← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Isme sabaq hai
Urdu · 11 min
اس میں سبق ہے: مولانا اکرام الدین قاسمی، پیدائش 1938 عیسوی، ڈمراواں یعنی ضلع بھاگل پور کے رہنے والے۔ فروری 1990 عیسوی کی ملاقات میں انہوں نے اپنے کچھ واقعات بتائے، جن میں بہت بڑا سبق ہے۔ 1966 عیسوی کا واقعہ ہے: مولانا اکرام الدین صاحب نے گنگا کو سٹیمر سے پار کیا، وہ براری ریلوے اسٹیشن پر بھاگل پور جانے والی پیسنجر ٹرین میں سوار ہو گئے۔ ٹرین میں بھیڑ تھی، ایک جگہ سیٹ پر ڈالڈے کا ڈبہ رکھا ہوا تھا، وہ ڈبے کو کھسکا کر وہاں بیٹھ گئے۔
تھوڑی دیر کے بعد ایک ہندو نوجوان آیا، یہ ڈبہ اسی کا تھا، وہ اس کو سیٹ پر رکھ کر باہر چلا گیا تھا۔ جب اس کو اندازہ ہوا کہ ڈبہ اپنی جگہ سے ہٹایا گیا ہے تو اس نے پوچھا کہ اس کو کس نے ہٹایا ہے؟ مولانا اکرام الدین صاحب نے کہا کہ میں نے ہٹایا ہے۔ یہ سنتے ہی وہ سخت غصہ ہو گیا، کیونکہ اس کے عقیدے کے مطابق ایک مسلمان نے اس کو چھو کر اس کو گندا کر دیا تھا۔
اس نے کہا کہ اس ڈبے میں گنگا جل تھا، اس کو لے کر میں دیو گھر جا رہا تھا، اس کو تم نے اپवित्र یعنی ناپاک کر دیا، اب وہ لے جانے کے قابل نہیں رہا۔ وہ غصے میں آپے سے باہر تھا اور نہایت گرم اور اشتعال انگیز لہجے میں بار بار کہہ رہا تھا کہ تم نے میرے گنگا جل کو اپوित्र کر دیا۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے ان باتوں کا کوئی اثر نہیں لیا، وہ خاموشی سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور سیٹ نوجوان کے لیے خالی کر دی۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ اس ڈبے میں گنگا جل ہے، اور وہ میرے چھونے سے اپوित्र ہو جائے گا۔
مجھ سے غلطی ہو گئی، مجھے معاف کر دو۔ ہندو نوجوان ان کے خلاف برستا رہا، اور وہ خاموشی سے کسی ردعمل کے بغیر اس کو سنتے رہے۔ یہ منظر دیکھ کر ڈبے کے تمام ہندو اس نوجوان کے خلاف ہو گئے اور مولانا اکرام الدین صاحب کی حمایت کرنے لگے۔ انہوں نے نوجوان سے کہا کہ مولانا جب چپ ہیں اور اپنی غلطی مان رہے ہیں تو تم کیوں ان کے خلاف اتنا زیادہ چیخ رہے ہو؟
انہوں نے مولانا اکرام الدین صاحب سے کہا کہ آپ بالکل مطمئن رہیے، یہ آپ کا کچھ نہیں کر سکتا ہے۔ آخر کار ہندو نوجوان چپ ہو گیا۔ مولانا اکرام الدین صاحب اپنی جگہ برابر کھڑے رہے۔ کچھ دیر کے بعد نوجوان نے بے رخی کے ساتھ مولانا اکرام الدین صاحب سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آ رہے ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ کھڑک بازار سے، یعنی اس وقت مولانا اسی مقام پر رہتے تھے۔ نوجوان نے کہا کہ کھڑک بازار میں ایک مولانا اکرام الدین ہیں، کیا آپ ان کو جانتے ہیں؟ وہ بہت اچھے آدمی ہیں، میری ماں ان کے پاس گئی تھی اور ان سے تعویذ لائی تھی، اس تعویذ سے بہت فائدہ ہوا۔ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔
مولانا اکرام الدین صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ابھی تو وہ سفر میں ہیں، کل تک وہ وہاں پہنچ جائیں گے، اس وقت ان سے ملاقات ہو سکتی ہے۔ ہندو نوجوان نے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم کہ وہ سفر میں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس مسافر سے تم بات کر رہے ہو، وہی مولانا اکرام الدین ہیں۔ یہ سنتے ہی ہندو نوجوان نے مولانا اکرام الدین کے پاؤں پکڑ لیے۔
