Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

105. Al-Fil

Urdu · 5 min read

ابرہہ چھٹی صدی عیسوی میں جنوبی عرب کا ایک مسیحی حبشی حکمراں تھا۔ اس نے مذہبی جنون کے تحت 570ء میں مکہ پر حملہ کیا تاکہ کعبہ کو ڈھا کر ختم کردے۔ اس کے ساتھ ساٹھ ہزار آدمیوں کا لشکر تھا جس میں تقریباً ایک درجن ہاتھی بھی شامل تھے۔ اسی بنا پر وہ لوگ اصحابِ فیل (ہاتھی والے) کہے گئے۔ جب یہ لوگ مکہ کے قریب پہنچے تو ہاتھیوں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ اسی کے ساتھ پرندوں کے جھنڈ آئے جن کی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں تھیں۔ انہوں نے یہ کنکریاں ابرہه کے لشکر پر گرائیں تو سارا لشکر عجیب وغریب قسم کی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور گھبرا کر واپس بھاگا، مگر ابرہہ سمیت اس کے بیشتر افراد راستہ ہی میں ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ عین اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مظاہرہ تھا کہ پیغمبر اسلام کو غلبہ کی نسبت دی گئی ہے۔ آپ کے ساتھ یا آپ کے دین کے ساتھ جو بھی ٹکرائے گا وہ لازماً مغلوب ہو کر رہے گا۔

ابرہہ چھٹی صدی عیسوی میں جنوبی عرب کا ایک مسیحی حبشی حکمراں تھا۔ اس نے مذہبی جنون کے تحت 570ء میں مکہ پر حملہ کیا تاکہ کعبہ کو ڈھا کر ختم کردے۔ اس کے ساتھ ساٹھ ہزار آدمیوں کا لشکر تھا جس میں تقریباً ایک درجن ہاتھی بھی شامل تھے۔ اسی بنا پر وہ لوگ اصحابِ فیل (ہاتھی والے) کہے گئے۔ جب یہ لوگ مکہ کے قریب پہنچے تو ہاتھیوں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ اسی کے ساتھ پرندوں کے جھنڈ آئے جن کی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں تھیں۔ انہوں نے یہ کنکریاں ابرہه کے لشکر پر گرائیں تو سارا لشکر عجیب وغریب قسم کی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور گھبرا کر واپس بھاگا، مگر ابرہہ سمیت اس کے بیشتر افراد راستہ ہی میں ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ عین اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مظاہرہ تھا کہ پیغمبر اسلام کو غلبہ کی نسبت دی گئی ہے۔ آپ کے ساتھ یا آپ کے دین کے ساتھ جو بھی ٹکرائے گا وہ لازماً مغلوب ہو کر رہے گا۔

ابرہہ چھٹی صدی عیسوی میں جنوبی عرب کا ایک مسیحی حبشی حکمراں تھا۔ اس نے مذہبی جنون کے تحت 570ء میں مکہ پر حملہ کیا تاکہ کعبہ کو ڈھا کر ختم کردے۔ اس کے ساتھ ساٹھ ہزار آدمیوں کا لشکر تھا جس میں تقریباً ایک درجن ہاتھی بھی شامل تھے۔ اسی بنا پر وہ لوگ اصحابِ فیل (ہاتھی والے) کہے گئے۔ جب یہ لوگ مکہ کے قریب پہنچے تو ہاتھیوں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ اسی کے ساتھ پرندوں کے جھنڈ آئے جن کی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں تھیں۔ انہوں نے یہ کنکریاں ابرہه کے لشکر پر گرائیں تو سارا لشکر عجیب وغریب قسم کی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور گھبرا کر واپس بھاگا، مگر ابرہہ سمیت اس کے بیشتر افراد راستہ ہی میں ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ عین اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مظاہرہ تھا کہ پیغمبر اسلام کو غلبہ کی نسبت دی گئی ہے۔ آپ کے ساتھ یا آپ کے دین کے ساتھ جو بھی ٹکرائے گا وہ لازماً مغلوب ہو کر رہے گا۔

ابرہہ چھٹی صدی عیسوی میں جنوبی عرب کا ایک مسیحی حبشی حکمراں تھا۔ اس نے مذہبی جنون کے تحت 570ء میں مکہ پر حملہ کیا تاکہ کعبہ کو ڈھا کر ختم کردے۔ اس کے ساتھ ساٹھ ہزار آدمیوں کا لشکر تھا جس میں تقریباً ایک درجن ہاتھی بھی شامل تھے۔ اسی بنا پر وہ لوگ اصحابِ فیل (ہاتھی والے) کہے گئے۔ جب یہ لوگ مکہ کے قریب پہنچے تو ہاتھیوں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ اسی کے ساتھ پرندوں کے جھنڈ آئے جن کی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں تھیں۔ انہوں نے یہ کنکریاں ابرہه کے لشکر پر گرائیں تو سارا لشکر عجیب وغریب قسم کی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور گھبرا کر واپس بھاگا، مگر ابرہہ سمیت اس کے بیشتر افراد راستہ ہی میں ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ عین اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مظاہرہ تھا کہ پیغمبر اسلام کو غلبہ کی نسبت دی گئی ہے۔ آپ کے ساتھ یا آپ کے دین کے ساتھ جو بھی ٹکرائے گا وہ لازماً مغلوب ہو کر رہے گا۔

ابرہہ چھٹی صدی عیسوی میں جنوبی عرب کا ایک مسیحی حبشی حکمراں تھا۔ اس نے مذہبی جنون کے تحت 570ء میں مکہ پر حملہ کیا تاکہ کعبہ کو ڈھا کر ختم کردے۔ اس کے ساتھ ساٹھ ہزار آدمیوں کا لشکر تھا جس میں تقریباً ایک درجن ہاتھی بھی شامل تھے۔ اسی بنا پر وہ لوگ اصحابِ فیل (ہاتھی والے) کہے گئے۔ جب یہ لوگ مکہ کے قریب پہنچے تو ہاتھیوں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ اسی کے ساتھ پرندوں کے جھنڈ آئے جن کی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں تھیں۔ انہوں نے یہ کنکریاں ابرہه کے لشکر پر گرائیں تو سارا لشکر عجیب وغریب قسم کی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور گھبرا کر واپس بھاگا، مگر ابرہہ سمیت اس کے بیشتر افراد راستہ ہی میں ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ عین اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مظاہرہ تھا کہ پیغمبر اسلام کو غلبہ کی نسبت دی گئی ہے۔ آپ کے ساتھ یا آپ کے دین کے ساتھ جو بھی ٹکرائے گا وہ لازماً مغلوب ہو کر رہے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.