Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Izafa-e-imaan

Urdu · 5 min

اضافہ ایمان: سائنسی اندازے کے مطابق سورج ہماری زمین سے تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور ہے۔ سورج ہماری زمین سے 130,000 گنا بڑا ہے۔ سورج زمین کی مانند ٹھوس نہیں ہے، بلکہ وہ پورا کا پورا ایک عظیم دہکتا ہوا شعلہ ہے۔ اس کی گرمی 11,000 ڈگری فارنہائٹ ہے۔

یہ گرمی اتنی زیادہ ہے کہ سخت ترین مادہ بھی اس میں پگھلے بغیر نہیں رہ سکتا۔ زمین اگر اس کے قریب کی جائے تو وہ 1 سیکنڈ سے بھی کم عرصے میں پگھل کر گیس بن جائے گی۔ سورج کیسے چمکتا ہے، اور کیسے اتنی بڑی مقدار میں وہ روشنی اور گرمی دے رہا ہے؟ قدیم خیال یہ تھا کہ سورج مسلسل جل رہا ہے، جیسے کوئی لکڑی یا کوئلہ جلتا ہے۔

مگر جب فلکیاتی تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ ہزاروں ملین سال سے اسی طرح روشن ہے، تو یہ خیال غلط ثابت ہو گیا۔ سورج میں اگر کوئی مادہ جل رہا ہوتا تو اب تک سورج بجھ چکا ہوتا، کیونکہ کوئی چیز اتنی زیادہ لمبی مدت تک جلتی ہوئی حالت میں نہیں رہ سکتی۔ اب سائنس دانوں کا نظریہ یہ ہے کہ سورج کی گرمی اسی قسم کے ایک عمل، یعنی پروسیس، کا نتیجہ ہے جو ایٹم بم کے اندر وقوع میں آتا ہے۔ یعنی سورج مادے کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔

یہ عمل جلنے سے مختلف ہے۔ جلنا مادے کو ایک صورت سے دوسری صورت میں تبدیل کرتا ہے، مگر جب مادے کو توانائی میں بدلا جائے تو بہت زیادہ توانائی صرف تھوڑے سے مادے کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ مادے کا ایک اونس اتنی زیادہ توانائی پیدا کر سکتا ہے جو 1 ملین ٹن سے زیادہ چٹان کو پگھلا دے۔ The sun changes matter into energy; this is different from burning.

Burning changes matter from one form to another. But when matter is changed into energy, very little matter is needed to produce a tremendous amount of energy. One ounce of matter could produce enough energy to melt more than a million tons of rock. کائنات میں اس قسم کی ان گنت نشانیاں پائی جاتی ہیں۔

یہ نشانیاں بتاتی ہیں کہ کائنات کے پیچھے ایک عظیم خالق کی ہستی کام کر رہی ہے۔ عظیم خالق کے بغیر کبھی اس قسم کی عظیم تخلیق ظہور میں نہیں آ سکتی۔ قرآن میں بار بار کائناتی نشانیوں پر غور کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ یہ غور و فکر ایک خالص دینی عمل ہے۔

وہ مومن کے ایمان میں غیر معمولی اضافے کا سبب بنتا ہے۔ وہ مومن کے شکر کے جذبے کو بے پناہ حد تک بڑھا دیتا ہے۔ تعمیر شخصیت: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 53۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.