← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Dilinking-ek sunnat-e-rasul
Urdu · 8 min
ڈی لنکنگ ایک سنتِ رسول۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت وہ ہے جس کو "پالیسی آف ڈی لنکنگ" کہا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، مکے میں آپ نے اپنا مشن شروع کیا، اس وقت مکہ اہلِ شرک کے قبضے میں تھا۔ انہوں نے کعبے کو 360 بتوں کا مرکز بنا دیا تھا۔
رسول اللہ نے یہ کیا کہ کعبے میں آنے والے زائرین اور اس میں موجود بتوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھا، یعنی بت پرستی اور کعبے کے قریب بت پرستوں کے اجتماع میں فرق کرنا۔ اس طرح ڈی لنکنگ پالیسی اختیار کرنے کی بنا پر آپ کے لیے یہ ممکن ہوا کہ آپ مکمل طور پر مثبت ذہن کے ساتھ اپنا مشن، دعوت الی اللہ کا عمل انجام دے سکیں۔ اگر آپ ڈی لنکنگ پالیسی اختیار نہ کرتے تو یہ فائدہ کبھی حاصل نہ ہوتا۔ ایسا کیوں ہے، اس کو صحابیِ رسول عمر ابن العاص، وفات 43 ہجری، کے قول سے سمجھا جا سکتا ہے۔
ان کا قول یہ ہے: "ليس العاقل الذي يعرف الخير من الشر، ولكن العاقل الذي يعرف خير الشرين" (المجالسة وجواهر العلم، اثر نمبر 670)۔ یعنی عقلمند وہ نہیں ہے جو خیر کے مقابلے میں شر کو پہچانے، بلکہ عقلمند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر کے درمیان خیر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ شر کے مختلف پہلوؤں کو ڈی لنک کر کے دیکھا جائے تو شر کے اندر بھی خیر کا پہلو مل جائے گا۔ آپ نے کعبے میں بت اور بت پرستوں کے معاملے میں جو طریقہ اختیار کیا، وہ کیا تھا؟
ان بتوں کا ظاہری پہلو یہ تھا کہ وہ شرک کا ذریعہ تھا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انہی بتوں کی وجہ سے وہاں لوگ جمع ہوتے تھے، اور اس کی وجہ سے وہاں ایک "آڈینس" بنتا تھا۔ رسول اللہ نے یہ کیا کہ بتوں کے مشرکانہ پہلو کو الگ کر دیا، اور بتوں کی وجہ سے وہاں آنے والے لوگوں کو اپنے لیے بطور آڈینس استعمال کیا۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ یہاں ہر عُسر کے ساتھ یُسر کا پہلو موجود ہوتا ہے۔
انسان اگر مثبت ذہن کے ساتھ معاملے میں غور کرے تو ہر عُسر میں اس کو یُسر کا پہلو مل جائے گا۔ انیسویں صدی میں انگریز جب انڈیا میں آئے تو انہوں نے مسلمانوں کو بہت سی چیزیں دیں۔ مثلاً انگریزی ایجوکیشن، جس کی وجہ سے مسلمان اس قابل ہوئے کہ وہ انڈیا کے باہر کی دنیا کو دیکھ سکیں۔ لیکن سارے مسلمانوں نے انڈیا میں "اینٹی برٹش" تحریک چلا دی۔
اسی طرح آزادی کے بعد جو حکومت آئی، اس نے بھی مسلمانوں کو بہت کچھ دیا، لیکن دوبارہ مسلمانوں کو حکومت سے شکایت پیدا ہو گئی، وغیرہ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلم قائدین زندگی کے ایک اصول کو نہیں جانتے: وہ اس فطری قانون کو نہیں جانتے کہ ہر عُسر کے ساتھ یُسر موجود ہوتا ہے۔ (الانشراح، سورہ نمبر 94، آیت 5-6)۔ عُسر کا مطلب ہے مسئلہ یعنی پرابلم، اور یُسر کا مطلب ہے موقع یعنی اپرچونٹی۔
یعنی پرابلم کے درمیان موجود مواقع کو جاننا، اور منصوبہ بند انداز میں ان کو اویل کرنا۔ یہی زندگی کا اصول ہے۔ لیکن مسلم لیڈروں نے اس اصول کو نہ پہلے جانا، اور نہ وہ اب اس کو جانتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ ایک کام کیا ہے، وہ ہے موجود مواقع کو نظر انداز کرنا، اور جو چیز موجود نہیں ہے، اس کے اوپر تحریک چلانا۔
یہی غیر حقیقی طریقہ کار ہر دور میں مسلمانوں پر غالب رہا ہے۔ اس لیے مسلمانوں نے ہر دور میں صرف کھویا۔ کسی بھی دور میں وہ پانے والی چیز کو پانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ قرآن کی سورہ البقرہ میں زندگی کی ایک حقیقت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: "اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے، اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے، اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوشخبری دے دو" (سورہ نمبر 2، آیت 155)۔
توسیع اعتبار سے حکومت کا ملنا اور اس کا ہاتھ سے نکلنا، وغیرہ بھی اس میں شامل ہے۔ اور صبر کا مطلب ہے پرابلم کو اگنور کرنا، مواقع کو اویل کرنا۔ انسان پر زندگی کے جو مختلف مرحلے پیش آتے ہیں، وہ ایک موقع کے طور پر پیش آتے ہیں۔ زندگی کو جاننے والا شخص وہ ہے جو زندگی کو ایک موقع کی صورت میں دریافت کرے، اور پھر منصوبہ بند انداز میں اس موقع کو استعمال کرے۔
مشکل حالات منفی چیز نہیں۔ مشکل حالات یا چیلنج کسی انسانی گروہ کو تخلیقی گروہ بناتا ہے۔ جب کسی گروہ کے اندر ایسی حالت پیدا ہو تو انسان اس کو فطرت کا تحفہ سمجھے، اور ڈی لنکنگ کا طریقہ اختیار کر کے وہ اس کو بطور موقع اویل کرے۔ اس طرح نان کریئیٹو گروہ کریئیٹو گروہ بن جائے گا۔
(تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 174)۔