Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

73. Al-Muzzammil

Urdu · 12 min read

’’ٹھہر ٹھہر کر پڑھو‘‘کا مطلب یہ ہے کہ مفہوم پر دھیان دیتے ہوئے پڑھو۔ جب آدمی ایسا کرے تو قاری اور قرآن کے درمیان ایک دو طرفہ عمل شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ایک الٰہی خطاب ہوتا ہے اور اس کا دل ہر آیت پر اس خطاب کا جواب دیتا چلا جاتا ہے۔ جب قرآن میں اللہ کی بڑائی کا ذکر آتا ہے تو قاری کا پورا وجود اس کی بڑائی کے احساس سے دب جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کے احسانات بتائے جاتے ہیں تو اس کو سوچ کر قاری کا دل خدا کے شکر سے بھر جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کی پکڑ کا بیان ہوتا ہے تو قاری اس کو پڑھ کر کا نپ اٹھتا ہے۔ جب قرآن میں کوئی حکم بتایا جاتا ہے تو قاری کے اندر یہ جذبه مستحکم ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو اختیار کر کے اپنے رب کا فرماں بردار بنے۔ ’’بھاری قول‘‘سے مراد انذار کا وہ حکم ہے جو اگلی سوره المدثرآيت 3میں آ رہا ہے (قُمْ فَأَنْذِرْ)۔ یعنی آخرت کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کردے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کے لیے داعی کو بے آمیز حق پر کھڑا ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ تمام لوگوں کے درمیان اجنبی بن جائے۔ اس کو لوگوں کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کے اور مخاطبین کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ آخر وقت تک باقی رہے۔ اس کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر اور اعراض کا پابند کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ کسی بھی حال میں اس کی داعیانہ حیثیت مجروح نہ ہونے پائے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

’’ٹھہر ٹھہر کر پڑھو‘‘کا مطلب یہ ہے کہ مفہوم پر دھیان دیتے ہوئے پڑھو۔ جب آدمی ایسا کرے تو قاری اور قرآن کے درمیان ایک دو طرفہ عمل شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ایک الٰہی خطاب ہوتا ہے اور اس کا دل ہر آیت پر اس خطاب کا جواب دیتا چلا جاتا ہے۔ جب قرآن میں اللہ کی بڑائی کا ذکر آتا ہے تو قاری کا پورا وجود اس کی بڑائی کے احساس سے دب جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کے احسانات بتائے جاتے ہیں تو اس کو سوچ کر قاری کا دل خدا کے شکر سے بھر جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کی پکڑ کا بیان ہوتا ہے تو قاری اس کو پڑھ کر کا نپ اٹھتا ہے۔ جب قرآن میں کوئی حکم بتایا جاتا ہے تو قاری کے اندر یہ جذبه مستحکم ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو اختیار کر کے اپنے رب کا فرماں بردار بنے۔ ’’بھاری قول‘‘سے مراد انذار کا وہ حکم ہے جو اگلی سوره المدثرآيت 3میں آ رہا ہے (قُمْ فَأَنْذِرْ)۔ یعنی آخرت کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کردے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کے لیے داعی کو بے آمیز حق پر کھڑا ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ تمام لوگوں کے درمیان اجنبی بن جائے۔ اس کو لوگوں کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کے اور مخاطبین کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ آخر وقت تک باقی رہے۔ اس کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر اور اعراض کا پابند کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ کسی بھی حال میں اس کی داعیانہ حیثیت مجروح نہ ہونے پائے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

دین میں جو فرض اعمال ہیں وہ عام انسان کی استطاعت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مقرر کیے گئے ہیں۔ مگر یہ فرائض صرف لازمی حدود کو بتاتے ہیں۔ اس لازمی حد کے آگے بھی مطلوب اعمال ہیں۔ مگر وہ نوافل ہیں۔ مثلاً پنج وقته نمازوں کے بعد تہجد، زکوۃ کے بعد مزید انفاق وغیرہ۔ یہ آدمی کے اپنے حوصلے کا امتحان ہے کہ وہ کتنا زیادہ عمل کرتا ہے اور آخرت میں کتنا زیادہ انعام کا مستحق بنتا ہے۔

