← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Quran ki hidayat
Urdu · 6 min
قرآن کی ہدایت: قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم لوگ صبر کا طریقہ اختیار کرو اور اللہ سے ڈرو، تو ان کی کوئی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں، اللہ ان سب کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ. سورہ نمبر 3، آیت 120۔
ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ وہ صبر اور تقویٰ کے ذریعے شرپسندوں کے شر سے اور فاجروں کی سازش سے اپنے آپ کو بچائیں۔ يُرْشِدُهُمْ تَعَالَى إِلَى السَّلَامَةِ مِن شَرِّ الْأَشْرَارِ وَكَيْدِ الْفُجَّارِ بِاسْتِعْمَالِ الصَّبْرِ وَالتَّقْوَى. تفسیر ابن کثیر، جلد 2، صفحہ 94۔ صفوت التفاسیر میں ہے کہ اگر تم نے ان کی ایذا پر صبر کیا، اور اپنے اقوال اور اعمال میں تم اللہ سے ڈرے، تو ان کی سازش اور ان کی تدبیر تم کو کچھ نقصان نہ پہنچائے گی۔
پس اللہ نے ان کے ضرر کو ختم کرنے کے لیے صبر اور تقویٰ کی شرط لگائی۔ أَيْ إِنْ صَبَرْتُمْ عَلَى أَذَاهُمْ وَاتَّقَيْتُمُ اللَّهَ فِي أَقْوَالِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَكْرَهُمْ وَكَيْدُهُمْ. فَشَرِتَ تَعَالَى نَفْيَ ضَرَرِهِمْ بِالصَّبْرِ وَالتَّقْوَى. صفوت التفاسیر، جلد 1، صفحہ 205۔
ہندوستان میں فرقہ پرستوں کے جلوس اور ان کے دل آزار نعروں کے سلسلے میں صبر اور تقویٰ کا انطباق کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ مسلمان ان کی اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ وہ ان کی دل آزاری کو ایک طرفہ طور پر برداشت کر لیں، وہ ردِعمل کا اظہار کرنے کے بجائے خاموشی کا رویہ اختیار کریں۔ وہ ہمیشہ صبر کے رویے پر قائم رہیں۔
دوسرے یہ کہ وہ کسی حال میں بھی تقویٰ کی روش نہ چھوڑیں۔ ایسے مواقع پر دنیاوی انجام سے زیادہ اخروی انجام کو وہ اپنے سامنے رکھیں۔ وہ قوم پرستی کے بجائے اصول پسندی کا انداز اختیار کریں۔ فریق ثانی کی دشمنی کے باوجود وہ اس کے ساتھ بے انصافی نہ کریں۔
وہ جو کچھ کریں، یہ سمجھ کر کریں کہ ان کو اللہ کے یہاں اس کا جواب دینا ہے۔ وہ اللہ کے معاملے میں حساس اور انسانوں کے معاملے میں غیر حساس بن جائیں۔ مسلمان اگر اس طرح صبر و تقویٰ کا طریقہ اختیار کریں تو یقینی طور پر مخالفین کی ہر سازش بے اثر ہو جائے گی۔ ہر مخالفانہ تدبیر ان کے حق میں ناکام ثابت ہوگی۔
مذکورہ آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ سورہ نمبر 3، آیت 120۔ یعنی: اللہ ان کی سرگرمیوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہ فقرہ بہت بامعنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے شرپسندوں کے شر سے بچاؤ کے لیے صبر و تقویٰ کے جس طریقے کی تعلیم دی ہے، وہ ایک ایسا طریقہ ہے جو معاملے کے اوپر پوری طرح حاوی ہے۔
وہ یقینی طور پر ایک بے خطا طریقہ ہے۔ وہ کبھی ناکام ہونے والا نہیں۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے، وہ انسان کی سرشت اور اس کے مزاج سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس نے جو اصلاحی اور دفاعی تدبیر بتائی ہے، وہ اپنے علم کلی کے تحت بتائی ہے۔
اللہ کے لیے یہ ایک پوری طرح معلوم مسئلے کا پوری طرح معلوم جواب ہے۔ یہ حل تمام متعلق پہلوؤں کا مکمل احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کوئی بھی صورتحال ایسی نہیں جو اس کے دائرہ اثر سے خارج ہو۔ ان خصوصیات نے اس حل کو ایک بے خطا حل بنا دیا ہے۔
تم جب بھی اس کو استعمال کرو گے، اس کا نتیجہ تمہارے حق میں ہی نکلے گا۔ کوئی بھی انسانی گروہ اس کے دائرے سے باہر نہیں۔ شرنگیزی کی کوئی بھی آگ ایسی نہیں جو اس طریقے کو کام میں لا کر بجھائی نہ جا سکتی ہو۔ اس تدبیر کے اندر ہر بم کو ناکارہ بنا دینے کی طاقت ہے، خواہ بظاہر وہ کیسا ہی خطرناک بم کیوں نہ ہو۔
تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 242۔