← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Baa usul zindagi
Urdu · 6 min
با اصول زندگی۔ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہمیشہ ایک کو دوسرے سے اختلاف پیش آتا ہے۔ یہ اختلاف مبنی بر فطرت ہے، اس لیے اس کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی حالت میں کامیاب زندگی کا اصول صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے زندگی گزاری جائے۔
اختلاف کو نظرانداز کر کے باہمی مفاد، یعنی mutual interest، کی بنیاد پر زندگی کا نظام قائم کیا جائے۔ اس دنیا میں اس کے سوا کوئی انتخاب، یعنی option، کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اس معاملے میں مسلمانوں کا معاملہ دوسروں سے الگ نہیں ہے، البتہ مسلمان کو اس معاملے میں ایک امتیازی خصوصیت حاصل ہے۔ دوسروں کے لیے ایڈجسٹمنٹ صرف مفاد، یعنی interest، کا ایک معاملہ ہے، مگر مسلمان کے لیے یہ معاملہ ایک اعلیٰ عبادت کا معاملہ بن جاتا ہے۔
اس فرق کا سبب یہ ہے کہ مسلمان کا ایڈجسٹمنٹ ایک اصول کے تحت ہوتا ہے، جبکہ دوسروں کا ایڈجسٹمنٹ صرف دنیاوی مفاد کے تحت پیش آتا ہے۔ مسلمان اپنی حیثیت کے اعتبار سے ایک خدائی مشن کے حامل ہیں، یعنی خدا کے ابدی پیغام کو دوسرے تمام انسانوں تک پہنچانا۔ پیغام رسانی کا یہ کام صرف اس وقت درست طور پر انجام پا سکتا ہے جبکہ مسلمانوں اور غیر مسلم قوموں کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہوں۔ مسلمان جب دوسری قوموں کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ کرتا ہے تو اس کا محرک، یعنی incentive، اس کا یہی دعوتی ذہن ہوتا ہے۔
وہ ذاتی مفاد کے لیے ایڈجسٹمنٹ نہیں کرتا، بلکہ وہ صرف اس لیے ایڈجسٹمنٹ کرتا ہے تاکہ اس کا دعوتی مشن کسی رکاوٹ کے بغیر، پرامن انداز میں جاری رہے۔ محرک کا یہ فرق بہت اہم ہے۔ اسی فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ مسلمان کا ایڈجسٹمنٹ ایک ایسا عبادتی عمل بن جاتا ہے جو اس کو آخرت میں اجر عظیم کا مستحق بنا دے۔ اس کے برعکس، دوسروں کا ایڈجسٹمنٹ صرف ذاتی مفاد کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
اس سے زیادہ اس کی کوئی اور حیثیت نہیں۔ مذکورہ قسم کا ایڈجسٹمنٹ موجودہ دنیا کا ایک لازمی قانون ہے۔ اس معاملے میں کسی بھی شخص یا گروہ کا کوئی استثنا، یعنی exception، نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اگر اصولی بنیاد پر ایڈجسٹمنٹ نہ کریں تو ان کو مفاد کی بنیاد پر ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ کرنا ہوگا۔
مگر ایسی صورت میں ان کا ایڈجسٹمنٹ عبادت کا عمل نہ ہوگا، بلکہ وہ صرف موقع پرستی، یعنی expediency، کا ایک معاملہ ہوگا۔ یعنی وہی چیز جس کو شریعت کی زبان میں منافقت، یعنی hypocrisy، کہا جاتا ہے۔ اصول پسندی ایک اعلیٰ اخلاقی صفت ہے۔ اس کے مقابلے میں موقع پرستی ایک انتہائی بری صفت ہے۔
اس دنیا میں کسی آدمی کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب، یعنی option ہے: اخلاص یا منافقت۔ مخلصانہ زندگی میں منافقت کا کوئی مقام نہیں۔ اسی طرح منافقانہ زندگی میں اخلاص کا کوئی درجہ نہیں۔ دعوتی مشن واحد مشن ہے جو آدمی کو اس معاملے میں منافقانہ روش سے بچاتا ہے۔
دعوتی مشن آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ ربانی مشن کی خاطر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کرے۔ بظاہر اگرچہ داعی بھی ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ کرتا ہے، مگر اس کا ایڈجسٹمنٹ اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ مفاد کی بنیاد پر۔ یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اگر دعوتی مصلحت کی بنا پر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ نہ کریں تو انہیں ذاتی مصلحت کی بنا پر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑے گا۔
گویا کہ اگر وہ دوسروں کے درمیان مخلص بن کر نہ رہیں تو انہیں دوسروں کے درمیان منافق بن کر رہنا ہوگا۔ اور بلاشبہ منافقانہ زندگی سے زیادہ بری کوئی چیز اس دنیا میں نہیں۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 172۔