← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Ikhtelaaf-e-raye
Urdu · 6 min
اختلافِ رائے: مغرب کے سفر میں میری ملاقات ایک بڑے مغربی اسکالر سے ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ مغرب، یعنی West، کی ترقی کا راز کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: اختلافِ رائے کو انسان کا ناقابلِ تنسيق حق سمجھنا۔ To accept dissent as an absolute human right.
مغربی اسکالر کے اس جواب کو سننے کے بعد میں نے اس موضوع کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ مجھے معلوم ہوا کہ اس موضوع پر کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں، مثلاً "Dissent: The History of an American Idea" by Rolf Young on Liberty by John Stuart Mill، "The Constitution of Liberty" by F. A. Hayek۔
اس موضوع پر اپنے مطالعے کے نتیجے میں میں اس رائے کی صداقت پر مطمئن ہو گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مغربی تہذیب سے پہلے انسانی تاریخ میں اختلافِ رائے کو انسانی حق، یعنی human right، کا درجہ حاصل نہ تھا۔ یہ صرف مغربی تہذیب کے بعد ہوا ہے کہ اختلافِ رائے کو متفقہ طور پر ایک یونیورسل نام کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ اختلافِ رائے کو "dissent" کا نام دینا مغربی تہذیب کا ظاہرہ ہے۔
مغربی تہذیب سے پہلے یہ لفظ موجود نہ تھا۔ "dissent" ایک نیوٹرل لفظ ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ مثبت اختلاف کے لیے یہ ایک صحیح ترین لفظ ہے۔ مثبت اختلاف صرف اختلاف ہوتا ہے، وہ نہ موافق ہوتا ہے اور نہ مخالف۔ میں سمجھتا ہوں کہ مثبت اختلاف اجتماعی ترقی کے لیے شرطِ لازم ہے۔
اختلاف اگر صرف اختلاف ہو تو وہ نہایت آسانی سے مخالفت کی شکل اختیار کر لیتا ہے، اور مخالفت صرف ایک منفی سرگرمی ہے۔ مخالفت کو مثبت سرگرمی بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کو مثبت معنی دے دیا جائے۔ یعنی اختلاف کو "dissent" کا معنی قرار دینا۔ مثبت اختلاف طرفین کے لیے ذہنی ارتقاء کا ذریعہ ہے، جبکہ منفی اختلاف کا دونوں میں سے کسی کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔
میں ذاتی طور پر اختلافِ رائے کو یہی درجہ دیتا ہوں۔ میں نے اپنے ذاتی تجربے سے یہ سمجھا ہے کہ اختلافِ رائے کو نہ ماننا خود اپنے ساتھ دشمنی کرنا ہے۔ اس لیے کہ اختلافِ رائے کے ذریعے زیرِ بحث مسئلے کے مختلف پہلو کھلتے ہیں، اس کے مختلف گوشے سامنے آتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اختلافِ رائے کسی انسان کے لیے ذہنی ارتقاء، یعنی intellectual development، کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
میں اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ جو آدمی اختلافِ رائے کو برداشت نہ کرے، وہ یقینی طور پر ایک بہت بڑی نعمت سے محروم ہو گیا۔ اور وہ نعمت ہے ذہنی ارتقاء۔ کسی نے درست طور پر کہا ہے: "من هو ناصحك خيرٌ لك ممن هو مادحٌ" یعنی جو شخص تمہیں نصیحت کرے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہاری تعریف کرے۔ جو آدمی حقیقت پسند ہو وہ یقیناً تنقید یا اختلافِ رائے کو اپنے لیے ایک نعمت سمجھے گا، کیونکہ تنقید اور اختلافِ رائے ہمیشہ فکر کے نئے دروازے کھولنے والا ہے۔
تنقید یا اختلافِ رائے کو کھلے ذہن کے ساتھ سننا میرے نزدیک کوئی تقویٰ کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ خالص علمی بات ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کے اندر سائنٹیفک ٹیمپر موجود ہے۔ سائنٹیفک ٹیمپر اپنی اصل کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی کے اندر اعترافِ حقیقت، یعنی accept، یعنی acceptance of reality، کا مزاج ہو۔ جب آپ اپنا یہ حق سمجھتے ہیں کہ آپ آزاد ہیں، جب آپ اپنا یہ حق سمجھتے ہیں کہ آپ آزادانہ سوچیں اور آزادانہ رائے قائم کریں، تو فطرت کے قانون کے مطابق آپ کو یہ بھی ماننا چاہیے کہ دوسرے شخص کو بھی یکساں طور پر اپنی رائے رکھنے اور اس کے اظہار کا حق حاصل ہے۔
اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اختلافِ رائے کو کھلے ذہن کے ساتھ سننا گویا حقیقتِ واقعے کا اعتراف کرنا ہے۔ اسی اعتراف کا دوسرا نام "scientific spirit" ہے۔ تعمیرِ شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 437۔