صبر کا فائدہ قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ سورہ نمبر 25 آیت 20، یعنی: "اور ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے، کیا تم صبر کرتے ہو؟ " دوسرے الفاظ میں، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ناپسندیدہ صورتحال پیش آنے پر اپنے جذبات پر کنٹرول رکھو، تاکہ تمہارے لیے مواقع کو اویل کرنا ممکن ہو۔ جذبات سے مغلوب ہو کر عمل کرنے کا نتیجہ ہمیشہ ناکامی ہوتا ہے، اور جذبات کو قابو میں رکھ کر عمل کرنے کا نتیجہ ہمیشہ کامیابی۔ ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر اس طرح کی ہے: "میں نے تم سب کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے، تاکہ تم جو بھی ناپسندیدہ بات سنو یا اختلاف دیکھو تو صبر کرو" "لِّتَصْبِرُوا عَلَىٰ مَا تَسْمَعُونَ مِنْهُمْ وَتَرَوْنَ مِنْ خِلَافِهِمْ" تفسیر البغوی، جلد 6، صفحہ 77۔
یعنی: "اور درست راستہ اختیار کرو"۔ اصل یہ ہے کہ منصوبۂ تخلیق کے مطابق، موجودہ دنیا میں ہر انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ اس بنا پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ہر انسان اپنے مصالحے کے تحت اقدامات کرتا ہے۔ یہ اقدام مکمل معنوں میں دوسروں کے مطابق نہیں رہتا؛ بظاہر اس کا کچھ حصہ آپ کے خلاف ہوگا، تو کچھ آپ کے موافق ہوگا۔
اس دنیا کے لیے فطرت کا قانون یہی ہے کہ یہاں کسی شخص یا گروہ کو جزئی مواقع یعنی partial opportunities ملیں۔ کسی کو بھی یہاں کلی مواقع حاصل نہیں ہوتے۔ اس لیے دانشمندی یہ ہے کہ ناموافق پہلوؤں کو نظر انداز کیا جائے، اور موافق پہلوؤں کو دریافت کر کے انہیں استعمال کیا جائے۔ یہ حقیقت ایک حدیثِ رسول سے مزید واضح ہوتی ہے: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640۔
یعنی: "اللہ اسلام کی تائید ایسے لوگوں سے کرے گا جو اہلِ اسلام میں سے نہ ہوں گے"۔ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ایک انسان جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ اپنے ذاتی انٹرسٹ کے لیے اقدام کرتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اپنے ذاتی مفاد کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ ایک نئی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
یہ نئی صورتحال نئے مواقع کھولتی ہے۔ اگر اہلِ اسلام مذکورہ انسان کے مذہب اور فکر کو نظر انداز کریں، تو وہ نئے مواقع کو استعمال کر کے اپنے دین اور دنیا دونوں کی تائید کا کام لے سکتے ہیں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 193۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.