← Tazkirul Quran (Urdu)Tazkirul Quran (Urdu)
72. Al-Jinn
Urdu · 10 min read
یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کارروائی خود خدا کے خلاف کارروائی ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف کارروائی کرکے کامیاب ہو۔
حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کارروائی خود خدا کے خلاف کارروائی ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف کارروائی کرکے کامیاب ہو۔
حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کارروائی خود خدا کے خلاف کارروائی ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف کارروائی کرکے کامیاب ہو۔
حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کارروائی خود خدا کے خلاف کارروائی ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف کارروائی کرکے کامیاب ہو۔
حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کارروائی خود خدا کے خلاف کارروائی ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف کارروائی کرکے کامیاب ہو۔
یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