Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Shukr ka ek item

Urdu · 3 min

شکر کا ایک آئٹم: ایک روایت کے مطابق پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إذا عطس أحدكم فليقل الحمد لله، وليقل له أخوه أو صاحبه: يرحمك الله». فإذا قال له: يرحمك الله، فليقل: يهديكم الله ويصلح بالكم. صحیح البخاری، حدیث نمبر 6224۔ یعنی: جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو وہ کہے: اللہ کا شکر ہے، اس وقت اس کا ساتھی یہ کہے: اللہ کی رحمت ہو تم پر۔

اس کے بعد چھینکنے والا کہے: اللہ تم کو ہدایت دے اور تمہارے حالات کو درست کر دے۔ چھینک آنے پر "الحمدللہ" کہنا محض کوئی رسمی بات نہیں؛ حقیقت یہ ہے کہ چھینک آنا شکر کا ایک آئٹم ہے۔ یہ بات ایک تازہ تحقیق سے علمی طور پر ثابت ہوئی ہے۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چھینک کوئی بری چیز نہیں، وہ فطرت کا ایک عمل ہے۔

چھینک سے جسم میں تازگی آتی ہے۔ Sneezing revives your body. A sneeze is your body's way of rebooting naturally, and patients with disorders of the nose such as sinusitis sneeze more often as they can't reboot easily. A new study said researchers from the University of Pennsylvania found that our nose is required to reboot by the pressure force of a sneeze.

The Times of India, New Delhi, August 2, 2012, page 15. اس سے معلوم ہوا کہ چھینک آنا کوئی سادہ بات نہیں؛ چھینک آنا بھی شکر کا ایک آئٹم ہے۔ ہر چھینک پورے جسم کو تازگی عطا کرتی ہے۔ مزید یہ کہ چھینک اللہ کی نعمتوں کی ایک یاد دہانی ہے۔

چھینک کے ذریعے ایک انسان اللہ کی ایک نعمت کو یاد کر کے جب اس پر شکر ادا کرتا ہے تو اس وقت اس کا ذہن بیدار ہو جاتا ہے۔ اس ذہنی بیداری کی بنا پر انسان کو شکر کے دوسرے آئٹم بھی یاد آنے لگتے ہیں۔ شکر کے ایک آئٹم پر شکر کر کے آدمی شکر کے دوسرے آئٹم پر بھی شکر کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 54۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.