Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

104. Al-Humaza

Urdu · 5 min read

کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔

کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔

کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔

کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔

کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔

کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔

کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔

کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔

کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.