Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Shikaayat ko nafrat tak pahunchana

Urdu · 3 min

شکایت کو نفرت تک پہنچانا ایک روایت حدیث کی کتابوں، صحیح مسلم، ابو داؤد، الترمذی، ابن ماجہ، اور مسند احمد میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: «عن أبي أيوب الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يحل لرجل أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليالٍ يلتقيان فيعرض هذا ويعرض هذا، وخيرهما الذي يبدأ بالسلام». صحیح البخاری، حدیث نمبر 6077۔ یعنی ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو 3 دن سے زیادہ چھوڑے رہے، دونوں ملیں اور پھر وہ ایک دوسرے سے منہ پھیر لیں۔

دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ انسانی تعلقات میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے ناخوشگوار تجربہ پیش آتا ہے، دونوں کے درمیان ناگواری بڑھتی ہے، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے ترکِ تعلق کر لیتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے ملنا اور سلام کرنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ طریقہ اسلامی شریعت میں جائز نہیں۔

ایسا کرنے والے لوگ سخت گنہگار ہیں۔ وہ خدا کے یہاں اس کے لیے پکڑے جائیں گے۔ اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ اگر دونوں کے درمیان تلخی کا سبب غلط فہمی ہے تو غلط فہمی کو دور کر کے تعلق کو درست کر لیا جائے۔ اور اگر ایک آدمی دوسرے کے بارے میں یہ سمجھے کہ وہ بددیانت ہے تو ایسی حالت میں اس کے لیے صرف یہ جائز ہے کہ وہ اس سے مزید کوئی عملی معاملہ نہ کرے۔

لیکن جہاں تک ظاہری تعلق یا سلام و کلام کی بات ہے، وہ بدستور جاری رہنا چاہیے۔ اس طرح کے معاملات میں آدمی کو چاہیے کہ وہ سماجی تعلق کو بدستور برقرار رکھے۔ اس کے آگے کا جو معاملہ ہے وہ اس کو خدا کے حوالے کر دے۔ اس طرح کے معاملے میں کسی سے سلام و کلام بند کرنا شکایت کو نفرت تک پہنچانا ہے، اور شکایت کو نفرت تک پہنچانا کسی کے لیے جائز نہیں۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 343۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.