’’ٹھہر ٹھہر کر پڑھو‘‘کا مطلب یہ ہے کہ مفہوم پر دھیان دیتے ہوئے پڑھو۔ جب آدمی ایسا کرے تو قاری اور قرآن کے درمیان ایک دو طرفہ عمل شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ایک الٰہی خطاب ہوتا ہے اور اس کا دل ہر آیت پر اس خطاب کا جواب دیتا چلا جاتا ہے۔ جب قرآن میں اللہ کی بڑائی کا ذکر آتا ہے تو قاری کا پورا وجود اس کی بڑائی کے احساس سے دب جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کے احسانات بتائے جاتے ہیں تو اس کو سوچ کر قاری کا دل خدا کے شکر سے بھر جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کی پکڑ کا بیان ہوتا ہے تو قاری اس کو پڑھ کر کا نپ اٹھتا ہے۔ جب قرآن میں کوئی حکم بتایا جاتا ہے تو قاری کے اندر یہ جذبه مستحکم ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو اختیار کر کے اپنے رب کا فرماں بردار بنے۔ ’’بھاری قول‘‘سے مراد انذار کا وہ حکم ہے جو اگلی سوره المدثرآيت 3میں آ رہا ہے (قُمْ فَأَنْذِرْ)۔ یعنی آخرت کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کردے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کے لیے داعی کو بے آمیز حق پر کھڑا ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ تمام لوگوں کے درمیان اجنبی بن جائے۔ اس کو لوگوں کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کے اور مخاطبین کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ آخر وقت تک باقی رہے۔ اس کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر اور اعراض کا پابند کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ کسی بھی حال میں اس کی داعیانہ حیثیت مجروح نہ ہونے پائے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

’’ٹھہر ٹھہر کر پڑھو‘‘کا مطلب یہ ہے کہ مفہوم پر دھیان دیتے ہوئے پڑھو۔ جب آدمی ایسا کرے تو قاری اور قرآن کے درمیان ایک دو طرفہ عمل شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ایک الٰہی خطاب ہوتا ہے اور اس کا دل ہر آیت پر اس خطاب کا جواب دیتا چلا جاتا ہے۔ جب قرآن میں اللہ کی بڑائی کا ذکر آتا ہے تو قاری کا پورا وجود اس کی بڑائی کے احساس سے دب جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کے احسانات بتائے جاتے ہیں تو اس کو سوچ کر قاری کا دل خدا کے شکر سے بھر جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کی پکڑ کا بیان ہوتا ہے تو قاری اس کو پڑھ کر کا نپ اٹھتا ہے۔ جب قرآن میں کوئی حکم بتایا جاتا ہے تو قاری کے اندر یہ جذبه مستحکم ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو اختیار کر کے اپنے رب کا فرماں بردار بنے۔ ’’بھاری قول‘‘سے مراد انذار کا وہ حکم ہے جو اگلی سوره المدثرآيت 3میں آ رہا ہے (قُمْ فَأَنْذِرْ)۔ یعنی آخرت کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کردے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کے لیے داعی کو بے آمیز حق پر کھڑا ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ تمام لوگوں کے درمیان اجنبی بن جائے۔ اس کو لوگوں کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کے اور مخاطبین کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ آخر وقت تک باقی رہے۔ اس کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر اور اعراض کا پابند کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ کسی بھی حال میں اس کی داعیانہ حیثیت مجروح نہ ہونے پائے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

’’ٹھہر ٹھہر کر پڑھو‘‘کا مطلب یہ ہے کہ مفہوم پر دھیان دیتے ہوئے پڑھو۔ جب آدمی ایسا کرے تو قاری اور قرآن کے درمیان ایک دو طرفہ عمل شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ایک الٰہی خطاب ہوتا ہے اور اس کا دل ہر آیت پر اس خطاب کا جواب دیتا چلا جاتا ہے۔ جب قرآن میں اللہ کی بڑائی کا ذکر آتا ہے تو قاری کا پورا وجود اس کی بڑائی کے احساس سے دب جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کے احسانات بتائے جاتے ہیں تو اس کو سوچ کر قاری کا دل خدا کے شکر سے بھر جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کی پکڑ کا بیان ہوتا ہے تو قاری اس کو پڑھ کر کا نپ اٹھتا ہے۔ جب قرآن میں کوئی حکم بتایا جاتا ہے تو قاری کے اندر یہ جذبه مستحکم ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو اختیار کر کے اپنے رب کا فرماں بردار بنے۔ ’’بھاری قول‘‘سے مراد انذار کا وہ حکم ہے جو اگلی سوره المدثرآيت 3میں آ رہا ہے (قُمْ فَأَنْذِرْ)۔ یعنی آخرت کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کردے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کے لیے داعی کو بے آمیز حق پر کھڑا ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ تمام لوگوں کے درمیان اجنبی بن جائے۔ اس کو لوگوں کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کے اور مخاطبین کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ آخر وقت تک باقی رہے۔ اس کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر اور اعراض کا پابند کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ کسی بھی حال میں اس کی داعیانہ حیثیت مجروح نہ ہونے پائے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content