Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sabr,Muhaasaba,Tawassum

Urdu · 3 min

صبر، محاسبہ، تبسم۔ ایمان کے بعد مطلوب زندگی کی تعمیر کے لیے تین بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے۔ ان تینوں چیزوں کو اختیار کیے بغیر کوئی شخص سچا مومن نہیں بن سکتا۔ وہ تین چیزیں یہ ہیں: صبر، محاسبہ، تبسم۔

ایمان لانے کے بعد ہر مومن کے لیے سب سے پہلا مرحلہ یہ پیش آتا ہے کہ اپنے ماحول کے اندر وہ کس طرح مومنانہ زندگی گزارے۔ قانون فطرت کے مطابق یہاں ہر لمحہ غیر موافق باتیں پیش آتی ہیں، ایسی باتیں جو آدمی کو بے برداشت کر دیں۔ ایسے تمام مواقع پر آدمی کو صبر کرنا پڑتا ہے تاکہ انحراف کے بغیر وہ مسلسل طور پر ایمان کے راستے پر قائم رہے۔ دوسری چیز محاسبہ، یعنی انٹراسپیکشن ہے۔

امتحان کی اس دنیا میں آدمی بار بار غلطی کرتا ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ بے لاگ محاسبہ کر کے اپنی اصلاح کی جاتی رہے۔ فوری محاسبے کے اس عمل کے بغیر یہ ہوگا کہ غلطیاں آدمی کی شخصیت کا حصہ بن جائیں گی، اور پھر وہ کبھی اس سے جدا نہ ہوں گی۔ اس سلسلے میں تیسری چیز تبسم ہے۔

تبسم کا مطلب ہے غور و فکر کی زندگی گزارنا۔ اپنے تجربات اور اپنے آس پاس کی دنیا سے مسلسل طور پر نصیحت اور سبق لیتے رہنا۔ یہ تبسم مومن کے لیے اس کی ایمانی غذا ہے۔ مسلسل تبسم کے بغیر کوئی شخص اپنے آپ کو ایمانی ترقی کے راستے کا مسافر نہیں بنا سکتا۔

اسلامی زندگی ایمان سے شروع ہوتی ہے، مگر ایمان اسلامی زندگی کا صرف آغاز ہے، وہ اس کی آخری منزل نہیں۔ اس آغاز کے بعد آدمی کو مسلسل طور پر ایک کورس سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کورس کی تکمیل کے بغیر حقیقی معنوں میں کوئی شخص مومن و مسلم کے درجے تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس کورس کے اجزاء بنیادی طور پر یہی تین ہیں: صبر، اور محاسبہ، اور تبسم۔

یہ کورس کسی قسم کے رسمی اعمال کے ذریعے انجام نہیں پاتا۔ یہ مکمل طور پر ایک شعوری سفر ہے۔ اپنے شعور کو متحرک کر کے ہی آدمی اس امتحان میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 247۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.