Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sabr karnewale

Urdu · 4 min

صبر کرنے والے، قرآن میں صبر کی بہت زیادہ اہمیت بتائی گئی ہے۔ چار مقام پر "صَبَّار" کا لفظ آیا ہے، یعنی بہت زیادہ صبر کرنے والے۔ سورہ نمبر 42 آیت 33، سورہ نمبر 34 آیت 19، سورہ نمبر 31 آیت 31، سورہ نمبر 14 آیت 5۔ ایک مقام پر یہ آیا ہے: فَاصْبِرْ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ سورہ نمبر 11 آیت 49۔

یعنی: "پس صبر کرو، بے شک آخری انجام ڈرنے والوں کے لیے ہے۔ " ان آیتوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی کا تعلق بہت زیادہ صبر سے ہے۔ صبر ہے تو کامیابی ہے، صبر نہیں تو کامیابی نہیں۔ اس دنیا میں کامیابی کے لیے صبر کی اتنی زیادہ اہمیت کیوں ہے؟

اس کا سبب یہ ہے کہ یہ دنیا اجتماعی زندگی کی دنیا ہے۔ یہ دنیا کسی اکیلے انسان کی دنیا نہیں ہے، بلکہ اجتماعی زندگی یعنی collective life کی دنیا ہے۔ یہاں بہت سے لوگوں کو مل جل کر رہنا پڑتا ہے۔ آپ کوئی منصوبہ بنائیں، اور اس کے لیے اللہ سے دعا کریں، تو آپ خواہ کتنا ہی زیادہ صحیح راستے پر ہوں، لیکن آپ کی کامیابی کا راستہ بہت سے دوسرے لوگوں کے درمیان سے گزرے گا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ یہ دنیا اسباب و علل کے اصولوں پر قائم ہے۔ اس دنیا میں کوئی کامیابی تدریجی عمل یعنی gradual process کے روپ میں حاصل ہوتی ہے۔ ہر آدمی کو دوسرے انسان کے ساتھ مل جل کر آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہر آدمی اپنے سفر کے ساتھ دوسرے لوگوں کو اپنے سفر کا راستہ دینا پڑتا ہے۔

تب ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان اپنے سفر کو کامیابی کی منزل تک پہنچائے۔ یہی زندگی کا وہ تقاضا ہے جس کی وجہ سے ہر انسان کو صبر کا اصول اختیار کرنا پڑتا ہے۔ دوسروں کو مواقع دینے کے بعد ہی ایک شخص کو اپنے لیے زندگی کا موقع حاصل ہوتا ہے۔ یہ عین وہی اصول ہے جس کو "ٹریفک" کا اصول کہا جاتا ہے، یعنی راستے پر دوسرے چلنے والے کو موقع دے کر اپنے لیے چلنے کا راستہ نکالنا۔

گویا سفر ایک مینجمنٹ کا معاملہ ہے۔ صحیح مینجمنٹ سے آپ کا سفر کامیابی کی منزل تک پہنچے گا۔ اور اگر غلط مینجمنٹ ہو تو آپ کا سفر کہیں پہنچنے والا نہیں۔ کامیاب سفر صابرانہ مینجمنٹ کے نتیجے کا دوسرا نام ہے۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 248۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.