Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Ek misaal.

Urdu · 3 min

ایک مثال: بچوں کی تربیت کے سلسلے میں عام طور سے یہ کیا جاتا ہے کہ ایک مقرر وقت پر جمع کر کے بچوں کو دین کے مسائل بتائے جائیں۔ بچوں کی تربیت اس قسم کے وقتی وعظ سے نہیں ہوتی، بلکہ تربیت کا اصل ذریعہ گھر کا ماحول ہے۔ اگر آپ کے گھر میں اخلاق اور انسانیت کا ماحول ہو، آپ کے گھر میں کسی کی غیبت اور شکایت نہ کی جاتی ہو، اور آپ کے گھر میں دوسروں کو عزت دینے کا ماحول ہو، خواہ وہ اپنا ہو یا غیر، تو یہ ماحول آپ کے گھر کو ایک زندہ تربیت گاہ بنا دے گا۔ اس کے بعد کسی رسمی وعظ کی ضرورت نہ ہوگی۔

یہاں ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے جو بتاتا ہے کہ بچوں کی تربیت کیا ہوتی ہے۔ مظفر نگر یعنی یو پی کے ایک قصبے کا واقعہ ہے۔ وہاں ایک مسلم خاندان کے یہاں ایک ہریجن عورت صفائی کے کام کے لیے روزانہ آتی تھی۔ گھر کی ایک بچی سے اس ہریجن عورت کی دوستی ہو گئی۔

یہ ہریجن عورت جب وہاں صفائی کے کام کے لیے آتی تو وہ سب سے پہلے مذکورہ بچی سے ملتی۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے سے بہت زیادہ مانوس ہو گئے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ گھر کے اندر جنت اور جہنم کا تذکرہ ہوا۔ لڑکی کے باپ نے کہا کہ جنت میں داخلے کے لیے ایمان ضروری ہے۔

جو شخص مومن اور موحد ہو وہی موت کے بعد جنت میں جائے گا۔ اور جو لوگ مشرک ہیں، جو غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں، وہ جنت میں نہیں جائیں گے۔ بچی کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی۔ وہ سوچنے لگی کہ میں تو مومن اور موحد ہوں اس لیے میں جنت میں جاؤں گی۔

مگر ہریجن عورت تو شرک میں مبتلا ہے، وہ کس طرح جنت میں جائے گی؟ اس کے بعد یہ ہوا کہ اگلے دن جب مذکورہ ہریجن عورت صفائی کے کام کے لیے آئی تو اس نے دیکھا کہ اس کی دوست بچی گھر میں ایک کنارے کھڑی ہوئی بری طرح رو رہی ہے۔ عورت اس کو دیکھ کر گھبرا گئی۔ اس نے پوچھا کہ تم کو کیا تکلیف ہے؟

تم کیوں اس طرح رو رہی ہو؟ بہت پوچھنے کے بعد بچی نے کہا کہ میں مومن ہوں اس لیے میں جنت میں جاؤں گی اور تم مشرک ہو اس لیے تم جنت میں نہیں جاؤ گی۔ اس طرح موت کے بعد کی زندگی میں میرا اور تمہارا ساتھ چھوٹ جائے گا۔ یہ سن کر ہریجن عورت نے کہا کہ تم مت روؤ، میں آج سے اسلام قبول کرتی ہوں تاکہ ہم دونوں ایک ساتھ جنت میں رہیں۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اگر گھر کا ماحول جیسا ہوگا، بچے اسی طرح کی راہ کا انتخاب کریں گے۔ اور یہی ماحول بچوں کی ذہن سازی میں رہنما کا کردار ادا کرتا ہے۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 18۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.