مسلمان عالمی محاصرے میں موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کا عام مزاج یہ ہے کہ مسلمان عالمی سطح پر زیرِ محاصرہ، یعنی انڈر سیج ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ تمام قومیں مسلمانوں کی مخالف ہیں۔ تمام قوموں نے مسلمانوں کے خلاف سازش کر رکھی ہے۔ تمام قومیں متفقہ طور پر یہ چاہتی ہیں کہ مسلمان دوبارہ ابھرنے نہ پائیں۔
چنانچہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر سطح پر مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ یہ سوچ سرتاسر ایک بے بنیاد سوچ ہے۔ خالص علمی اعتبار سے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام خود خالق کے نقشے کے مطابق مسابقت، یعنی کمپیٹیشن اور چیلنج پر قائم ہے۔
یہ فطرت کا نظام ہے۔ اس نظام کی بنا پر کوئی آگے بڑھتا ہے اور کوئی پیچھے ہو جاتا ہے۔ کوئی پانے والا بنتا ہے اور کوئی کھونے والا۔ یہ نظام اس لیے ہے تاکہ زندگی کی سرگرمیاں جاری رہیں۔
تاکہ ہر فرد اور ہر گروہ کو عمل کا محرک، یعنی انسنٹو، ملتا رہے۔ فطرت کے اس نظام کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک گروہ اپنی کوشش کے ذریعے آگے بڑھ جاتا ہے اور وہ دوسرے گروہ کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ ایسی حالت میں پچھڑے ہوئے گروہ کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ وہ کھوئی ہوئی بازی کو دوبارہ جیتنے کے لیے اپنی ساری توانائی خرچ کر دے۔
زندگی کو چیلنج سمجھنا آدمی کو نیا جذبۂ عمل دیتا ہے۔ اس کے برعکس، سازش اور دشمنی کا نظریہ آدمی کو منفی نفسیات میں مبتلا کر کے اس کو زندگی کی دوڑ میں پیچھے ڈال دیتا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے رہنماؤں کی غلط رہنمائی کے نتیجے میں چیلنج کو محاصرہ سمجھ لیا۔ انہوں نے ایک مثبت واقعے کو خالص منفی رخ دے دیا۔
مسلمانوں کی یہی غلط سوچ ہے جس کی اصلاح میں ان کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ زمانے کے مسلمان زوال کا شکار ہوئے ہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں وہ اپنی اصلاح کر کے دوبارہ عروج تک پہنچ سکتے ہیں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 342۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.