Maulana Wahiduddin Khan
14 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Samaaji ham aahangi

Urdu · 14 min

سماجی ہم آہنگی، انگریزی سہ ماہی میگزین "السلام" نئی دہلی سے موصول ہونے والے سوال نامے کے جواب میں یہ مضمون لکھا گیا تھا۔ الرسالہ ستمبر 2003 میں چونکہ سوال کے بغیر صرف جوابات شائع ہوئے تھے، اس لیے یہاں بھی صرف جوابات ہی نمبر وار نقل کیے جا رہے ہیں۔ نمبر 1: مختلف مذہبوں اور تہذیبوں کے سماج میں ہم آہنگی کیسے لائی جائے؟ اس کا ایک فارمولا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس قسم کے اختلافات کو بلڈوز کر کے پورے سماج کو ایک مذہب اور ایک کلچر کا سماج بنایا جائے۔

مگر یہ کوئی فارمولا نہیں، کیونکہ ایسا ہونا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ فطرت کا نظام جو خالق نے بنایا ہے، وہ یکسانیت کے اصول پر نہیں بنایا بلکہ تعدد اور تنوع کے اصول پر بنایا ہے۔ یہی تعدد اور تنوع مذہبی اور تہذیبی دنیا میں بھی موجود ہے۔ یہ خالق کے تخلیقی نقشے کا ایک حصہ ہے، اور جو چیز خود خالق کے تخلیقی نقشے کا حصہ ہو، اس کو مٹانا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔

ایسی حالت میں انسانی دنیا میں مذہبی یکسانیت یا کلچرل یکسانیت کی بات کرنا اتنا ہی بے معنی ہے جتنا کہ مادی دنیا کے تنوع کو ختم کر کے یکساں مادی نظام قائم کرنے کا منصوبہ بنانا۔ اس سلسلے میں دوسرا فارمولا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ تمام مذاہب یکساں ہیں۔ اس نظریے کے حامی لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مختلف مذاہب میں کوئی اختلاف ہی نہیں۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ فرق اور اختلاف کے ذہن کو ختم کر دیں۔

اس طرح اپنے آپ اتحاد قائم ہو جائے گا۔ یہ بات بھی سراسر بے معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مختلف مذہبوں اور مختلف تہذیبوں میں فرق اور اختلاف اتنا زیادہ حتمی صورت میں موجود ہے کہ کسی بھی دلیل سے اس کو غیر موجود ثابت کرنا ممکن نہیں۔ یہ فارمولا یقینی طور پر ایک غیر حقیقی فارمولا ہے۔

وہ عملی طور پر نہ کبھی ممکن ہوا اور نہ آئندہ وہ کبھی ممکن ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ فرق کوئی عیب نہیں، بلکہ وہ ایک خوبی ہے۔ وہ مذہبی فکر میں ارتقا کا ذریعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں صرف ایک ہی فارمولا ہے جو مفید اور قابل عمل ہے، اور وہ فارمولا وہ ہے جو رواداری یعنی ٹالرنس کے اصول پر مبنی ہے۔

اس اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک کی پیروی کرو اور سب کا احترام کرو، فالو ون اینڈ ریسپیکٹ آل۔ نمبر 2: ہندو اور مسلمانوں کے درمیان جو غلط فہمیاں موجود ہیں، ان کی ذمہ داری ہندو اور مسلمان دونوں طرف کے رہنماؤں کے اوپر یکساں طور پر عائد ہوتی ہے۔ مختلف اسباب کے تحت دونوں طرف کے رہنماؤں نے اپنے اپنے عوام کو وہ ذہن دیا جس کو شناخت یعنی آئیڈنٹیٹی کہا جاتا ہے۔ دونوں ہی نے اپنے قومی وجود کے لیے شناخت کو اہم ترین مسئلہ قرار دیا۔

