Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sabr kya hai

Urdu · 3 min

صبر کیا ہے؟ دنیا کے خالق نے اس دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں صبر کے بغیر کوئی بڑا کام نہیں کیا جا سکتا۔ الفرقان، سورہ نمبر 25، آیت 20۔ صبر کیا ہے؟

صبر عمل کا الٹا نہیں ہے، بلکہ صبر عاجلانہ کارروائی کا الٹا ہے۔ صبر کے لفظی معنی ہیں رکنا۔ عربی میں کہتے ہیں: صبرتُ الدابةَ یعنی میں نے جانور کو چارے سے روک دیا۔ صبر انسان کے اندر اعتدال پیدا کرتا ہے۔

صبر انسان کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر اپنی طاقت کو ضائع کرے۔ صبر انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اختلاف کو ٹکراؤ تک نہ جانے دے۔ صبر متحدہ جدوجہد کی لازمی ضرورت ہے۔ صبر مایوسی کو امید میں تبدیل کرتا ہے۔

صبر آدمی کے اندر یہ پختگی، یعنی میچورٹی، پیدا کرتا ہے کہ جو چیزیں بدلنے کے قابل ہیں، ان کو وہ بدلے، اور ان چیزوں کے ساتھ وہ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ کرے جن کو وہ بدل نہیں سکتا۔ شریعت میں جس صبر کا حکم دیا گیا ہے، اس کی حقیقت اسی سے سمجھی جا سکتی ہے۔ قرآن میں مومن کی صفات میں سے ایک صفت یہ بتائی گئی ہے: والذين صَبَرُوا ابتغاءَ وجهِ ربهم سورہ نمبر 13، آیت 22۔ اور جو لوگ صبر کرتے ہیں اللہ کی رضا چاہنے کے لیے، دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ اصولی بنیاد پر صبر کرتے ہیں۔

جب آدمی کو ٹھیس لگے اور وہ اللہ کی رضا کی خاطر صبر کر لے، تو گویا اس نے اصولی بنیاد پر صبر کیا۔ مجبوری کے تحت تو ہر آدمی صبر کر لیتا ہے، مگر مومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ سوچے سمجھے فیصلے کے تحت اس لیے صبر کرتا ہے کہ یہی اس کے اصول کا تقاضا ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الصبر عند الصدمة الأولى صحیح البخاری، حدیث نمبر 1283۔ صبر وہ ہے جو ابتدائے صدمے کے وقت کیا جائے۔

تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 152۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.