Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Tarbiat katareeqa.

Urdu · 3 min

تربیت کا طریقہ: ایک صاحب کو ان کے پڑوسی نے نہایت سخت بات کہہ دی، وہ صاحب اس کو سن کر چپ چاپ اپنے گھر میں چلے آئے۔ انہوں نے کہنے والے کو کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کے لڑکے کو جب اس کی خبر ہوئی تو وہ بہت بگڑا، اس نے کہا کہ اس شخص کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ میرے باپ کو اس طرح ذلیل کرے۔ میں اس کو سبق دوں گا تاکہ آئندہ وہ کبھی ایسی ہمت نہ کرے۔

باپ نے بیٹے کو ٹھنڈا کیا۔ باپ نے کہا کہ آخر اس نے ایک لفظ ہی تو کہا ہے، اس نے مجھے کوئی پتھر تو نہیں مارا، پھر اس میں ہمارا کیا نقصان ہے؟ اس نے اگر اپنی زبان خراب کی ہے تو ہم اپنی زبان کیوں خراب کریں؟ باپ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تم اس کو بھلا دو اور اپنے کام میں لگ جاؤ۔

بیٹا اس واقعے کو یاد کے خانے میں رکھنا چاہتا تھا، باپ نے اس کو بھول کے خانے میں ڈال دیا۔ جو واقعہ عام حالات میں غصہ اور انتقام کا موضوع بنتا، وہ صبر اور برداشت کا موضوع بن گیا۔ کچھ دنوں بعد خود پڑوسی کو شرمندگی ہوئی، اس نے آ کر اپنی گستاخی کی معافی مانگی اور آئندہ کے لیے پہلے سے زیادہ بہتر ہو گیا۔ باپ اگر اپنے بیٹے کے اندر انتقام کی نفسیات ابھارتا تو وہ برائی کا ایجنٹ بن جاتا، مگر باپ نے جب اپنے بیٹے کو بھلانے اور برداشت کے راستے پر ڈالا تو وہ ان کے لیے نیکی اور سچائی کا رہنما ہو گیا۔

قرآن کے لفظوں میں وہ متقیوں کا امام بن گیا، الفرقان سورہ نمبر 25 آیت 74۔ اسی کا نام بچوں کی تربیت ہے۔ بچوں کی تربیت یہ نہیں ہے کہ ایک وقت مقرر کر کے انہیں بٹھایا جائے اور تحریر یا تقریر کی صورت میں انہیں اصلاحی باتیں سنائی جائیں۔ اصل تربیت یہ ہے کہ گھر کے اندر جب عملی طور پر وہ مواقع پیدا ہوں جہاں ایک راستہ صحیح سمت میں جاتا ہو اور دوسرا راستہ غلط سمت میں، ایسے مواقع پر جذبات کو برداشت کر کے اور ذاتی نقصان اٹھا کر گھر والوں کو رہنمائی دی جائے۔

ان کے ذہن کو ایک رخ سے دوسرے رخ کی طرف پھیر دیا جائے۔ تربیت پیدا شدہ حالات کے درمیان رہنمائی کی جاتی ہے، نہ کہ مجرد قسم کی واضح خوانی کے ذریعے۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 17۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.