اس نے کہا کہ مجھے معاف کر دیجیے، مجھ سے بہت بھاری غلطی ہو گئی۔ اس غلطی پر جی چاہتا ہے کہ میں اپنے آپ کو مار لوں۔ وہ نوجوان اپنی سیٹ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اصرار کر کے مولانا اکرام الدین صاحب کو اپنی جگہ بٹھا دیا۔ اس کے بعد وہ آخری اسٹیشن تک برابر کھڑا رہا۔
اگلے اسٹیشن پر جب دونوں اترے تو نوجوان نے اصرار کر کے مولانا کو ناشتہ کرایا۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے اس طرح کے اور کئی واقعات سنائے اور کہا کہ ہندوؤں میں ہم نے جو اخلاق پایا، وہ اخلاق ہم نے موجودہ مسلمانوں میں نہیں پایا۔ اسی طرح انہوں نے بتایا کہ 1982 میں میں تراویح سنانے کے لیے بنگلور گیا ہوا تھا۔ ایک روز میں گھنور سے کورمحلی بذریعہ اسکوٹر جا رہا تھا، راستے میں میرے اسکوٹر کا پٹرول ختم ہو گیا۔
کچھ دور تک میں اسکوٹر کو دھکیل کر لے گیا۔ پھر سڑک کے کنارے ناریل کا ایک باغ دکھائی دیا، اس کے اندر ایک کار کھڑی ہوئی تھی۔ میں باغ کے اندر گیا، وہاں ایک ہندو بیٹھا ہوا تھا۔ مجھ کو دیکھتے ہی اس نے اپنے آدمی سے کہا کہ ایک کرسی لے آؤ۔
مجھ کو کرسی پر بٹھا کر پوچھا کہ حضرت کیا کام ہے؟ میں نے کہا کہ میری گاڑی میں پٹرول ختم ہو گیا ہے، یہاں سے 8 کلومیٹر دور جانے پر مجھے پٹرول مل سکے گا۔ میں کار دیکھ کر یہاں آ گیا کہ شاید یہاں سے مجھے پٹرول مل جائے۔ مسکورہ ہندو نے فوراً اپنے ڈرائیور سے کہا کہ دیکھو، اگر باہر پٹرول ہو تو اس کو حضرت کی گاڑی میں ڈال دو، اور اگر باہر نہ ہو تو اپنی گاڑی میں سے نکال کر ان کو پٹرول دے دو۔
پٹرول لینے کے بعد میں نے اپنی جیب سے 20 روپے کا نوٹ نکالا تاکہ پٹرول کی قیمت ادا کروں۔ اب ہندو فوراً ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے کہا کہ ہم کو معاف کیجیے، پیسے کی ضرورت نہیں، ہم کو بس آپ کی دعا چاہیے۔ انسان کو غصہ نہ دلائیے، اور اگر کسی وجہ سے وہ غصہ ہو جائے تو جوابی غصہ نہ کر کے اس کو ٹھنڈا کر دیجیے۔
اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ جس کو آپ اپنا دشمن سمجھ رہے تھے، وہ آپ کے لیے ایسا ہو گیا ہے جیسے کہ وہ آپ کا قریبی دوست ہو۔ ہر آدمی خدا کا بنایا ہوا ہے، اس دنیا میں کوئی آدمی نہیں جس کو خدا کے علاوہ کسی اور نے پیدا کیا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر وہی فطرت ہے جو کسی دوسرے کے اندر ہے۔ ہر آدمی کے اندر اچھے اور برے کی وہی تمیز موجود ہے جو کسی دوسرے کے اندر پائی جاتی ہے۔
تاہم اسی کے ساتھ ہر آدمی کے اندر انا یعنی ایگو بھی موجود ہے۔ یہی انا ساری خرابیاں پیدا کرتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے ہر آدمی کی انانیت کو اس کے سینے کے اندر سلا رکھا ہے۔ ہر آدمی کی انا ابتدائی طور پر حالت خواب میں ہے۔
آپ کی عقلمندی یہ ہے کہ آدمی کی اس انا کو سویا رہنے دیں، اس کو کبھی بیدار نہ کریں۔ جب آدمی کی انا یعنی ایگو سو رہی ہو تو وہ اپنی حالت فطری پر ہوتا ہے۔ اس وقت وہ وہی کرتا ہے جو سچی انسانیت کا تقاضا ہے۔ کوئی آدمی صرف اس وقت برا بنتا ہے جب کہ اس کی انانیت کو جگا دیا جائے۔
عقلمند آدمی کو چاہیے کہ وہ دوسروں کی انا کو جگانے سے آخری حد تک پرہیز کرے۔ اور بالفرض اگر کسی کی انا جاگ اٹھے تو پہلی فرصت میں اپنے حکیمانہ رویے سے اس آگ کو بجھا دے۔ جو لوگ عقلمندی کی اس روش کو اختیار کر لیں، ان کو کبھی دوسروں کی طرف سے شکایت نہ ہوگی، خواہ وہ ایک ملک میں رہتے ہوں یا کسی دوسرے ملک میں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 375۔