← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Ghalati ka iateraaf
Urdu · 16 min
غلطی کا اعتراف: میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اگر کسی معاملے میں آپ دیکھیں کہ 99% غلطی فریقِ ثانی کی ہے اور صرف 1% غلطی آپ کی ہے، تب بھی آپ یہ مان لیجیے کہ ساری غلطی آپ ہی کی ہے۔ آپ کھلے طور پر فریقِ ثانی سے کہہ دیجیے کہ آپ صحیح ہیں، میں ہی غلطی پر تھا۔ You are right, I was wrong. اعتراف کی اس روش کا فائدہ صرف یہ نہیں ہے کہ نزاع فوری طور پر ختم ہو جاتی ہے، اس کا اس سے بھی زیادہ بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کی یہ روش آپ کے ذہنی اور روحانی ارتقاء میں مددگار بنتی ہے۔
میرے تجربے کے مطابق، معروف قسم کی متصوفانہ ورزشوں کا کوئی تعلق تزکیۂ روحانی سے نہیں۔ تزکیے کا سب سے بڑا ذریعہ اپنی غلطی کا کھلا اعتراف ہے۔ حضرت عمر کے اندر اپنی غلطی کے اعتراف کا مادہ اتنا زیادہ تھا کہ وہ مبالغہ آمیز طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرتے تھے۔ مثلاً وہ کہتے کہ لولا فلانٌ لَهلك عمر یعنی اگر فلاں شخص نہ ہوتا تو عمر ہلاک ہو جاتا۔
حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑا تزکیہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر حقیقی تواضع کی صفت پیدا ہو، اس کے اندر سے کبر کا مزاج نکل جائے۔ غلطی کے اعتراف کا مزاج آدمی کے اندر یہی اعلیٰ صفت پیدا کرتا ہے۔ تزکیے کا سب سے بڑا کورس یہی ہے۔ ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے خلیفہ دوم عمر فاروق کے ایک قول کا حوالہ دیا، بلکہ اس کے الفاظ یہ ہیں: إنه لا يصلح لهذا الأمر إلا قويٌّ في غير عنف، لينٌ في غير ضعف، جوادٌ في غير سرف، ممسكٌ في غير بخل.
الطبخات الکبریٰ، ابن سعد، جلد 6، صفحہ 330۔ یعنی اس کام کا اہل صرف وہی شخص ہے جو شدید ہو، بغیر اکڑ کے؛ نرم ہو، بغیر کمزوری کے؛ سخی ہو، بغیر فضول خرچی کے؛ مال روکنے والا ہو، بغیر بخل کے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کوئی بڑا کام کرنے کے لیے اہل صرف وہ شخص ہوتا ہے جو مجموعۂ تضادات، یعنی mixture of opposites، ہو۔ مثلاً نہایت اعلیٰ ذہن کا حامل ہونے کے باوجود وہ آخری حد تک متواضع، یعنی modest ہو۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عالمِ حقائق، یعنی universe of facts، اتنا زیادہ وسیع ہے کہ کبھی کوئی شخص اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ مگر حقائق کا ادراک کرنے کے لیے صرف اعلیٰ ذہن کافی نہیں، اسی کے ساتھ کامل تواضع لازمی طور پر ضروری ہے۔ کامل تواضع اس بات کی ضمانت ہے کہ اس کے لرننگ پروسیس پر کوئی فل اسٹاپ نہ آئے۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ کبر، تعلّم یعنی learning کے عمل کو روک دیتا ہے۔
اس کے برعکس، تواضع، تعلّم کے عمل کو مسلسل طور پر جاری رکھتا ہے۔ میں اپنے تجربے سے یہ سمجھتا ہوں کہ ذہنی ارتقاء کے لیے سب سے زیادہ ضروری شرط یہ ہے کہ آدمی ہر لمحہ یہ کہنے کے لیے تیار ہو کہ میں غلطی پر تھا۔ I was wrong. غلطی کو فوراً مان لینا آدمی کے علم میں اضافہ کرتا ہے۔
اس کے برعکس، جس آدمی کے اندر اپنی غلطی کو ماننے کا مزاج نہ ہو، وہ ذہنی جمود کا شکار ہو جائے گا۔ اس کے اندر ذہنی ارتقاء کا سفر کبھی جاری نہیں رہ سکتا۔ اعتراف کے ذریعے فکری ارتقاء کا جاری رہنا کوئی پراسرار بات نہیں، بلکہ وہ ایک معلوم بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کا دماغ مختلف معلومات کا جنگل ہوتا ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر آدمی confusion میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ صحیح اور غلط کو ایک دوسرے سے الگ الگ کر کے دیکھ نہیں پاتا۔ یہ چیز آخر کار آدمی کو تشقیق تک لے جاتی ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ جب بھی مطالعہ یا ڈسکشن کے درمیان آدمی پر یہ واضح ہو کہ اس کے دماغ میں فلاں بات جو پڑی ہوئی ہے، وہ غلط ہے، اس کو چاہیے کہ وہ اسی وقت کھلے طور پر اس کو مان لے کہ میں اس معاملے میں غلطی پر تھا۔
