Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Hikmat-e-iaraaz

Urdu · 7 min

حکمتِ اعراض: ایک صاحب اپنے خط "مورخہ 28 ستمبر 1999" میں لکھتے ہیں، "میں نے ہندی اخبار 'ہندوستان' کا شمارہ 28 ستمبر 1999 پڑھا"۔ اس کے ادارے میں یہ لکھا تھا کہ حال میں سورت، یعنی گجرات میں، گنیش ویسرجن کا جلوس نکلا۔ اس موقع پر پولیس اور جلوس کے درمیان ٹکراؤ ہو گیا۔ پتھراؤ اور فائرنگ کے نتیجے میں جلوس کے 8 افراد ہلاک اور کئی درجن زخمی ہو گئے۔

یہ جلوس شہر کے مسلم محلے کی ایک مسجد کے پاس سے گزر رہا تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلم اور ہندو، یا مسلم اور پولیس کے درمیان لڑائی ہو جاتی، مگر عملاً اس کا الٹا ہوا۔ مسلمانوں نے وہاں پر صبر کا رویہ اپنایا، جس کی وجہ سے انہیں اس کا پھل مل گیا۔ اس میں کسی بھی مسلمان کا نقصان نہیں ہوا، کیونکہ ٹکراؤ انتظامیہ اور ہندوؤں کے درمیان ہوا تھا۔

یہ پڑھ کر آپ کی وہ بات یاد آ گئی جو آپ "الرسالہ" یا کئی دیگر کتابوں میں لکھ چکے ہیں: سہیل احمد، "حسن البنا منزل"، جامعۃ الفلاح، بلیریہ گنج، اعظم گڑھ۔ سورت کا یہ واقعہ تمام اخباروں میں آ چکا ہے۔ اس واقعے میں بہت بڑا سبق ہے۔ اس سبق کی طرف الرسالے میں بار بار نشاندہی کی جاتی رہی ہے، وہ یہ کہ مسلم کش فسادات کا اصل سبب جلوس کا نکلنا اور اس کا مسلم محلے سے گزرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ جب جلوس نکلے تو محلے والے اس کے مقابلے میں غیر حکیمانہ رویہ اختیار کریں۔

حکیمانہ رویہ ہمیشہ حفاظت کا ضامن ہوتا ہے، اور غیر حکیمانہ رویہ ہمیشہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔ اس معاملے کا خلاصہ یہ ہے کہ جلوس کے وقت وہاں کے مسلمان اگر منفی ردعمل کا طریقہ اختیار کریں تو مسئلہ مسلم ورسز پولیس بن جائے گا۔ اور اگر وہاں کے مسلمان ایسے موقع پر اعراض کا رویہ اختیار کریں تو سارا مسئلہ جلوس ورسز پولیس بن جائے گا۔ اس اصول کی صداقت بار بار فسادات کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔

سورت کا مذکورہ واقعہ اس حکمت کی ایک مثبت مثال ہے۔ دورِ اول کے مسلمان مخالفین کی سازشوں اور زیادتیوں کے درمیان گھرے ہوئے تھے۔ اس وقت نصیحت کرتے ہوئے ان سے کہا گیا کہ اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی سازش تم کو نقصان نہ پہنچائے گی۔ سورہ نمبر 3، آیت 120۔

اب یہ غور کیجیے کہ دشمن کی سازشوں کے مقابلے میں صبر کس طرح ڈھال بن جاتا ہے، اور زیرِ سازش گروہ کو اس کے نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں جب بھی کوئی ناخوشگوار صورتحال پیش آئے، تو اس کے مقابلے میں ردعمل کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ اشتعال انگیز صورتحال کو دیکھ کر آدمی بھڑک اٹھے، اور فوری جذبات کے تحت جوابی کارروائی کرنے لگے؛ اور دوسرا یہ کہ فریقِ ثانی کی طرف سے اشتعال انگیزی کے باوجود وہ مشتعل نہ ہو، بلکہ اپنے جذبات کو روک کر پورے معاملے پر غور کرے۔ اور اس کے بعد جو کچھ کرے، ٹھنڈے ذہن کے تحت سوچ سمجھ کر کرے۔ مذکورہ تقسیم میں پہلی قسم کے ردعمل کا نام "غیر صابرانہ ردعمل" ہے، اور دوسری قسم کے ردعمل کا نام "صابرانہ ردعمل" ہے۔

دوسرے لفظوں میں، اس فرق کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ غیر صابرانہ ردعمل پیش آمدہ صورتحال کا جذباتی جواب، یعنی ایموشنل رسپانس ہے۔ اس کے برعکس صابرانہ ردعمل یہ ہے کہ پیش آمدہ صورتحال کے مقابلے میں جو جوابی کارروائی کی جائے، وہ ایک سوچا سمجھا جواب، یعنی کنسیڈرڈ رسپانس ہو۔ صبر کوئی بے عملی نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی کے سامنے کوئی ناپسندیدہ صورتحال پیش آئے تو وہ پست ہمت ہو کر بیٹھ جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ صبر اعلیٰ ترین بہادری ہے۔ جب ایک آدمی بے صبری کے ساتھ جذباتی اقدام کرتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے جذبات سے مغلوب ہو گیا۔ اس کے برعکس، جب ایک آدمی صبر والی روش اختیار کرتا ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ اس نے اپنے بھڑکے ہوئے جذبات کو قابو میں رکھا۔ اس نے اپنے جذبات کو اپنی عقل پر غالب ہونے نہیں دیا۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 372۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.