← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Dushman me dost
Urdu · 5 min
دشمن میں دوست۔ روایات میں آتا ہے کہ محرم 3 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غطفان کی جانب سفر کیا۔ اس سفر سے واپسی میں آپ ایک موقع پر ایک درخت کے نیچے تنہا لیٹ کر آرام فرما رہے تھے۔ اس وقت مشرکین میں سے ایک شخص ادھر سے گزرا، وہ آپ کو اکیلا دیکھ کر آپ کے پاس آیا۔
اس کے ہاتھ میں ایک تلوار تھی۔ اس نے کہا کہ اے محمد، تم کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ۔ اس کے بعد اس نے تلوار رکھ دی اور آپ کے پاس بیٹھ گیا۔
آپ نے تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور کہا کہ اب بتاؤ کہ تم کو مجھ سے کون بچائے گا؟ اس نے کہا کہ آپ بہتر تلوار لینے والے ہیں۔ آپ نے اس سے یہ وعدہ لے کر چھوڑ دیا کہ وہ آئندہ کبھی آپ کے مقابلے میں نہیں آئے گا۔ اس کے بعد وہ اپنے قبیلے والوں کے پاس گیا اور کہا کہ میں تمہارے پاس سب سے اچھے انسان سے مل کر آ رہا ہوں۔
جئتكم من عند خير الناس مسند احمد، حدیث نمبر 15190۔ سنن سعید ابن منصور، حدیث نمبر 2504۔ دوسری روایت کے مطابق اعرابی کا یہ کہنا اس کے قبیلے والوں کے لیے اسلام سے قربت کا سبب بن گیا۔ چنانچہ پورا کا پورا قبیلہ آپ کا ساتھی بن گیا۔
مغازی الواقدی، جلد 1، صفحہ 196۔ جس آدمی نے آپ کی جان لینے کا ارادہ کیا تھا، آپ کے حسن اخلاق کے نتیجے میں اس نے اپنے قبیلے کے تمام آدمی کو آپ کا ساتھی بنا دیا۔ ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر دو مختلف صلاحیتیں ہیں: ایک نفس لوامہ یعنی ضمیر، اور دوسرے نفس امارہ یعنی انانیت۔ یہ دونوں صلاحیتیں ابتدائی طور پر سوئی ہوئی حالت میں ہوتی ہیں۔
اب اگر آپ فریق ثانی کے نفس لوامہ کو جگائیں تو اس کی شخصیت کا انسانی جز آپ کے حصے میں آئے گا۔ اور اگر آپ فریق ثانی کے نفس امارہ کو جگائیں تو اس کی شخصیت کا حیوانی جز آپ کے حصے میں آئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ آپ آدمی کے وجود کے انسانی حصے کو جگائیں۔ اس لیے آپ نہ صرف اچھوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے بلکہ بروں کے ساتھ بھی آپ ہمیشہ اچھا سلوک کرتے تھے۔
اس کی وجہ سے آدمی کی چھپی ہوئی فطرت جاگتی تھی اور آخر کار وہ آپ کا ساتھی بن جاتا تھا۔ موجودہ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر عمل نہیں کرتے کہ بروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرو۔ وہ ہمیشہ رد عمل کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کا طریقہ صرف فریق ثانی کی انانیت کو جگانے کا باعث بنتا ہے۔
خدا کے بندوں کے لیے ان کے پاس معافی نہیں، البتہ ان کے پاس نفرت کافی مقدار میں موجود ہے، جس کو وہ لوگوں کے اوپر انڈیلتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو خدا کے اس باغ میں صرف کانٹے ملیں گے۔ وہ اس باغ کے پھولوں کے مالک نہیں بن سکتے۔ یہی قانون قدرت کا فیصلہ ہے۔
تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 393۔