← Tameer-e-ShakhsiyatTameer-e-Shakhsiyat
صبر کا سفر
Urdu · 8 min read
قرآن میں بتایاگیاہے کہ صبر کرنے والوں کو بلاحساب اجردیاجائے گا (39:10)۔ دوسری آیتوں اورحدیثوں کو ملاکردیکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ اس لامحدوداجرکا تعلق دنیاسے بھی ہے اورآخرت سے بھی ۔دنیامیں جولوگ اپنے معاملات کو صبر کے اصول پر چلائیں وہ یہاں غیر معمولی کامیابی حاصل کریں گے ۔اسی طرح جولوگ صبر وبرداشت کی قیمت دیتے ہوئے خداکے دین کو اختیار کریں وہ آخرت میں خداکے غیر معمولی انعامات کے مستحق قرار دیے جائیں گے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا کا محبوب بندہ وہ ہے جو اپنی خود پسندی کو خدا پسندی میں گم کر دے۔ جو اپنی بات کے مقابلہ میں حق کی بات کو اختیار کرے۔ جو دنیا کی عزت کے مقابلہ میں آخرت کی عزت کو اہمیت دینے لگے۔ لوگوں کی طرف سے خواہ کتنی ہی تلخیاں پیش آئیں، مگر وہ اپنی طرف سے جوابی کارروائی نہ کرے۔ اسی کا نام صبر ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ بے حد مشکل راستہ ہے، مگر اس میں بھی شک نہیں کہ یہی وہ راستہ ہے جو کسی کو جنت کی طرف لے جانے والا ہے ۔ جنت صبر کرنے والوں کو ملتی ہے اور صبر کرنے والا وہ ہے جو اللہ کی خاطر اپنے آپ کو ہر محرومی پر راضی کرے۔
امتحان کی اس دنیا میں تلخیوں اور ناخوش گواریوں کے بغیر چارہ نہیں ۔ جو شخص جنت کا مسافر بننا چاہے، اس کو جان لینا چاہیے کہ وہ ایک ایسے راستہ پر چلنے کا ارادہ کر رہا ہے جس میں لوگوں کی طرف سے کڑوی باتیں پیش آئیں گی ۔ جس میں لمبے انتظار کی مشقت برداشت کرنی ہوگی۔ جس میں مخالفین کی طرف سے طرح طرح کی دل آزاریاں ہوں گی۔ ان مواقع پر حق کا مسافراگر صبر کو کھودے، اگر وہ بے برداشت ہو جائے تو وہ درمیان ہی میں اپنے راستہ کو کھوٹا کرے گا، وہ جنت کی منزل تک نہ پہنچ سکے گا ۔
جنت کا سفر تمام کا تمام صبر کا سفر ہے۔ جنت میں وہی شخص پہنچے گا جو صبر کی تلخیوں کو سہنے کے لیے تیار ہو، جو جذبات کی پامالی پر بھی بے ہمت ہونا نہ جانے، جو نفس کی ہر چوٹ کو اپنے سینہ کی ویرانیوں میں چھپالے۔
آخرت کا راستہ صبر کا راستہ ہے
’’وہ لوگ اپنے واجبات کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی ۔ وہ اللہ کی محبت میں غریب اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ہم تم کو صرف اللہ کی رضا مندی کے لیے کھلا رہے ہیں۔ ہم تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتے ہیں اور نہ شکر گزاری چاہتے ہیں۔ ہم کو تو اپنے رب کی طرف سے ایک سخت اور تلخ دن کا اندیشہ ہے۔ پس اللہ ان کو اس دن کی سختی سے بچالے گا اور ان کو تازگی اور خوشی عطا کرے گا اور ان کے صبر کے بدلے ان کو جنت اور ریشمی لباس عطا کرے گا۔ وہ وہاں تختوں پر مسندیں لگائے ہوئے ہوں گے ۔ وہاں نہ گر می کی تکلیف ہوگی اور نہ سردی کی ۔ جنت کے درخت ان پر جھکے ہوئے سایہ کر رہے ہوں گے ۔ اس کے پھل ہر وقت ان کے بس میں ہوں گے ۔ لوگ ان کے پاس چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے لیے پھر رہے ہوں گے ۔ وہ شیشے بھی چاندی کے ہوں گے جن کو بھرنے والوں نے ٹھیک اندازہ کے مطابق بھرا ہوگا ۔ ان کو وہاں ایسے پیالے پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔ یہ جنت کا ایک چشمہ ہو گا جس کو سلسبیل کہا جاتا ہے ۔ ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے دوڑ تے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے رہیں گے ۔ تم ان کو دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دیے گئے ہیں۔ وہاں تم جدھر بھی نگاہ ڈالو گے ہر طرف نعمتیں اوربڑی بادشاہی دیکھو گے۔ ان کے اوپر باریک ریشم کے سبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے ۔ ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب ان کو پاکیزہ شراب پلائے گا۔ یہ ہے تمھارا بدلہ اور تمھاری کوشش اللہ کے یہاں مقبول ہوئی‘‘ (76:7-22)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
قرآن کا یہ ارشاد بتا رہا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جن کی کوششیں آخرت میں سعی مشکور (76:26) کا درجہ حاصل کریں گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آخرت کی ہولنا کیوں کا اتنا شدید احساس رکھتے ہوں کہ وہ ان کے اوپر ایک قسم کا آسمانی محاسب بن کر چھا جائے ۔ ان کا حال یہ ہو جائے جیسے کہ وہ موت کی دوسری طرف جہنم کو بھڑکتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور اسی کے زیر اثر سارا کام کر رہے ہیں ۔ وہ جب کوئی عہد کریں ، خواہ منت کا عہد ہو یا ایمان کا عہد یا قول و قرار کا عہد ، تو وہ اس کو اس طرح پورا کریں جیسے وہ بے پناہ یقین کے ساتھ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اگر انھوں نے اس کو پورا نہ کیا تو جہنم کی آگ انھیں پکڑلے گی ۔ ان کا ایمان باللہ ان پر جن باتوں کو لازم کر رہا ہے اور ان کا عہدان کو جن چیزوں کا پابند بنارہا ہے، ان کو وہ اس طرح پورا کریں جیسے وہ ایک ایسی سرحد پر کھڑے ہوئے ہیں جہاں ان کے لیے دو میں سے صرف ایک چیز کے انتخاب کاسوال ہے۔ یا قول و قرار کے تقاضوں کو پورا کرنا یا جانتے بوجھتے اپنے آپ کو جہنم کے الاؤ میں گرا دینا ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آخرت کے احساس ہی کے تحت ان کے اندر جو دوسری خصوصیت پیدا ہوتی ہے وہ بندوں کے ساتھ مہربانی ہے۔ وہ اپنے لیے اپنے رب سے مہربانی چاہتے ہیں، اس لیے وہ خود بھی دوسروں کے ساتھ مہربانی کرتے ہیں۔ وہ اپنی کمائی میں محتاجوں کا حق سمجھنے لگتے ہیں ۔ وہ ان لوگوں کا سہارا بنتے ہیں، جو حالات کے نتیجہ میں بے بس ہو گئے تھے یا بندشوں میں پھنسے ہوئے تھے ۔ بندگان خدا کی خدمت کا یہ کام جو وہ کرتے ہیں ، بدلہ اور شکرانہ وصول کرنے کے لیے نہیں کرتے ۔ اس کا محرک تمام تر یہ ہوتا ہے کہ آخرت کے دن جب وہ خدا کے سامنے تمام کمزوروں سے زیادہ کمز ور حالت میں کھڑے ہوں ، اس وقت ان کا خدا ان کو بے یارو مددگار نہ چھوڑے، بلکہ ان کی مدد فرمائے۔ دنیا کی زندگی میں کسی کے ساتھ اچھا سلوک ان کے لیے دراصل ایک عملی دعا ہوتی ہے۔ وہ بھوکے کو کھلاتے ہیں ،تاکہ خدا ان کو کھلائے ۔ وہ کمزوروں کو سہارا دیتے ہیں،تا کہ خدا ان کو سہارا دے۔ وہ انسانوں کی طرف سے ڈالی ہوئی تکلیفوں کو معاف کرتے ہیں، تاکہ خدا ان کی غلطیوں کو معاف کر دے۔
