Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Ek misaal.

Urdu · 3 min

ایک مثال: ریڈیو میں ایک پروگرام آتا ہے جو صرف عورتوں کے لیے ہوتا ہے، اس میں عورتوں سے متعلق مختلف عنوانات دیے جاتے ہیں۔ اسی پروگرام کے تحت ایک دن ماں اور اس کے بچوں کے درمیان تعلقات کا موضوع زیرِ بحث تھا۔ کئی ماؤں نے اس پہلو سے اپنے تجربات کو بیان کیا۔ مثلاً ایک ماں نے کہا کہ میرے دو بچے ہیں، ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔

میں ایک ورکنگ وومن ہوں، مجھے اپنے جاب کے لیے روزانہ گھر سے باہر جانا پڑتا ہے۔ جب میں باہر جاتی ہوں تو اپنے بچوں سے سختی کے ساتھ یہ کہہ کر جاتی ہوں کہ دیکھو، یہ کرنا اور وہ نہ کرنا۔ پھر اس نے ہنستے ہوئے کہا کہ میری بیٹی کہتی ہے، "ممی، تم تو ہٹلر ممی ہو۔ " یہ گفتگو ٹیلیفون پر ہو رہی تھی، ریڈیو کی خاتون اناؤنسر نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے بچوں کو آرڈر کرتی ہیں۔

مسکرا خاتون نے فوراً کہا کہ نہیں، نہیں، میں آرڈر نہیں کرتی۔ مسکرا خاتون نے اپنے بچوں کے بارے میں جو بات کہی، وہ بلاشبہ آرڈر دینے والی بات تھی۔ اس کی تصدیق خود اس کی اپنی بیٹی کے ریمارک سے ہوتی ہے۔ اس کے باوجود، مسکرا خاتون نے کہا کہ نہیں، نہیں، یہی موجودہ زمانے میں تقریباً تمام عورتوں اور مردوں کا حال ہے۔

وہ ایک بات کہیں گے اور جب ان سے مزید پوچھا جائے تو وہ فوراً لفظ بدل کر کہہ دیں گے کہ نہیں، میرا یہ مطلب نہیں۔ یہ بھی جھوٹ کی ایک قسم ہے۔ عام جھوٹ اگر کھلا ہوا جھوٹ ہوتا ہے تو یہ جھوٹ ایک چھپا ہوا جھوٹ، یعنی کذبِ خفی ہے۔ اس قسم کا جھوٹ کسی انسان کے لیے نہایت تباہ کن ہے۔

وہ آدمی کے اندر کمزور شخصیت، یعنی ویک پرسنالٹی، پیدا کرتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر کمزور شخصیت ہو، ان کا ذہنی ارتقا نہیں ہو سکتا۔ ایسے لوگوں کے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ آخرت کی دنیا میں ایسے کمزور شخصیت والے لوگ خدا کے پڑوس میں جگہ پانے سے محروم رہیں گے۔

کھلا ہوا جھوٹ اگر حرام ہے تو چھپا ہوا جھوٹ انسانی شخصیت کے لیے ہلاکت خیز ہے۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 64۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.