اس کو پختہ کرنے کے لیے ہندو رہنماؤں نے یہ نظریہ بنایا کہ مسلمان ملچ ہیں، اور مسلم رہنماؤں نے یہ نظریہ وضع کیا کہ ہندو کافر ہیں۔ میرے نزدیک یہ دونوں نظریہ یکساں طور پر غلط ہے۔ ہندو کو دل سے یہ ماننا چاہیے کہ مسلمان انہی کی طرح انسان ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کو دل سے یہ ماننا چاہیے کہ ہندو انہی کی طرح انسان ہیں۔

جب تک سوچ میں یہ تبدیلی نہ آئے، ہماری سماجی زندگی میں معتدل تعلقات کا ماحول قائم نہیں ہو سکتا۔ اس معاملے کا ایک اور پہلو ہے، اور اس کا تعلق زیادہ تر مسلمانوں سے ہے۔ مسلمان اپنے عقیدے کی رو سے داعی ہیں، اور ہندو ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ داعی مدعو کے اس رشتے کا تقاضا ہے کہ مسلمان ایک طرفہ طور پر ذمہ داری لیں کہ انہی شرعی حکم کے مطابق تالیف قلب کے اصول پر عمل کرنا ہے۔

انہی یہ کرنا چاہیے کہ وہ ہندوؤں کی شکایتوں کو ایک طرفہ طور پر اپنے اوپر لے لیں، تاکہ دونوں فرقوں کے درمیان وہ معتدل ماحول قائم ہو جو دعوتی عمل کے لیے ضروری ہے۔ یہاں میں یہ اضافہ کروں گا کہ ہندوؤں کی کئی شکایتیں جن کو مسلمان غلط فہمی قرار دیتے ہیں، اور غلط فہمی دور کرنے کے نام پر ایک غیر مؤثر مہم لمبی مدت سے چلا رہے ہیں، اس کو انہی مکمل طور پر ترک کر دینا چاہیے۔ کیونکہ جو معاملہ ہندوؤں کے نزدیک صحیح فہمی کا ہو، اس کا خاتمہ اس طرح نہیں ہو سکتا کہ ہم اس کو غلط فہمی کہہ کر نظر انداز کر دیں۔ مثال کے طور پر، مسلم بادشاہوں کی کئی کارروائیوں پر ہندوؤں کو بجا طور پر شکایت ہے۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کھلے طور پر ان کارروائیوں کی مذمت کریں۔ وہ کھلے طور پر یہ کہیں کہ ہندوستان کی مسلم حکومتیں خاندانی حکومتیں تھیں، نہ کہ اسلامی حکومتیں۔ اس کے سوا کسی اور طریقے سے اس معاملے کا خاتمہ ممکن نہیں۔ نمبر 3: اقلیتوں اور اکثریت کے تعلقات کو کس طرح بہتر بنایا جائے؟

میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں پہل مسلمانوں کو کرنا چاہیے۔ مثلاً مسلمانوں کے اندر دو قومی نظریے کے بجائے ایک قومی نظریے کو فروغ دینا۔ مسلمانوں کے اندر فرقہ وارانہ سوچ کو ختم کر کے قومی سوچ یعنی نیشنل تھنکنگ پیدا کرنا۔ اسی طرح مسلمانوں کے اندر سے اس ذہن کو مکمل طور پر ختم کرنا کہ وہ ہندوؤں کے ایک طبقے کو دشمن ہندو اور دوسرے طبقے کو سیکولر ہندو سمجھتے ہیں۔

وہ الیکشن میں دھوم مچاتے ہیں کہ مفروضہ دشمن ہندو ہاریں اور سیکولر ہندو جیتیں۔ اس قسم کی سیاست دین اور عقل دونوں کے خلاف ہے۔ مسلمان اس قسم کی تفریقی سیاست کا تحمل نہیں کر سکتے۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ اس غیر دانشمندانہ سیاست کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا جائے۔

