Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-Shakhsiyat
Tameer-e-Shakhsiyat

صبر، بے صبری

Urdu · 2 min read

کسی آدمی کے ساتھ آپ کا مسئلہ پیدا ہو تو ایک صورت یہ ہے کہ آپ خود اس کے حل کی ذمہ داری قبول کریں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ مسئلہ کے حل کی ذمہ داری دوسرے آدمی کے اوپر ڈالیں۔ پہلا طریقہ صبر کا طریقہ ہے، اور دوسرا طریقہ بے صبری کا طریقہ ۔

صبر کا مطلب خود ذمہ داری قبول کرنا ہے ، اور بےصبری کا مطلب دوسرے کے اوپر ذمہ داری ڈالنا۔ یہی مختصر الفاظ میں صبر اور بے صبری کا خلاصہ ہے۔

صبر آدمی کے اندر مثبت نفسیات پیدا کرتی ہے۔ صبر والا آدمی پیش آمدہ صورت حال کو چیلنج سمجھتا ہے اور اس سے مقابلہ کر کے اس کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی ساری طاقت کو محنت اور عمل کی طرف موڑ دیتا ہے۔ وہ اپنے وقت کا ہر لمحہ اور اپنے اثاثہ کا ہر ذرہ تعمیر کے راستوںمیں لگاتا ہے۔ نئے حالات کا جھٹکا اس کو از سرِ نو بیدار کر دیتا ہے، بھر پور جدوجہد کے ذریعہ وہ مزیداضافہ کے ساتھ اپنی غلطیوں کی تلافی کر لیتا ہے۔

اس کے برعکس، بے صبر آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کی پوری سوچ منفی ہو جاتی ہے۔ اس کا ذہن احتجاج اور شکایت کے رخ پر چل پڑتا ہے۔ وہ اپنے اثاثہ کو تعمیر خویش کے بجائے تخریب غیر کے محاذ پر لگا دیتا ہے ، وہ اپنی کمی کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ دوسرے کو غلط ثابت کرنے کو کام سمجھ کر اس میں مصروف ہو جاتا ہے۔ پہلے اگر وہ اپنی بے عملی سے محروم ہوا تھا ،تو اب وہ غلط عمل کی بنا پر اپنے کو مزید محروم کرلیتا ہے۔

صبر کا مطلب سوچ کراقدام کرنا ہے اور بے صبری کا مطلب بے سوچے سمجھے اقدام کرنا۔ صبر منصوبہ بندعمل ہےاور بے صبری عجلت کی کارروائی۔ صبر حالات کا اندازہ کر کے حالات سے نپٹنا ہے اور بے صبری حالات کا اندازہ کیے بغیر حالات میں کو دپڑنا۔ صبر دانش مندانہ تدبیر ہے اور بے صبری جذباتی ہنگامہ آرائی۔صبر انجام کار کو ملحوظ رکھتے ہوئے متحرک ہونا ہے اور بے صبری انجام کار سے بے پروا ہو کرحرکت میں آجانا۔

صبر گویا اپنے ساتھ دوسروں کو بھی جاننا ہے اور بے صبری گویا صرف اپنے آپ کو جاننا۔ پہلا آدمی ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے اور دوسرا آدمی ہمیشہ ناکام ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.