صبر کا کرشمہ۔ گلبرگہ، کرناٹک کے ایک صاحب نے اپنے ایک خط، 10 فروری 2010 میں، اپنا ایک واقعہ لکھا ہے۔ یہ واقعہ انہی کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے: "ایک غلط پروپیگنڈے کی بنا پر مجھ کو 3 ماہ سروس سے معطل ہونا پڑا، لیکن اس دوران نہایت صبر و استقلال کے ساتھ، غیر ضروری باتوں سے اعراض کرتے ہوئے، بلا طلبِ حجت، ایک طرفہ طور پر، میں غلطی پر تھا کہ مشورے پر رجوع بیکار ہوا۔ اس کے بعد ایسا ہوا، اس کے بعد ایسا معلوم ہوا کہ مجھ کو سروس سے برخاست کرنے کے لیے جو طریقے اپنائے گئے تھے، وہ بالکل ناکام ثابت ہوئے، اور میں پہلے سے زیادہ مضبوط طور پر اپنی جگہ واپس آ گیا۔
یہ بلاشبہ الرسالے کی فکری پالیسی کا نتیجہ تھا۔ " یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نزاعی مسائل کا حل کیا ہے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ صبر کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خاموش ہو جائیں اور صرف دعا کریں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ دیکھیں گے کہ بہت جلد آپ کا مسئلہ نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہو گیا ہے۔
نزاع کے موقع پر جب ردعمل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فریقِ ثانی کے اندر ضد اور انانیت جاگ پڑتی ہے۔ اس طرح مسئلہ اور زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر آپ خاموشی اختیار کر لیں اور دعا کریں، تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ فریقِ ثانی کا ضمیر جاگ اٹھے گا۔ اس کے بعد وہ معاملے پر ٹھنڈے دماغ کے ساتھ سوچنے لگے گا، یہاں تک کہ عین ممکن ہے کہ اس کو خود اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور وہ اعلان کے ساتھ یا بلا اعلان خود ہی معاملے کو ختم کر دے۔
صبر کا طریقہ فرشتے کو آپ کا مددگار بنا دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جب آپ بے صبری کا طریقہ اختیار کریں تو شیطان کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ معاملے کو زیادہ سے زیادہ بگاڑے، یہاں تک کہ آپ کو تباہی کے کنارے پہنچا دے۔ جو آدمی اس راز کو سمجھ لے، وہ کبھی ناکامی سے دوچار نہیں ہو سکتا۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 268۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.