← Tarbiat-e-AuladTarbiat-e-Aulad
Aulaad se tarbiyat.
Urdu · 6 min
اولاد سے تربیت: ایک صاحب سگریٹ کے عادی تھے اور روزانہ 3 پیکٹ پی جاتے تھے۔ سگریٹ پینا صحت کے لیے مضر ہے۔ سگریٹ پینا اپنے کمائے ہوئے پیسے کو آگ لگانا ہے۔ اس قسم کی کوئی بھی دلیل ان کو سگریٹ چھوڑنے پر آمادہ نہیں کر سکتی تھی، حتیٰ کہ وہ اپنے دوستوں کو بھی اصرار کر کے پلاتے۔
چائے پینے کے بعد وہ سگریٹ کا کش لینے کو اتنا ضروری سمجھتے تھے کہ وہ اپنے دوستوں سے کہتے: "جو آدمی چائے پی کر سگریٹ نہ پیے، اس کو چائے پینے کا حق نہیں۔ " مگر ایک چھوٹے سے واقعے نے ان کی محبوب سگریٹ ان سے چھڑا دی۔ سگریٹ کے ٹکڑے جو وہ پینے کے بعد پھینکتے، ان کو ان کا 3 سالہ بچہ فاروق قیصر اٹھا لیتا اور منہ میں لگا کر پیتا۔ ملک عبدالشکور صاحب اس کو منع کرتے، مگر وہ نہ مانتا۔
ایک روز ایسا ہوا کہ بچے کی ماں نے سختی سے بچے کو منع کیا، تو بچے نے کہا: "ابّا بھی تو پیتے ہیں۔ " ملک عبدالشکور صاحب نے بچے کی زبان سے یہ سنا تو ان کو سخت جھٹکا لگا۔ اگرچہ وہ دوستوں کے سامنے اپنی سگریٹ نوشی پر قصیدہ پڑھتے تھے، مگر ان کا دل خوب جانتا تھا کہ سگریٹ پینا ایک بری عادت ہے جس کا انجام نہ صرف صحت اور پیسے کی بربادی ہے، بلکہ وہ اخلاق کو بھی بگاڑنے والا ہے۔ جب کوئی شخص ان سے سگریٹ چھوڑنے کو کہتا تو وہ اس کے خلاف لفظی دلائل کا انبار لگا دیتے۔
مگر ان دلائل کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہ تھی کہ وہ اپنے ایک نشے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اور اس کے لیے بھی تیار نہ تھے کہ اپنی غلطی کو مان لیں۔ اس لیے وہ لفظی تاویلات کے سہارے اپنے کو حق بجانب ثابت کرتے تھے۔ وہ اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے تھے کہ سگریٹ کے خلاف کسی دلیل پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں۔
مگر جب سگریٹ کا سوال بچے کی زندگی کا سوال بن گیا، تو اچانک وہ سنجیدہ ہو گئے۔ ان کے ذہن سے وہ تمام پردے ہٹ گئے جنہوں نے ایک سادہ سی حقیقت کو سمجھنا ان کے لیے ناممکن بنا دیا تھا۔ جو شخص مضبوط دلائل کے آگے ہتھیار ڈالنے پر تیار نہ ہوتا، جو شخص مضبوط دلائل کے آگے ہتھیار ڈالنے پر تیار نہ ہوتا تھا، وہ ایک بچے کے کمزور الفاظ کے آگے بالکل ڈہ گیا۔ "اگر میں خود سگریٹ پیتا رہوں تو میں اپنے بچے کو سگریٹ پینے سے باز نہیں رکھ سکتا۔
" انہوں نے سوچا، بچے کا یہ کہنا کہ "ابّا بھی تو پیتے ہیں" ان کے لیے ایک ایسا ہتھوڑا بن گیا جس کی ضرب کو برداشت کرنے کی طاقت ان کے اندر نہ تھی۔ بچے کی زبان سے یہ الفاظ سن کر ان کو سخت جھٹکا لگا۔ انہوں نے ایک لمحے کے اندر وہ فیصلہ کر لیا جس کے لیے ان کے دوستوں کو مہینوں اور سالوں کی کوشش بھی ناکافی ثابت ہوئی تھی۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا۔
انہوں نے طے کر لیا کہ وہ سگریٹ پینا بالکل چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے نہ صرف اگلے دن سگریٹ نہیں پی، بلکہ مستقل طور پر سگریٹ نوشی ترک کر دی۔ ان کو سگریٹ سے محبت تھی، مگر بیٹے سے اس سے زیادہ محبت تھی۔ اس نے بیٹے کی خاطر سگریٹ کو چھوڑ دیا۔
اسی طرح ہر آدمی کو اپنے مفادات اور مصالحے سے محبت ہوتی ہے۔ اسلام یہ ہے کہ خدا کی محبت اتنی بڑھ جائے کہ اس کی خاطر آدمی دنیا کے مفادات اور مصالحے کو قربان کر دے۔ امریکہ میں مقیم ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے بچوں کے بارے میں ہم کو یہ فکر رہتی ہے کہ ہمارے بعد دینی اعتبار سے ان بچوں کا کیا حال ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ہمارے بچے سیکولر اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ البتہ ہم اپنے گھر پر اسی کے ساتھ بچوں کی دینی تربیت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امریکہ میں اس کو ہوم اسکولنگ کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ جب آپ نے امریکہ میں رہنے کا فیصلہ کیا تو آپ کو یہ جاننا چاہیے کہ آپ یہاں کے کلچر سے اپنے بچوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔
اس کلچرل سیلاب کا مقابلہ ہوم اسکولنگ کے ذریعے کرنا ایسا ہی ہے جیسے کاغذ کی دیوار سے سیلاب کا مقابلہ کرنا۔ تجربہ بتاتا ہے کہ غالباً کوئی ایک بچہ بھی ایسا نہیں جس کی مثال کو لے کر یہ کہا جا سکے کہ ہوم اسکولنگ کا طریقہ اپنے مطلوب نشانے کو حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ ایسی حالت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایک طرف گھر کے ماحول کو بدلا جائے اور دوسری طرف بچوں کے اندر دعوتی ذہن پیدا کیا جائے۔ گھر میں سادگی یعنی سمپلیسٹی اور بچوں کے اندر دعوتی ذہن پیدا کیے بغیر اس کلچرل سیلاب کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔
کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 65۔