← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Sabr ka falsafa
Urdu · 11 min
صبر کا فلسفہ: پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات میں صبر، یعنی patience، کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن میں تقریباً 110 آیتیں ہیں جن میں صبر کے الفاظ کو استعمال کیا گیا ہے، یہاں تک کہ صبر ہی پر کامیابی کا مدار رکھا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ: "اے لوگو! صبر کرو تاکہ تم فلاح پاؤ"۔
سورہ نمبر 3، آیت 200۔ اسی طرح فرمایا کہ امامت یا لیڈرشپ میں کامیابی کا راز صبر ہے۔ السجدہ، سورہ نمبر 41، آیت 24۔ اسی حقیقت کو پیغمبرِ اسلام نے اپنی ایک لمبی حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا: "وَعَلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ" مسند احمد، حدیث نمبر 2803۔
یعنی جان لو کہ کامیابی صبر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے؛ صبر نہیں تو کامیابی نہیں۔ کامیابی کا درخت ہمیشہ صبر کی زمین پر اگتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا کے تمام pacifist یا peaceful activists اپنے نشانے کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس کا مشترک سبب یہ ہے کہ انہوں نے امن کو دریافت کیا، مگر وہ صبر کو دریافت نہ کر سکے۔
حالانکہ صابرانہ روش کے بغیر پرامن تحریک کو چلانا ممکن نہیں۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ لوگ کسی کو اپنا دشمن قرار دیتے ہیں، اور اس کے بعد peaceful activism کے اصول پر اس کے خلاف تحریک چلاتے ہیں۔ کسی گروہ کے مقابلے میں peaceful activism کے اصول پر تحریک چلانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے دل میں اس کے خلاف منفی جذبات نہ ہوں۔ اس کے مقابلے میں آپ مکمل طور پر مثبت نفسیات کے حامل ہوں۔
یہی واحد بنیاد ہے جس کے اوپر peaceful activism کی سرگرمیاں جاری ہو سکتی ہیں۔ مدمقابل گروہ کے لیے، آپ کے دل میں اگر مثبت جذبات نہ ہوں تو آپ کبھی اپنے پرامن مشن میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ عملاً یہ ہوتا ہے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کے مقابلے میں پرامن طریقہ کار کی بنیاد پر ایک تحریک اٹھاتا ہے، لیکن فریقِ ثانی کی مفروضہ یا غیر مفروضہ زیادتیوں کا احساس فریقِ اول کے خلاف اس کے دل میں نفرت ڈال دیتا ہے۔ یہ نفرت دھیرے دھیرے تشدد کی صورت اختیار کر لیتی ہے، اور اگر تشدد کے ذریعے مطلوب کامیابی نہ مل رہی ہو تو فریقِ اول کے دل میں فریقِ ثانی کے خلاف نفرت کا طوفان اس کو اس حد تک لے جاتا ہے کہ اس کے خلاف ہر ممکن تخریبی کارروائی شروع کر دے، یہاں تک کہ اس کو مٹانے کے لیے اس قسم کی بھیانک کارروائی کرنے لگے جس کو موجودہ زمانے میں خودکش بمباری یعنی suicide bombing کہا جاتا ہے۔
peaceful activism کے سلسلے میں یہ بات غالباً پوری تاریخ میں صرف پیغمبرِ اسلام کی زندگی میں ملتی ہے۔ دوسرے مصلحین کی طرح ان کو بھی فریقِ ثانی کی طرف سے سخت قسم کی زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر آپ نے کبھی ان کے خلاف نفرت کی زبان استعمال نہیں کی۔ اپنے ساتھیوں کو بھی آپ ہمیشہ نفرت کے احساس سے بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ آپ کی زندگی میں اس طرح کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔
مثال کے طور پر، مکے میں پیغمبرِ اسلام کے ساتھیوں کا ایک خاندان تھا جس کو آلِ یاسر کہا جاتا تھا۔ یہ ایک کمزور خاندان تھا، چنانچہ آپ کے طاقتور مخالفین نے انہیں مارنا پیٹنا شروع کیا اور کہا کہ پیغمبر کا ساتھ چھوڑ دو۔ پیغمبرِ اسلام نے اس منظر کو دیکھا تو آپ نے زیادتی کرنے والوں کے خلاف کوئی نفرت کا کلمہ نہیں کہا، بلکہ آپ نے ان سے صرف یہ فرمایا: "صَبْرًا يَا آلَ يَاسِر، فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةُ" مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 5646۔ یعنی: "اے آلِ یاسر!
