زحمت میں رحمت۔ ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے شیلے کا ذکر کیا اور کہا کہ پی بی شیلے، یعنی پرسی پیش شیلی، ایک برٹش شاعر تھا، وہ 1792 میں پیدا ہوا اور 1822 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا قول ہے کہ ہمارے سب سے زیادہ شیری نغمے وہ ہیں جو سب سے زیادہ پُردرد نغمے ہیں، "our sweetest songs are those that tell our saddest thoughts. " یہ کوئی سادہ بات نہیں، حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کو درد مند زندگی ملتی ہے، انہی کی زبان سے پرسوز کلام جاری ہوتا ہے۔
پُر راحت اور پُر مسرت زندگی گزارنے والے کبھی پرسوز کلام کی تخلیق نہیں کر سکتے۔ اسی حقیقت کو فانی بدایونی نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے: "زمانہ بر سرِ آزار تھا مگر فانی، تڑپ کے ہم نے بھی تڑپا دیا زمانے کو۔ " جب کسی انسان کو خدا پُردرد زندگی دے، تو یہ خدا کی طرف سے اس کے لیے ایک خاموش پیغام ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا اس انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو جگانا چاہتا ہے۔
خدا اس انسان کو انتہائی سنجیدہ انسان بنانا چاہتا ہے، یہ خدا کی منصوبہ بندی کا ایک حصہ ہے۔ ایسے انسان کو چاہیے کہ وہ خدا کے فیصلے پر راضی ہو اور انسانیت کی تعمیر کی راہ میں اپنا وہ حصہ ادا کرے جو اس سے مطلوب ہے، یعنی اپنے سنجیدہ کلام اور پُردرد پیغام کے ساتھ لوگوں کی رہنمائی۔ ایسا انسان گویا کہ خدا کی طرف سے ایک چنا ہوا انسان، یعنی chosen person، ہوتا ہے۔ اس کو خدا کی خصوصی رحمت کا ایک حصہ ملا ہوتا ہے۔
ایسی حالت میں اس کو چاہیے کہ وہ خدا کا شکر گزار بندہ بنے، وہ اپنے آپ کو احساسِ محرومی کے منفی جذبے سے بچائے، وہ مکمل طور پر مثبت نفسیات والا ایک انسان بنے، تاکہ وہ خدا کے بندوں کے درمیان وہ اصلاحی رول ادا کر سکے جو خدا نے اس کے لیے مقدر کیا ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 86۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.