Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sawal-o-jawab

Urdu · 3 min

سوال۔ یہاں ہمارے ساتھی اس بات سے منفی، یعنی نیگیٹو، ہو رہے ہیں کہ وہ دعوتی کام کرتے ہیں لیکن لوگ تبدیل نہیں ہوتے۔ اس کا حل کیا ہو، اور اپنے دعوتی ساتھیوں کو کیسے سمجھایا جائے؟ تاریخ بدر، پاکستان۔

جواب۔ جو لوگ دعوت کے معاملے میں اس طرح کی منفی بات کہتے ہیں، ان کو قرآن کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ قرآن میں نبیوں کا تذکرہ ہے؛ انبیاء وہ لوگ ہیں جو دعوت کے معیاری ماڈل تھے۔ انہوں نے جب لوگوں کے سامنے دعوت پیش کی تو اکثریت نے منفی ردعمل کا اظہار کیا، چنانچہ قرآن میں اس تجربے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: «يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ» سورہ نمبر 30 آیت 36۔

یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا، وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دعوت کے مقابلے میں منفی ردعمل کے باوجود انبیاء اپنا دعوتی کام کرتے رہے۔ انہوں نے لوگوں کی شکایت نہیں کی، اور نہ اپنا دعوتی کام چھوڑا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انبیاء جو دعوتی کام کرتے تھے، وہ مدعو کے لیے نہیں کرتے تھے، بلکہ اللہ کے لیے کرتے تھے۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء دعوت کے کام میں ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے جو لوگ دعوت کا کام کریں، ان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اس ماڈل کو اپنے سامنے رکھیں، مثلاً پیغمبر اسلام آخری پیغمبر ہیں۔ آپ کی مثال بتاتی ہے کہ دعوت کا ایک اصول ری پلاننگ ہے۔ مکی دور کا طریقہ مؤثر نہیں ہوا تو آپ نے دعوت کا دوسرا منصوبہ بنایا۔

اور یہ دوسرا منصوبہ اتنا زیادہ کامیاب ہوا کہ پوری قوم نے ان کی دعوت کو قبول کر لیا۔ اس نمونے سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کا ایک اصول ری پلاننگ ہے۔ اگر ایک طریقہ، یعنی میتھڈ، مؤثر نہ ہو تو داعی کو چاہیے کہ وہ دوسرے طریقے کا تجربہ کرے۔ عین ممکن ہے کہ دوسرا طریقہ اللہ کی مدد سے کامیاب ثابت ہو۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 490۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.