← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Ishtiaal ke baghair
Urdu · 5 min
اشتعال کے بغیر۔ اسلام کے خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے: "لا تعتمد على خلق رجل حتى تجربه عند الغضب." "التبر المسبوک فی نصیحت الملوک" للغزالی، صفحہ 24۔ یعنی: کسی آدمی کے حسنِ اخلاق پر بھروسہ مت کرو جب تک غصے کے وقت اس کا تجربہ نہ کر لو۔ جب غصہ دلانے والی بات کی جائے تو اس کے جواب کے دو طریقے ہیں: ایک یہ کہ آدمی بپھر اٹھے اور ناقدین پر لعن طعن کرنے لگے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ناقد کی بات کو بالکل ٹھنڈے ذہن سے سنا جائے، اس کی بات کے غیر متعلق پہلوؤں کو نظرانداز کرتے ہوئے اصل بات کا جواب بالکل سادہ طریقے سے دے دیا جائے۔
دونوں طریقوں میں صرف دوسرا طریقہ اسلامی طریقہ ہے۔ اس سلسلے میں یہاں دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ نمبر 1: ابن عبدالبر اندلسی، مولود 463 ہجری، لکھتے ہیں: "إن طاؤوسًا ووهب ابن منبه التقيا فقال طاؤوسًا لوهب: يا أبا عبدالله، بلغني عنك أمر عظيم فقال: ما هو؟ قال: تقول إن الله حمل قوم لوط بعضهم على بعض، قال: أعوذ بالله، ثم سكت، قال: فقلت: هل اختصم؟
قال: لا. جامع بیان العلم وفضلہ"، اثر نمبر 1799۔ یعنی طاؤوس، وفات 106 ہجری، اور وہب ابن منبہ، وفات 114 ہجری۔ دونوں ایک دوسرے سے ملے۔
طاؤوس نے وہب سے کہا: اے ابو عبداللہ! آپ کے بارے میں مجھے ایک بڑی سنگین بات پہنچی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ وہ کیا؟ طاؤوس نے کہا: میں نے سنا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ ہی نے تو قوم لوط کے بعض لوگوں کو بعض لوگوں پر چڑھایا تھا۔
یہ سن کر وہب نے کہا: اللہ کی پناہ! پھر دونوں چپ ہو گئے۔ میں نے راوی سے پوچھا: کیا دونوں میں بحث ہوئی؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔
نمبر 2: مولانا احمد علی لاہوری، 1887 تا 1962 عیسوی کے صاحبزادے، مولانا حبیب اللہ لاہوری نے مولانا سید حسین احمد مدنی، 1879 تا 1957 کا ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ وہ دارالعلوم دیوبند میں مولانا مدنی کے دورِ حدیث میں شریک تھے۔ شرکائے درس میں سے کسی طالب علم کو شرارت سوجھی، اس نے مولانا کے پاس ایک رخا بھیجا اور اس کے ذریعے تحریری طور پر یہ سوال کیا کہ آپ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ حرامی ہیں۔ مولانا مدنی نے رخا لے کر رکھ لیا اور پہلی نشست میں کوئی جواب نہیں دیا۔
دوسری نشست میں جب طلبہ جمع ہوئے تو آپ نے فرمایا: کسی دوست نے مجھ کو رخا لکھا ہے کہ تو اپنے باپ سے نہیں ہے۔ یہ سنتے ہی تمام مجلس میں ہیجان برپا ہو گیا۔ طلبہ غیض و غضب سے بھر گئے کہ کس گستاخ نے یہ حرکت کی ہے۔ مولانا مدنی نے فرمایا: خبردار!
کسی کو غصہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ میرا حق ہے کہ میں سوال کرنے والے کی تسلی کروں۔ پھر سنجیدگی کے ساتھ فرمایا: میں ضلع فیض آباد، قصبہ ٹانڈا کا رہنے والا ہوں۔ اس وقت بھی میرے والدین کے نکاح کے گواہ زندہ ہیں۔
خط بھیج کر سمجھ لیا جائے۔ تعمیر شخصیت: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 265۔