Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Reaction ka tareeqa

Urdu · 4 min

ری ایکشن کا طریقہ: زندگی کے معاملے میں اصولی بات یہ ہے کہ تشدد کا طریقہ دراصل ری ایکشن کا طریقہ ہے، اور ری ایکشن کا طریقہ کبھی بھی کسی مثبت نتیجے تک نہیں پہنچتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہمیشہ ایک ری ایکشن کے بعد دوسرا ری ایکشن پیدا ہوتا ہے، اور اس طریقہ کار کے نتیجے میں جو چیز وجود میں آتی ہے وہ چین ری ایکشن ہے، نہ کہ ری ایکشن کا خاتمہ۔ قدیم زمانے میں، ٹرائبل ایج میں ایسا ہی ہوتا تھا: لوگ برابر لڑتے رہتے تھے۔ اسلام نے یہ کیا کہ ایک طرفہ طور پر امن کا طریقہ اختیار کر کے چین ری ایکشن کو ختم کر دیا۔

اس کے بعد دنیا میں امن کا دور آیا۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک متعلق آیت کا ترجمہ یہ ہے: "اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔

" سورہ نمبر 41 آیت 34۔ قرآن کی اس آیت میں جس طریقہ کار کا ذکر کیا گیا ہے، اس کو دوبارہ اختیار کیا جائے تو دوبارہ وہی نتیجہ حاصل ہوگا جس کا مذکورہ آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی جو بظاہر دشمن نظر آتا ہے، اس کا دوست بن جانا۔ لوگ اکثر اپنے حریف کی شکایت کرتے ہیں، لیکن غور کیجیے تو یہ ظلم نہیں ہوتا، بلکہ وہ چین ری ایکشن کا نتیجہ ہوتا ہے۔

آپ نے اپنے حریف کو پتھر مارا، اس کے بعد اس نے آپ کو بم مارا، آپ نے دوبارہ حریف کے خلاف کوئی کارروائی کی، اس کے جواب میں اس نے بھی کوئی کارروائی کی۔ اس طرح ایک چین ری ایکشن شروع ہو گیا جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ تشدد کا خاتمہ جوابی تشدد سے نہیں ہوتا۔ تشدد کے خاتمے کی صرف ایک صورت ہے، وہ یہ ہے کہ آپ ایک طرفہ طور پر تشدد کی کارروائی کرنا چھوڑ دیں۔

آپ ایک طرفہ طور پر خاموش ہو جائیں۔ آپ ایک طرفہ طور پر امن کا طریقہ اختیار کر لیں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 413۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.