دو ملک، ایک واقعہ: ہندوستان کے شہر بھاگل پور میں 24 اکتوبر 1990 کو ہندو-مسلم فساد ہوا، جس کا سلسلہ کئی دن تک جاری رہا۔ اس میں مسلمانوں کا زبردست جانی و مالی نقصان ہوا۔ اس کے بارے میں بہت سی رپورٹیں اخبارات میں آ چکی ہیں۔ بھاگل پور کے مولانا اکرام الدین قاسمی، پیدائش 1938، نے ذاتی جائزے کے بعد ایک مفصل رپورٹ شائع کی ہے جو 104 صفحات پر مشتمل ہے۔
اس رپورٹ کا عنوان ہے: "بھاگل پور میں آگ اور خون کی ہولی"۔ اس رپورٹ کے ٹائٹل پر ایک تصویر ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 7 مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ جلایا اور قتل کیا گیا۔ اس تصویر کے نیچے لکھا ہوا ہے: "بھاگل پور کے ایک خاندان کے 7 افراد کی لاشیں، جن میں ایک سال کا معصوم بچہ بھی شامل ہے"۔ اب دوسری تصویر دیکھیے: پاکستان کے شہر کراچی میں 7 فروری 1990 کو مسلم مسلم فساد ہوا، جس کا سلسلہ کئی روز تک برابر جاری رہا۔
پاکستان کے مشہور اخبار "نوائے وقت" 8 فروری 1990 کے صفحے اول پر اس کی خبر نمایاں طور پر چھپی ہے۔ اس خبر کی سرخی یہ ہے: "کراچی میں آگ اور خون کا کھیل"۔ اس سلسلے میں "نوائے وقت" 10 فروری 1990 کے صفحے اول پر مزید یہ خبر درج ہے کہ کراچی میں 5 افراد پیٹ چاک کرنے کے بعد زندہ جلا دیے گئے۔ یہ المناک اور بے ایمانہ واقعہ منگھو پیر روڈ پر ہوا۔
یہاں ایک جلی ہوئی سوزو کی وین سے 5 مسخ شدہ لاشیں برآمد کی گئیں۔ ان 5 افراد کو رسیوں کے ساتھ وین کے اندر باندھا گیا اور ان کا پیٹ پھاڑ کر زندہ جلا دیا گیا۔ جو لوگ بھاگل پور کے واقعے کو ہندو ظلم کے خانے میں ڈالتے ہیں، وہ کراچی کے اسی قسم کے واقعے کو کس کے ظلم کے خانے میں ڈالیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ان دونوں واقعات کا کوئی مشترک سبب تلاش کرنا ہوگا۔
یہ مشترک سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے عدم برداشت۔ زندگی ناخوشگوار واقعات کو خوشگواری کے ساتھ برداشت کرنے کا نام ہے۔ اگر آپ اس برداشت کے لیے تیار ہوں تو آپ اپنی زندگی میں کامیاب رہیں گے۔ اور اگر آپ اس برداشت پر راضی نہ ہوں تو آپ آگ اور خون کے حوالے کیے جائیں گے، خواہ آپ مسلم ملک میں ہوں یا غیر مسلم ملک میں۔
تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 370۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.