ان لوگوں کو یہ نعمتیں اس لیے ملیں گی کہ انھوں نے صبر کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کل کی دنیا کے لیے جینا، دکھائی دینے والے ’’جنت اور جہنم‘‘ کو نظر انداز کر کے، نہ دکھائی دینے والے جنت و جہنم کے لیے سرگرم ہونا، ایک بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں ہر وقت آدمی کے صبر کا امتحان ہے۔ اس راہ میں کہیں ملتے ہوئے فائدوں سے محرومی کو گوارا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی خارجی مجبوری کے بغیر خودسے اپنے آپ کو کسی چیز کا پابند کر لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی بے عزتی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کہیں زیادہ کو چھوڑ کر کم پر قانع ہونا پڑتا ہے۔ کہیں قدرت رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ پاؤں کو روک لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی مقبولیت کو دفن کرنے پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ کہیں شہرت اور استقبال کے راستے کو چھوڑ کر گم نامی کے طریقے کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ کہیں الفاظ کا ذخیرہ ہوتے ہوئے اپنی زبان کو بند کر لینا پڑتا ہے۔ کہیں جانتے بوجھتے دوسرے کا بوجھ اپنے سر پر لے لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنے آپ کو ایک ایسے کام میں شریک کرنا پڑتا ہے، جس میں کسی قسم کا کوئی کریڈٹ ملنے والا نہیں۔ غرض جنت کی طرف سفر کا سارا معاملہ صبر و برداشت کا معاملہ ہے۔ جو اپنے آپ کو دبانے اور کچلنے کے لیے تیار نہ ہو، وہ کبھی اس راہ کو طے نہیں کر سکتا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ لِمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُونَ (28:80)۔ یعنی،اور کہا ان لوگوں نے جن کو علم ملاتھا ، خرابی ہو تمھاری۔ اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لایا اور نیک عمل کیا۔ اور یہ بات انھیں کے دل میں پڑتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دنیا کی زندگی در اصل صبر کا امتحان ہے۔ صبر کی ایک قسم وہ ہے جو باہر کی دنیا کے خلاف ظاہر ہوتی ہے۔ آدمی ماحول کی رکاوٹوں کا خاموش مقابلہ کرتے ہوئے اپنے دینی سفر کو جاری رکھتا ہے۔ مگر سب سے بڑا صبر وہ ہے جو خود اپنے خلاف پیش آتا ہے۔ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی نا خوش گوار واقعہ پیش آنے کی وجہ سے اپنے کسی بھائی کے خلاف نفرت اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہے، ایسے موقع پرمنفی جذبات کی پرورش سے اپنے کو روکنا پڑتا ہے ۔ کسی کی ترقی اور مقبولیت کو دیکھ کر اس کے خلاف حسد جاگ اٹھتا ہے۔ اس وقت دشمن جیسی بے رحمانہ نظر سے اپنے دل کوٹٹولنا پڑتا ہے، تاکہ حسد اور رقابت کے بیج کو نکال پھینکا جائے ۔ کبھی آدمی ایک شخص کو اچھا سمجھتا ہے، حالاں کہ اس کی وجہ صرف اس کا نیاز مندانہ انداز ہوتا ہے اور کبھی ایک شخص کو برا سمجھتا ہے، حالاں کہ اس کی وجہ صرف اس کا تنقید و احتساب کا مزاج ہوتا ہے ۔ ایسے مواقع پر اپنے آپ کو کھینچ کر ایسے مقام پر لے جانا پڑتا ہے، جہاں وہ تعریف و تنقید سے بلند ہو کر دوسروں کے بارے میں رائے قائم کر سکے ۔ دوسروں کے ساتھ انصاف اور خیر خواہی کے بغیر کوئی شخص دین دار نہیں بنتا اور انصاف اور خیر خواہی پر قائم ہونا صبر کے بغیر ممکن نہیں ۔