Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Tameer-e-shakhsiyat ka raaz

Urdu · 4 min

تعمیر شخصیت کا راز: ہر انسان کامیابی چاہتا ہے، مگر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کامیابی کا حصول درست طریقے سے ہونا چاہیے، نہ کہ غلط طریقے سے۔ اس سلسلے میں قرآن کا ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۗ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ. سورہ نمبر 2، آیت 168۔ یعنی: اے لوگو!

زمین کی چیزوں میں سے حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ، اور شیطان کی پیروی مت کرو؛ بے شک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ رزق کے معاملے میں حلال کا طریقہ اختیار کرے۔ یہاں یہ الفاظ محدود طور پر صرف کھانے پینے کے بارے میں نہیں ہیں، بلکہ پوری زندگی کے بارے میں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان آزاد ہے کہ وہ اپنے لیے کامیابی حاصل کرے، لیکن انسان کو طریقہ یعنی method کے معاملے میں آزادی نہیں ہے۔

انسان پر لازم ہے کہ وہ خدا کے مقرر کیے ہوئے صرف حلال اور طیب طریقے کو اختیار کرے۔ اللہ کا حلال اور طیب طریقہ ہے: صبر اور شکر کا طریقہ، جس میں منفی سوچ نہ ہو، اشتعال انگیزی نہ ہو، دوسروں کے ساتھ رواداری کا معاملہ کیا جائے۔ اس کے برعکس، وہ ایسے طریقے کو اختیار نہ کرے جو اللہ کے قائم کردہ حدود کے مطابق غیر حلال اور غیر طیب حیثیت رکھتا ہو۔ یعنی بے صبری کا طریقہ، مثلاً دوسروں پر ظلم کر کے کامیابی حاصل کرنا۔

استحصال یعنی exploitation کا طریقہ اختیار کر کے اپنے کو کامیاب بنانا۔ جو چیز دوسرے کا حق ہو، اس کو غلط طریقہ اختیار کر کے اپنا بنانا، وغیرہ۔ حلال طریقے کا مطلب کوئی پراسرار طریقہ نہیں ہے؛ حلال طریقے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدا کی scheme of things کو سمجھے اور اس سے مطابقت کرتے ہوئے زندگی گزارے۔ جو شخص یا قوم خدا کی scheme of things سے مطابقت کرے گا، وہ کامیاب ہوگا، اور جو اس سے مطابقت نہیں کرے گا، وہ ناکام ہو کر رہے گا۔

اس معاملے میں انسان کا اصل کام یہ ہے کہ وہ خالق کی scheme of things کو جانے، اور اس کی کامل مطابقت کرتے ہوئے اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 494۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.