اسی کا نام اعتراف ہے۔ اس اعتراف کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے ذہن میں کرکشن اور تصحیح کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ایک غلط بات جو اس کے ذہن میں صحیح بات کی حیثیت سے موجود تھی، اب اس کا ذہن غلط مان کر اس کو غلطی کے خانے میں ڈال دیتا ہے، جبکہ اس سے پہلے وہ صحیح کے خانے میں پڑی ہوئی تھی۔ عام حالت میں یہ ہوتا ہے کہ صحیح آئٹم اور غلط آئٹم دونوں انسان کے دماغ میں ملے جلے رہتے ہیں۔
غلطی ماننے کا مزاج یہ کرتا ہے کہ جو بات صحیح ثابت نہ ہو، اس کو غلط کے خانے میں ڈالتا رہتا ہے۔ اس طرح وہ اس کنفیوژن سے باہر آ جاتا ہے کہ وہ صحیح اور غلط میں فرق نہ کرے، اور دونوں کو یکساں طور پر درست سمجھتا رہے۔ غلطی کو نہ ماننا کوئی سادہ بات نہیں۔ غلطی کو نہ ماننے کی نفسیات ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ آدمی اپنے کبر کے مزاج کو توڑنا نہیں چاہتا۔
کبر دوسرے لفظوں میں خود پسندی کا نام ہے۔ اپنی خود پسندی کی حفاظت میں آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ غلطی کا اعتراف نہیں کرتا۔ اس طرح فرضی طور پر وہ اپنے آپ کو اس جرم میں مبتلا رکھتا ہے کہ میں درست ہوں، میرے اندر کوئی غلطی نہیں۔ بظاہر آدمی اپنی اس خود پسندی کی حفاظت کر کے خوش ہو جاتا ہے۔
وہ سمجھتا ہے کہ میں نے اپنے آپ کو بچا لیا، حالانکہ وہ اپنے کو تباہی کے غار میں ڈال رہا ہوتا ہے۔ اپنے اس عمل کی اس کو یہ بھیانک قیمت دینی پڑتی ہے کہ اس کا علمی اور روحانی ارتقاء رک جائے، اور وہ معرفت کے اعلیٰ تجربے سے محروم ہو کر رہ جائے۔ معرفت تواضع کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ تواضع نہیں تو معرفت بھی نہیں۔
اور سچی تواضع کی علامت یہ ہے کہ آدمی کسی تحفظ ذہنی کے بغیر حق کا کھلا اعتراف کرے۔ وہ بے اعترافی کا تحمل نہ کر کے حق کے آگے ڈہ پڑے۔ جو شخص سچائی کا اعتراف نہیں کرتا، وہ عملاً اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ حق سے بلند ہے۔ سچائی اس دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے۔
ایک شخص کے سامنے جب سچی دلیل آئے اور وہ اس کو نظر انداز کر دے، تو گویا اس نے خدا کو نظر انداز کر دیا۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کے یہاں ابدی محرومی کے سوا اور کوئی انجام مقدر نہیں۔ قرآن میں آیا ہے: وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَّ الشَّكُورُ سورہ نمبر 34 آیت 13۔ یعنی میرے بندوں میں بہت کم ہیں جو شکر کرنے والے ہیں۔
شکر کیا ہے؟ شکر دراصل وہ چیز ہے جس کو اعتراف یعنی acknowledgement کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اعتراف سب سے بڑی عبادت ہے۔ ایک طرف خدا کی نعمتوں کا اعتراف اور دوسری طرف انسان کے مقابلے میں اعتراف۔
یہ دو چیزیں گویا دین کا خلاصہ ہیں۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ یا تو وہ اعتراف کے وقت اعتراف نہیں کرتے، یا دل سے تو مان لیتے ہیں مگر زبان سے بول کر وہ اپنی غلطی کا اعتراف ضروری نہیں سمجھتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ یہ سمجھنا کہ ہم نے دل سے تو مان لیا ہے، زبان سے بولنے کی کیا ضرورت؟
یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اعتراف نہیں ہے، بلکہ منافقت ہے۔ جب آدمی قلبی اعتراف کے باوجود زبان سے کھلے طور پر اس کا اظہار نہ کرے، تو یہ بے اعترافی ہی کی ایک صورت ہوتی ہے۔ کیونکہ بے اعترافی کا سبب یہ ہوتا ہے کہ آدمی دوسروں کے سامنے یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا کہ وہ اس معاملے میں بے خبر تھا۔ ٹھیک یہی نفسیات اس انسان کی ہوتی ہے جو دل میں محسوس کرنے کے باوجود زبان سے بول کر اس کا اظہار نہ کرے۔
