Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tazkiya-e-Nafs
Tazkiya-e-Nafs

تزکیہ کی شرط

Urdu · 2 min

تزکیہ کوئی فنی علم نہیں، فنی علم کو لفظوں میں پوری طرح بیان کیا جا سکتا ہے، لیکن تزکیہ معرفت کا علم ہے، اور معرفت کے علم کو الفاظ میں صرف جزوی طور پر بیان کرنا ممکن ہے، نہ کہ کلی طور پر۔ تزکیہ کی ہر تقریر یا تحریر ایک اور اضافہ چاہتی ہے، اور یہ اضافہ صرف وہ شخص کر سکتا ہے جو تزکیہ کا طالب ہو۔ تزکیہ کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ طالبِ تزکیہ اس معاملے میں انتہائی حد تک سنجیدہ ہو، وہ ایک تیار ذہن یعنی prepared mind کی حیثیت رکھتا ہو، اس کے اندر کامل آمادگی پائی جاتی ہو، وہ ہر قسم کے تعصبات یعنی prejudice سے خالی ہو، وہ ایک complex-free انسان ہو، وہ چیزوں کو اسی طرح دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو جیسا کہ وہ واقعتا ہیں، وہ ذاتی رجحانات کو الگ کر کے چیزوں کو دیکھ سکے، وہ اپنے خلاف باتوں کو بھی اسی طرح سنے جس طرح وہ اپنے موافق باتوں کو سنتا ہے، وہ کسی شرط کے بغیر حق کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو، وہ کھلے طور پر اپنی غلطی کو ماننے کا مزاج رکھتا ہو، وہ درست زاویۂ نظر یعنی right angle of vision سے چیزوں کو دیکھ سکے، وغیرہ۔ تزکیہ کے عمل میں دو افراد شامل ہوتے ہیں: معلمِ تزکیہ اور طالبِ تزکیہ۔

دونوں میں سے کسی کا رول بھی 100% نہیں، اس معاملے میں دونوں کا رول 50-50 ہے۔ معلمِ تزکیہ کا رول یہ ہے کہ وہ تزکیہ کو حقیقی طور پر جانتا ہو، اس نے قرآن اور حدیث کے گہرے مطالعے کے ذریعے تزکیہ کو درست طور پر سمجھا ہو، اور پھر اس کو اس کے خالص انداز میں بیان کر سکے۔ اس معاملے میں دوسرا نصف رول طالبِ تزکیہ کا ہے۔ تزکیہ کے طالب کے اندر یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ بھرپور طور پر قبولیت کی استعداد رکھتا ہو، وہ اپنے مانوس ذہن سے باہر آ کر تزکیہ کے کلام کو سنے اور اس کو سمجھے، وہ پیشگی طور پر قائم کردہ معیار سے آزاد ہو، وہ یہ صلاحیت رکھتا ہو کہ وہ کلام کی نسبت سے اپنی رائے قائم کرے، نہ کہ متکلم کی نسبت سے۔

جس آدمی کے اندر یہ صفات موجود ہوں، وہی وہ شخص ہے جو تزکیہ کے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.