اس سلسلے میں دوسری ضروری چیز یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان میل ملاپ یعنی انٹریکشن زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔ قدیم زرعی دور میں یہ میل ملاپ فطری طور پر موجود تھا، مگر اب صنعتی دور میں یہ خطرناک حد تک کم ہو گیا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کریں۔ وہ ہندو اسکول اور مسلم اسکول کی تفریق کے بغیر ہر تعلیمی ادارے میں داخلہ لے کر پڑھیں۔

مسلمانوں میں اگر بھرپور طور پر اس قسم کی تعلیمی سرگرمیاں جاری ہو جائیں تو اس کا دو یقینی فائدہ ان کو حاصل ہوگا۔ اول یہ کہ تعلیمی اداروں میں تعلیم کے دوران غیر مسلموں سے ان کا میل ملاپ بڑھے گا، اور انٹریکشن اپنے آپ میں ہر مسئلے کا حل ہے۔ دوسرے یہ کہ مسلمان جب تعلیم میں آگے بڑھیں گے تو اس کے بعد فطری طور پر وہ دفتروں اور کمپنیوں اور تجارتی اداروں میں بڑی تعداد میں پہنچیں گے۔ اس طرح وہ دوری اپنے آپ ختم ہو جائے گی جو زمانی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہو گئی ہے۔

نمبر 4: پرامن بقائے باہم کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ مسلمانوں پر یہ لازم کر دیا گیا کہ وہ ایک طرفہ قربانی کے ذریعے پرامن بقائے باہم کا ماحول سماج میں قائم رکھیں۔ اسی قربانی کا نام صبر ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی طرف سے اشتعال انگیزی ہو تب بھی مشتعل نہ ہونا۔ دوسرے اگر نادانی کریں تب بھی اس سے اعراض کرنا۔

دوسرے اگر ستائیں تب بھی اس کو برداشت کر لینا۔ دوسرے اگر نزاع کھڑی کریں تو پہلے ہی مرحلے میں صلح کر کے اس کا خاتمہ کر دینا۔ دوسرے اگر نقصان پہنچائیں تو دوسروں سے لڑنے کے بجائے خدا سے اس کی تلافی کی امید رکھنا۔ دوسرے اگر فساد کریں تب بھی ان کے لیے اصلاح کی دعائیں کرنا۔

دوسرے اگر کانٹے کی کوشش کریں۔ دوسرے اگر کاٹنے کی کوشش کریں تب بھی ان سے جڑے رہنا۔ دوسرے اگر نہ دیں تب بھی ان کو دینے کی کوشش کرنا۔ دوسرے اگر ظلم کریں تب بھی انہی معاف کر دینا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملے میں اس حد تک گئے کہ ہجرت کے بعد مدینے میں آپ تقریباً 16 ماہ تک کعبے کے بجائے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے، تاکہ وہاں بسنے والے یہودیوں سے غیر ضروری ٹکراؤ نہ پیش آئے۔ قرآن میں اس معاملے میں یہ اصول مقرر کیا گیا: تمہارے لیے تمہارا دین اور ہمارے لیے ہمارا دین۔ سورہ نمبر 109 آیت 6۔ مدینے میں ہجرت کے بعد پیغمبر اسلام نے جو منشور جاری کیا، اس میں آپ نے یہ درج فرمایا کہ مسلمانوں کے لیے مسلمان کا دین اور یہود کے لیے یہود کا دین۔

لِلْيَهُودِ دِينُهُمْ وَلِلْمُسْلِمِينَ دِينُهُمْ۔ سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ 107۔ اس مقصد کے لیے یہ اعلان کیا گیا کہ تمام انسان ایک ہی جوڑے کی اولاد ہیں۔ تمام انسان آپس میں بھائی اور بہن ہیں۔

تمام انسان خدا کی عیال ہیں۔ ایک انسان اور دوسرے انسان میں دنیاوی تعلقات کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مولانا الطاف حسین حالی نے اپنے مسدس میں اپنی مسدس میں اس طرح نظم کیا ہے: یہ پہلا سبق تھا کتابِ خدا کا کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 398۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.