مولانا عبد العزیز قاسمی مدرسہ بیت العلوم (سُریاپیٹ ، ضلع نلگنڈہ) میں استاد ہیں انہوں نے 1983 کا ایک واقعہ بتایا۔
کڈ پہ( آندھرا پردیش) میں سیرت البنی کا جلسہ تھا۔ مولانا عبدالعزیز قاسمی بھی اس جلسہ میں مقرر کی حیثیت سے بلائے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ جلسہ سڑک پر ٹینٹ لگا کر کیا جارہا تھا۔ شامیانہ کے نیچے فرش اور کرسیاں بچھی ہوئی تھیں ۔ عین اس وقت ہندوؤں کا ایک جلوس نکلا۔ یہ کسی دیوی کا جلوس تھا۔ وہ گزرتا ہوا جلسہ گاہ کے قریب پہنچ گیا۔ جلسہ کے منتظمین نے جب یہ دیکھا تو ان کے چند افراد آگے بڑھ کر جلوس کے قائدین سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ اس سڑک سے آپ کا جلوس نکلنے والا ہے ، ورنہ ہم یہاں آج اپنا جلسہ نہ رکھتے۔ بہرحال آپ ہمیں تھوڑا سا وقت دیں ، ہم اپنا جلسہ تھوڑی دیر کے لیے روک کر ٹینٹ اور کرسیاں وغیرہ ہٹا دیتے ہیں ۔ آپ کا جلوس جب گزر جائے گا تو اس کے بعد دوبارہ اس کو لگا لیں گے۔
جلسہ سیرت النبی کے لوگوں نے جب اس قسم کی پیشکش کی تو جلوس والوں کے دل نرم پڑگئے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ جیسے ہمارا جلوس ہے ویسے ہی آپ کا جلسہ بھی ہے۔ آپ اپنے جلسہ کو گڑبڑ نہ کریں ۔ ہم لوگ بازو کی گلی سے نکل کر پھر سڑک پر آ جائیں گے۔ آپ کا جلسہ بھی جاری رہے گا۔ اور ہمارا جلوس بھی نکل جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ لوگ راستہ بدل کر آگے چلے گئے۔
مسلمان اگر جلوس کو روکتے تو بات بڑھتی اور فساد ہوتا، مگر جب مسلمانوں نے جلوس کو نہیں روکا تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم اگر نرمی اختیار کریں تو وہ لوگ اور زیادہ دلیر ہو جائیں گے، انھیں اس واقعہ سے سبق لینا چاہیے۔ (ڈائری، 10 اکتوبر 1984)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