Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Ulama Aur Deeni Madaris
Ulama Aur Deeni Madaris

نرم روش

Urdu · 2 min read

مولانا عبد العزیز قاسمی مدرسہ بیت العلوم (سُریاپیٹ ، ضلع نلگنڈہ) میں استاد ہیں انہوں نے 1983 کا ایک واقعہ بتایا۔

کڈ پہ( آندھرا پردیش) میں سیرت البنی کا جلسہ تھا۔ مولانا عبدالعزیز قاسمی بھی اس جلسہ میں مقرر کی حیثیت سے بلائے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ جلسہ سڑک پر ٹینٹ لگا کر کیا جارہا تھا۔ شامیانہ کے نیچے فرش اور کرسیاں بچھی ہوئی تھیں ۔ عین اس وقت ہندوؤں کا ایک جلوس نکلا۔ یہ کسی دیوی کا جلوس تھا۔ وہ گزرتا ہوا جلسہ گاہ کے قریب پہنچ گیا۔ جلسہ کے منتظمین نے جب یہ دیکھا تو ان کے چند افراد آگے بڑھ کر جلوس کے قائدین سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ اس سڑک سے آپ کا جلوس نکلنے والا ہے ، ورنہ ہم یہاں آج اپنا جلسہ نہ رکھتے۔ بہرحال آپ ہمیں تھوڑا سا وقت دیں ، ہم اپنا جلسہ تھوڑی دیر کے لیے روک کر ٹینٹ اور کرسیاں وغیرہ ہٹا دیتے ہیں ۔ آپ کا جلوس جب گزر جائے گا تو اس کے بعد دوبارہ اس کو لگا لیں گے۔

جلسہ سیرت النبی کے لوگوں نے جب اس قسم کی پیشکش کی تو جلوس والوں کے دل نرم پڑگئے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ جیسے ہمارا جلوس ہے ویسے ہی آپ کا جلسہ بھی ہے۔ آپ اپنے جلسہ کو گڑبڑ نہ کریں ۔ ہم لوگ بازو کی گلی سے نکل کر پھر سڑک پر آ جائیں گے۔ آپ کا جلسہ بھی جاری رہے گا۔ اور ہمارا جلوس بھی نکل جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ لوگ راستہ بدل کر آگے چلے گئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسلمان اگر جلوس کو روکتے تو بات بڑھتی اور فساد ہوتا، مگر جب مسلمانوں نے جلوس کو نہیں روکا تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم اگر نرمی اختیار کریں تو وہ لوگ اور زیادہ دلیر ہو جائیں گے، انھیں اس واقعہ سے سبق لینا چاہیے۔ (ڈائری، 10 اکتوبر 1984)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content