Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Anger energy

Urdu · 3 min

اینگر انرجی: غصے کو عام طور پر ایک منفی ظاہرہ سمجھا جاتا ہے، لیکن غصے کا ایک مثبت پہلو ہے۔ آدمی اگر غصے کے وقت بے صبر ہو جائے تو غصہ اس کے لیے نقصان کی چیز بن جاتا ہے۔ لیکن آدمی اگر غصے کے وقت خود کو کنٹرول کرے تو غصہ اس کے لیے ایک مثبت عمل بن جائے گا۔ غصہ اجتماعی زندگی کا ایک ظاہرہ ہے۔

آدمی اگر تنہائی کی زندگی گزار رہا ہو تو اس کو غصہ نہیں آئے گا۔ غصہ اس وقت آتا ہے جب آدمی دوسروں کے درمیان ہو، اور دوسروں کی کوئی بات اس کو پسند نہ آئے۔ اس وقت اس کے اندر غصہ بھڑکتا ہے۔ لیکن غصہ اپنی ذات میں کوئی برائی نہیں۔

غصہ اس وقت بری چیز بن جاتا ہے جب آدمی غصے کے وقت ردعمل کا شکار ہو جائے، وہ غصے کو مینج کرنے میں ناکام رہے۔ غصہ ایک فطری ظاہرہ ہے۔ غصہ کسی آدمی کے لیے ایک شوکنگ تجربہ ہوتا ہے۔ جب کسی آدمی کو غصہ آتا ہے تو فطری طور پر اس کے اندر سے بڑی مقدار میں اینگر انرجی خارج ہوتی ہے۔

غلط یہ ہے کہ آدمی اپنی اینگر انرجی کو مینج نہ کر سکے۔ لیکن اگر آدمی اپنی اینگر انرجی کو مینج کر لے تو وہ اس کی فکری طاقت میں اضافے کا ذریعہ بن جائے گی۔ جب کسی بات پر آدمی کو غصہ آتا ہے تو اس کے اندر سوچنے کا عمل، یعنی تھنکنگ پراسیس، بہت تیز ہو جاتا ہے۔ یہ ظاہرہ اس کی فکری طاقت کو بہت بڑھا دیتا ہے۔

وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس کی قوت فیصلہ بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس کی کارکردگی کی طاقت میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر چھپی ہوئی توانائی شدت کے ساتھ جاگ اٹھتی ہے۔

اس کے دماغ کی بند کھڑکیاں کھل جاتی ہیں۔ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ جب غصہ آئے تو صرف یہ کیجیے کہ چپ ہو کر سوچنا شروع کر دیجیے۔ اور اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوگا کہ غصے کے وقت ریلیز ہونے والی اینگر انرجی مثبت انرجی بن جائے گی۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 444۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.