صبر کرو، کیونکہ تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے۔ " جنت کو صبر کا انعام بتا کر آپ نے اپنے ساتھیوں کو اس کے لیے آمادہ کیا کہ وہ کسی بھی زیادتی پر مشتعل نہ ہوں۔ وہ کسی بھی حال میں فریقِ ثانی کے خلاف اپنے دل میں منفی جذبات کی پرورش نہ کریں۔ یہ پیغمبرِ اسلام کی پالیسی کا نہایت اہم پہلو تھا، جس کو آپ نے خدا کی رہنمائی کے مطابق اختیار کیا۔
یعنی مخالفین کی ہر زیادتی پر صبر کرنا۔ قرآن میں اس سلسلے میں واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ مثلاً قرآن میں پیغمبر کی زبان میں فرمایا: "وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آَيْتُمُونَ" سورہ نمبر 14، آیت 12۔ یعنی: "ہم تمہاری ایذاؤں پر صرف صبر ہی کریں گے۔
" یہ صبر کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ فریقِ ثانی کی ظالمانہ کارروائی کے باوجود مثبت سوچ پر قائم رہنا، اپنے آپ کو اس سے بچانا کہ اپنے ذہن میں فریقِ ثانی کی منفی تصویر بن جائے۔ کیونکہ فریقِ اول کے دل میں اگر فریقِ ثانی کی منفی تصویر بن جائے تو فریقِ اول کبھی فریقِ ثانی کے درمیان پرامن طریقہ کار کے اصول پر قائم نہیں رہ سکتا۔ صبر کا اصول فریقِ اول کو اس سے بچاتا ہے کہ اس کا ذہن فریقِ ثانی کے بارے میں غیر معتدل ہو جائے۔
پرامن طریقہ کار، یعنی peaceful activism، معتدل ذہن کا اظہار ہے۔ غیر معتدل یا منفی ذہن کبھی پرامن طریقہ کار کو کامیابی کے ساتھ جاری نہیں رکھ سکتا۔ صبر کا اصول دراصل اسی اعتدال یا مثبت مزاج کی برقراری کی ایک یقینی گارنٹی ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کے ساتھ مخاطب گروہ کی طرف سے مسلسل زیادتیاں کی گئیں، لیکن آپ ہمیشہ سختی کے ساتھ صبر کے اصول پر قائم رہے اور اپنے ساتھیوں کو اسی کی تلقین کی۔
آپ کی مجلسوں میں کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا کہ مخالفین کے ظلم کا چرچا کیا جائے۔ آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ مخالفین کے ظلم کے حوالے سے ان کے خلاف بد دعائیں کریں۔ اس کے برعکس، آپ ہمیشہ ظلم کرنے والوں کے خلاف اچھی دعا کرتے تھے۔ آپ نے اپنے مخالفوں کو کبھی کافر یا دشمن نہیں کہا، بلکہ ہمیشہ ان کے بارے میں "انسان" کا لفظ بولتے رہے۔
اس معاملے کی ایک انتہائی مثال یہ ہے کہ ایک بار آپ کے مخالفوں نے پتھر مار کر آپ کو زخمی کر دیا۔ اس وقت آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: "اللّٰهُمَّ اهدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ" شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 1375۔ یعنی: "خدایا! میری قوم کو ہدایت دے، کیونکہ وہ جانتے نہیں۔
" ایک طرفہ صبر اور خیرخواہی کا طریقہ، جو آپ نے عرب میں اختیار فرمایا، وہ اسی لیے تھا کہ فریقِ ثانی کے بارے میں آپ یا آپ کے ساتھیوں کے دل میں شکایت اور نفرت کی نفسیات پیدا نہ ہونے پائے۔ کیونکہ جو ذہن شکایت اور نفرت لیے ہوئے ہو، وہ اصلاح کا کام درست طور پر نہیں کر سکتا۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 153۔