Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tazkiya-e-Nafs
Tazkiya-e-Nafs

تزکیہ اور آخری تقاضا

Urdu · 2 min

ہر زمانے کا ایک طرزِ فکر ہوتا ہے۔ آدمی کسی بات کو صرف اس وقت قبول کرتا ہے جبکہ وہ اس کے طرزِ فکر کے مطابق ہو۔ اسی کو "مائنڈ کا ایڈریس" ہونا کہتے ہیں۔ انسانی ذہن کی رعایت جس طرح دوسرے معاملات میں ضروری ہے، اسی طرح وہ تزکیہ کے معاملے میں بھی ضروری ہے۔

قدیم زمانہ روایتی طرزِ فکر کا زمانہ تھا، مگر موجودہ زمانہ سائنسی طرزِ فکر کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں لوگوں کا تزکیہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بات کو اس طرح کہا جائے جس سے ان کا ذہن ایڈریس ہو سکے۔ تزکیہ کی اصل موجودہ زمانے میں بھی عین وہی ہے جو کہ قدیم زمانے میں تھی، البتہ دونوں میں ایک فرق ہے اور وہ اسلوبِ کلام اور طرزِ استدلال، یعنی ریزننگ کا فرق ہے۔ قدیم زمانے میں روایتی اسلوب لوگوں کے لیے مؤثر ہو سکتا تھا، لیکن موجودہ زمانے میں مؤثر تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ اسلوبِ کلام کو بدلا جائے۔

صرف اسی صورت میں یہ ممکن ہے کہ آج کا انسان تزکیہ کی اہمیت کو سمجھے اور اس کو اپنی زندگی میں اختیار کرے۔ مثال کے طور پر قدیم زمانے میں "اصلاحِ نفس" کا لفظ بولا جاتا تھا۔ یہ لفظ قدیم روایتی ذہن کو متاثر کرنے کے لیے کافی تھا، لیکن آج کا انسان اس حقیقت کو اس وقت زیادہ سمجھ پاتا ہے جبکہ اس بات کو بتانے کے لیے لفظ بدل دیا جائے اور یہ کہا جائے کہ ہر انسان مختلف اسباب سے متاثر ذہن، یعنی کنڈیشنڈ مائنڈ کا کیس بن جاتا ہے۔ اس کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ اس کی ڈی کنڈیشننگ کی جائے، اس کے ذہن کی تشکیلِ نو یعنی ری انجینئرنگ کر کے اس کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ چیزوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھے اور زیادہ درست طور پر ان کے بارے میں رائے قائم کرے۔

اس اسلوبِ تزکیہ پر لوگوں کو مخاطب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مزکی کا مطالعہ وسیع ہو، وہ قدیم کے ساتھ جدید باتوں سے واقفیت رکھتا ہو۔ اس کے بغیر مؤثر انداز میں جدید انسان کا تزکیہ نہیں کیا جا سکتا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.