Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Niza ka muaamala

Urdu · 3 min

نزاع کا معاملہ: یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی دو یا زیادہ آدمیوں کے درمیان کوئی نزاع ہو، تو معمولی بات پر وہ بھڑک اٹھتا ہے، اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آخری حد تک پہنچنے سے پہلے وہ ختم نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسی نادانی ہے جو پوری تاریخ میں ایک ہی انداز پر جاری رہی ہے، اور آج بھی جاری ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ جب تک نزاع کی صورت پیدا نہ ہو، فریقین نارمل انسان نظر آتے ہیں، لیکن اختلاف کی صورت پیدا ہونے کے بعد اچانک دونوں فریق غیر نارمل بن جاتے ہیں۔ پھر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ نارمل انداز میں سوچیں اور پرامن بات چیت سے نزاع کو ختم کر لیں۔

اس کا سبب یہ ہے کہ نزاع سے پہلے معاملہ عقل کے درمیان ہوتا ہے، لیکن نزاع شروع ہونے کے بعد عقل پسِ پشت چلی جاتی ہے، اور دونوں فریق ایگو کے زیرِ اثر آ جاتے ہیں۔ پہلے اگر وہ نتیجے کو سامنے رکھ کر سوچتے تھے، تو اب وہ جذبات کے زیرِ اثر سوچنے لگتے ہیں۔ اس معاملے میں بہترین تدبیر یہ ہے کہ معاملے کو عقل کی حد میں رکھا جائے، اس کو جذبات تک پہنچنے نہ دیا جائے۔ اس معاملے میں فارمولا یہ ہے: When one's ego is touched, it turns into superego, and the result is breakdown.

اگر فریقین ٹھنڈے ذہن کے ساتھ نتیجے کو لے کر سوچیں، تو ان کو سمجھ میں آ جائے گا کہ نزاع جاری رکھنے کا انجام دونوں کے حق میں برا نکلے گا۔ دونوں کے حق میں صرف نقصان آئے گا، دونوں میں سے کسی کو بھی کوئی فائدہ ملنے والا نہیں۔ معاملے پر عقلی انداز میں سوچنا دونوں کو ایک ہی انجام تک پہنچاتا ہے، وہ یہ کہ نزاع کا جاری رکھنا کسی کے حق میں اچھا نہیں۔ جبکہ نزاع کو پہلی فرصت میں ختم کر لینا دونوں کے لیے مفید ہے۔

نزاع کا واحد حل صرف یہ ہے کہ نزاع کو پہلی فرصت میں بلا شرط ختم کر دیا جائے۔ اس حکمت کو ملحوظ رکھا جائے تو انسان بہت سے نقصانات سے بچ جائے گا۔ یہ نزاع کے مسئلے کا سب سے زیادہ آسان حل ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 448۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.