Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sabr par be hisaab ajr

Urdu · 3 min

صبر پر بے حساب اجر۔ قرآن میں صبر کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ سورہ نمبر 39، آیت 10۔ یعنی: بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔

صبر کی اتنی زیادہ اہمیت اس لیے ہے کہ صبر، یعنی patience، آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مثبت اعمال کر سکے، جو غیر معمولی اجر کا باعث بنتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اسلام میں ساری اہمیت تعمیرِ شخصیت کی ہے، جس کو قرآن میں تزکیہ، سورہ نمبر 20، آیت 76، کہا گیا ہے۔ موجودہ دنیا امتحان، یعنی ٹیسٹ کی دنیا ہے۔ یہاں مسلسل طور پر دوسروں کی طرف سے ایسے حالات پیش آتے رہتے ہیں جو آدمی کو گوارا نہیں ہوتے، جو آدمی کے اندر نفرت، غصہ، اشتعال، اور منفی سوچ جیسی کیفیات پیدا کر دیتے ہیں۔

اس قسم کی منفی کیفیات آدمی کو مسلسل طور پر distract کرتی رہتی ہیں، وہ آدمی کی توجہ کو صحیح رخ سے ہٹا کر غلط رخ کی طرف کر دیتی ہیں۔ یہ ایک تباہ کن صورتحال ہے۔ مگر یہ ناموافق صورتحال فطرت کے نظام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ کوئی آدمی اس ناخوشگوار صورتحال کا خاتمہ کرنے پر قادر نہیں۔

ایسی حالت میں اس کے مضر انجام سے اپنے کو بچانے کی صورت صرف یہ ہے کہ آدمی ہر ایسے ناخوشگوار موقع پر صبر کا طریقہ اختیار کرے۔ صبر کی یہ اہمیت تدبیر کے اعتبار سے ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس لیے ہے کہ وہ آدمی کو ردِعمل سے بچاتا ہے، اور ردِعمل، یعنی reaction، ہر قسم کی برائیوں کی جڑ ہے۔ ہر برائی ابتدا کسی ناخوشگوار واقعے کے خلاف ردِعمل سے پیدا ہوتی ہے، اور پھر بڑھ کر وہ بگاڑ، یعنی breakdown، کی آخری حد تک پہنچ جاتی ہے۔

صبر آدمی کو ردِعمل سے بچاتا ہے، اور جو شخص اپنے آپ کو ردِعمل سے بچا لے، وہ گویا تمام برائیوں سے محفوظ ہو گیا۔ تعمیرِ شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 192۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.