انقلاب کو بتارہی ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسانی معاملات دوقسم کے ہیں ۔ ایک معاملات کا اخلاقی پہلو۔ دوسرا وہ جس کو معاملات کا ٹیکنکل پہلو کہہ سکتے ہیں ۔ مذکورہ حدیث نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔ اخلاقی پہلو کو خدائی ہدایت کا پابند بتاتے ہوئے ٹیکنکل پہلو کے بارے میں کہہ دیا کہ اس کو تحقیق اور تجربہ کی بنیاد پر قائم کرو۔ گویا دینی مطالعہ کو سائنسی ریسرچ سے جدا کر دیا گیا۔

دوسرے مذاہب اپنی موجودہ شکل میں ان دونوں پہلوؤں کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ انہوں نے ٹیکنکل پہلو کوبھی مذہبی عقائد کے تابع کر رکھا ہے۔ مثلاً عیسائی مذہب میں سورج اور زمین کی گردش کے معاملہ کو مذہبی عقیدہ کی حیثیت دے دی گئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ٹیکنکل پہلو کو اس طرح مذہبی عقیدہ کے ماتحت کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ درخت کے پھل کی پیداوار کم ملے گی۔ انسان قیمتی گوشت کے فائدے سے محروم رہے گا۔ کائنات کے حقائق انسان کے اوپر ظاہر نہیں ہوں گے۔ وغیرہ۔ مذکورہ طریقہ کی بنا پر دوسرے مروجہ مذاہب سائنسی تحقیق اور ترقی کا دروازہ بند کرتے ہیں ۔ اس کے برعکس، اسلام نے سائنسی ترقی کا دروازہ آخری حدتک کھول دیا ہے۔ (ڈائری، 9 مئی 1989)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content