یہ نہ بولنا بھی اسی لیے ہوتا ہے کہ آدمی اپنی پوزیشن کو بچانا چاہتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ دوسرے لوگ اس بات کو جان لیں کہ وہ اب تک بے خبری کا شکار تھا، یا اس سے کوئی غلطی ہو گئی ہے، یا اس نے ایسی کوئی غلطی کر دی جس کی اسے تصحیح کرنا چاہیے۔ آدمی جب معاملے کی وضاحت کے باوجود اعتراف نہیں کرتا، تو اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ ایسا کر کے وہ اپنی پوزیشن کو گھٹا لے گا۔ دوسرے کے مقابلے میں اس کی برتری باقی نہ رہے گی۔
یہ نفسیات مکمل طور پر شیطانی نفسیات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب شیطان کو حکم دیا کہ وہ آدم کے آگے جھکے، تو یہ اعتراف ہی کا ایک معاملہ تھا۔ مگر شیطان نے اس اعتراف سے انکار کیا۔ اس نے کہا کہ میں آدم سے برتر ہوں۔
أنا خير منه سورہ نمبر 7 آیت 12۔ جب بھی کوئی آدمی بے اعترافی کا مظاہرہ کرے، تو اس کا سبب یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی بڑائی کے احساس میں جی رہا ہوتا ہے۔ اپنی بڑائی کو باقی رکھنے کے لیے وہ اعتراف نہیں کرتا۔ حتیٰ کہ اگر اس کا دل یہ محسوس کر لے کہ اس معاملے میں میں غلطی پر ہوں، تب بھی وہ زبان سے اس کا اظہار نہیں کرنا چاہتا، تاکہ ظاہری طور پر اس کی پوزیشن برقرار رہے۔
اس کی پوزیشن پر کوئی حرف نہ آئے۔ یہ بلاشبہ بہت بڑی بھول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی سچائی کے لیے اپنے آپ کو جھٹ... حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی سچائی کے لیے اپنے آپ کو جھکا لے، اسی کو اس دنیا میں سرفرازی ملتی ہے۔
اور جو آدمی اپنے جھوٹے بچاؤ کے لیے کھلے اعتراف سے پرہیز کرے، وہ حقیقت کی نظر میں اپنے آپ کو نیچے گرا لیتا ہے۔ حتیٰ کہ خود اپنے ضمیر کے سامنے بھی وہ چھوٹا بن جاتا ہے۔ غلطی کا اعتراف ایک اعلیٰ درجے کی نیکی ہے۔ غلطی کا اعتراف دراصل اپنی تواضع کو ثابت شدہ بنانا ہے۔
جس شخص کے اندر غلطی کے اعتراف کا مزاج نہیں، وہ یقینی طور پر تواضع سے بھی خالی ہوگا۔ اور تواضع کے بغیر کسی کا ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ یا تو غلطی کا اعتراف نہیں کریں گے، یا اپنے دل کے اندر غلطی کو محسوس کر کے یہ سمجھیں گے کہ انہوں نے غلطی کا اعتراف کر لیا۔ حالانکہ غلطی کا ماننا وہی معتبر ہے۔
جبکہ آدمی زبان سے بول کر اس کا کھلا اقرار کرے، دل میں غلطی کو محسوس کرنا، اور زبان سے اس کا کھلا اعتراف نہ کرنا منافقت کی علامت ہے۔ ضمیر ہر انسان کے اندر ہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ منافق انسان بھی اپنے دل میں محسوس کرتا ہے کہ اس معاملے میں مجھ سے غلطی ہوئی، لیکن وہ زبان سے الفاظ کی صورت میں اس کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کے برعکس مومن کا طریقہ یہ ہے کہ جب اس کی غلطی اس پر واضح ہو جاتی ہے تو وہ فوراً کہہ اٹھتا ہے کہ میں نے غلطی کی۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر فاروق غلطی کے احساس کے بعد فوراً بول پڑتے تھے۔ مثلاً ایک بار انہوں نے کہا کہ أصابت امرأة وأخطأ عمر اور کل الناس أفقه منك يا عمر تفسیر القرطبی جلد 5 صفحہ 99۔ یعنی ایک عورت نے صحیح کہا اور عمر نے غلطی کی۔ اے عمر، ہر آدمی تجھ سے زیادہ جانتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دل میں غلطی کو محسوس کرنا، اور زبان سے بول کر اس کا اظہار نہ کرنا، منافقانہ روش ہے۔ اور دل میں غلطی کا احساس پیدا ہوتے ہی زبان سے بول کر لفظوں میں اس کا کھلا اعتراف کرنا مومنانہ روش ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 87۔